Female’s Warden خواتین وارڈنز

 

پاکستان میںخواتین پولیس کی تعداد بہت کم ہے،اور ٹریفک وارڈنز کی تعداد تو آٹے میں نمک کے برابر ہے لیکن اس شعبے میں خواتین کی آمد ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ خواتین پر ہر شعبے کے آزادانہ انتخاب کے در وازے کھل چکے ہیں،یہ اور بات ہے کہ ابھی مکمل طور پر اس حوالے سے لوگوں کے ذہنوں کو تبدیل نہیں کیا جا سکا ہے،خواتین ٹریفک وارڈنز اپنے ساتھی مرد ٹریفک وارڈنز کے شانہ بشانہ ہر قسم کے حلاتا اور موسم میں اپنی زمہ داریاں نبھارہی ہیں،نسرین خواجہ ایک فرض شناس ٹریفک وارڈن ہیں،ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے جب اس شعبے کا انتخاب کیا تو والدین کے سواءکسی نے بھی ان کے اس فیصلے کو نہیں سراہا،

تہمینہ خلیل نے حال ہی میں ٹریفک پولیس وارڈن کے شعبے کا انتخاب کیا ہے،تہمینہ کہتی ہیں کہ خواتین ٹریفک پولیس وارڈنز کو لوگ اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے جس سے ان کو بہت دکھ ہوتا ہے،

خواتین کے لئے کسی بھی شعبے کا انتخاب کرتے ہوئے اپنے ارد گرد موجود لوگوں کی ذہنیت،اپنے رشتہ داروں کی پسند نا پسند ،معاشرتی ،ثقافتی اور مذہبی اقدار کا بھی بہت خیال رکھنا پڑتا ہے،اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے شبانہ شوکت کو ٹریفک وارڈن بننے کے بعد کن مسائل کا سامنا کرنا پڑا ،جانتے ہیں شبانہ شوکت سے،

ثریا توصیف گھر سے اپنی ڈیوٹی پر جانے کے لئے عبایا استعمال کرتی ہیں ،جبکہ دوران ڈیوٹی اپنے یونیفارم میں خدمات سر انجام دیتی ہیں،اس بارے میں ثریا کہتی ہیں،

ٹریفک وارڈنز کے والدین خصوصا مائیں اپنی بیٹیوں پر بہت اعتماد کرتی ہیں،ثریا توصیف کی والدہ کہتی ہیں کہ اگر بیٹیاں اچھی ہوں تو والدین کو اس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ وہ کس شعبوں کا بطور کیرئیر انتخاب کرتی ہیں،

اگرچہ خواتین ٹریفک وارڈنز نہایت محنت اور زمہ داری سے اپنی ڈیوٹی سر انجام دیتی ہیں،لیکن اس کے باوجود اب بھی معاشرے میں ان کو بطور ٹریفک پولیس وارڈن قبول نہیں کیا جاتا،

لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو خواتین ٹریفک وارڈنز کے کام کو سراہتے ہیں،

جبکہ کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ خواتین کے ٹریفک وارڈن کے شعبے میں آنے سے ایسی خواتین کا مورال بہت بلند ہوا ہے جو معاشرتی رویوں کے باعث اپنی گھر کی معاشی ذمہ داریاں ٹھیک طرح سے اٹھا نہیں پاتیں؛

ایسا نہیں ہے کہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے پاکستان میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی ،لیکن تبدیلی کا یہ عمل ابھی جاری ہے،،خواتین ہماری آبادی کا نصف سے زائد حصہ ہیں،اور اتنی بڑی افرادی قوت کا استعمال اگر مثبت طریقے سے کیا جائے تو پاکستان بہت جلد ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *