کوئلے کے کوٹے میں سامنے آنیوالے اسکینڈل کے بعد سے بھارتی حکومت شدید تنقید کی زد میں ہے۔دنیا میں سب سے زیادہ کوئلہ پیدا کرنے والے ممالک میں بھارت بھی شامل ہے، تاہم حالیہ رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکومت نے نجی کمپنیوں کو سستے داموں کوئلے کی کانیں دے کر قومی خزانے کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔
حزب اختلاف کی جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ میں حکومت کے خلاف نعرے بازی کررہے ہیں، ان اراکین کو خاموش کرانے میں ناکامی کے بعد اسپیکر نے اجلاس ہی ملتوی کردیا۔
گزشتہ ماہ بھارت کی آڈیٹر جنرل اتھارٹی جسے سی اے جی میں کہا جاتا ہے نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ کوئلے کی سو سے زائد کانیں نجی کمپنیوں کو مناسب طریقہ کار کے بغیر فروخت کی گئی ہیں، جس کے باعث قومی خزانے کو 35 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔حزب اختلاف کی بڑی جماعت بی جے پی نے یہ اسکینڈل سامنے آنے پر وزیراعظم من موہن سنگھ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ ششما سوراج بی جے پی کی سنیئر رہنماءہیں۔
سوراج(female) “وزیراعظم اس اسکینڈل کی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے، وہ ہر چیز کے براہ راست ذمہ دار ہیں، ہمیں یقین ہے کہ آزادانہ تحقیقات سے ثابت ہوجائے گا کہ کوئلہ اسکینڈل میں قومی خزانے کو ہونے والے نقصان سے حکمران جماعت کانگریس نے بہت کچھ کمایا ہے”۔
تاہم وزیراعظم من موہن سنگھ کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں سامنے آنے والے انکشافات بے بنیاد ہیں۔ Sri Prakash Jasiwal، Coal Minister ہیں۔
جسوال(male)“ہم آڈیٹر جنرل اتھارٹی کی رپورٹ سے متفق نہیں۔ ان کا کام اکاﺅنٹس کے کھاتوں کو دیکھ کر رپورٹ بنانا ہے، جبکہ حکومت کا فرض ایک ارب بیس کروڑ افراد کے مفادات کا خیال رکھتے ہوئے ایسی پالیسیاں تیار کرنا ہے جو عوام کے حق میں ہوں”۔
TN Chaturvedi، سی اے جی کے سابق رکن ہیں، انکا کہنا ہے کہ رپورٹ میں اعلیٰ حکومتی عہدیداران کی کرپشن کو بے نقاب کیا گیا ہے۔
(male) TN Chaturvedi “سی اے جی نے تو بس اپنا کام کیا ہے، یہ ادارہ آئین کے تحت اپنا کام کرتا ہے، اور یہ بھارتی عوام کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے۔ یہ ادارہ ایک آئینہ ہے جس میں خرابیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے تاکہ حکومت بہتری کیلئے اقدامات کرے”۔
پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر پولیس اہلکار کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور اپوزیشن لیڈر کے چیمبرز کے باہر سینکڑوں افراد کو دھرنا دینے سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ پولیس کی جانب سے ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کے شیل بھی فائر کئے گئے۔ Arvinde Kejrival مظاہرین کے رہنماءہیں، ان کا تعلق انا ہزارے کی تحریک سے ہے۔
(male) Arvinde Kejrival “کانگریس پارٹی، بی جے پی اور دیگر جماعتیں اس کوئلہ اسکینڈل میں ملوث ہیں۔ یہ سب کرپٹ ہیں۔ آج پارلیمانی جمہوریت ختم ہوکر رہ گئی ہے کیونکہ کوئی بھی جماعت پارلیمنٹ کو معمول کے مطابق کام کرنے نہیں دے رہی۔ہم انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ ملک اب کرپشن کو مزید برداشت نہیں کرے گا”۔
پارلیمانی ڈیڈلاک کا جلد خاتمہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ Shoma Choudhary ہفت روزہ تہلکہ کی سیاسی ایڈیٹر ہیں۔
(female) Shoma Choudhary “حکمران جماعت اور بی جے پی کو انتہائی شدید تنقید کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے ملک میں بڑا سیاسی بحران ہوگیا ہے۔ جمہوریت میں ایسا ہوتا رہتا ہے ، اگر ہم اکھٹے ہوجائیں تو ان جماعتوں سے جان چھڑا سکتے ہیں، تاہم کیا ہر شخص اس کے لئے تیار ہے؟ ہمیں جمہوری نظام کو چلتے رہنا دینا چاہئے۔ میرے خیال میں آج لوگ غیرمطمئن ہیں، کیونکہ انہیں سمجھ نہیں آرہا ہے کہ وہ کانگریس کے ساتھ کھڑے ہو یا بی جے پی کے ساتھ”۔