Barma Tourism- برمی سیاحت

ماضی میں قبائلی فسادات اور فوجی آمریت کے باعث سیاح اس ملک میں آنے سے گھبراتے تھے، تاہم اب اصلاحاتی عمل شروع ہونے کے بعد یہاں لوگوں کی آمد بڑھی ہے۔

برمی دارالحکومت رنگون کی گلیوں میں یا باگان کے مندروں کو دیکھتے ہوئے آپ کو غیرملکی سیاحوں کا ہجوم نظر آئے گا۔ اس سے قبل فوجی حکمرانی کے باعث غیرملکی برما آنے سے گھبراتے تھے، تاہم اب ایشیاءکے اس ملک کو دیکھنے کے لئے بے تاب ہیں۔ گزشتہ برس برما میں سیاحوں کی آمد میں دوگنا اضافہ ہوا،تاہم اس سے موجودہ ناقص اسٹرکچر پر بھی بوجھ بہت بڑھ گیا ہے۔ اس کے علاوہ رنگون میں ہوٹلوں کی کمی بھی ایک مسئلہ ہے اور جو موجود ہیں وہ بھی اس کے پڑوسی ممالک کے مقابلے میں بہت مہنگے ہیں۔ کِیی تھین ہو برمی ٹورازم فیڈریشن کے سیکرٹری ہیں۔
کیِی تھِین ہو” وزارت ہوٹلوں میں رہائش کیلئے جو بھی قیمت مقرر کردے، ہوٹل مالکان اپنے نقصانات کو مدنظر یا زیادہ کمائی کے لالچ میں انہیں بڑھا دیتے ہیں۔ درحقیقت ہم انہیں حکومتی قیمت پر عملدرآمد کیلئے مجبور نہیں کرسکتے، تاہم میں چیز کہنا چاہتا ہوں کہ ہوٹل مالکان کو سوچنا چاہئے کہ وہ جتنا کرایہ لے رہے ہیں اس حساب سے خدمات بھی فراہم کریں”۔
برما میں سیاحوں کیلئے ٹرانسپورٹ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، خصوصاً رنگون میں تو ٹریفک جام کا کوئی حساب ہی نہیں، Union of Myanmar Travel Association کے جنرل سیکرٹری U Tin Tun Aung کا کہنا ہے کہ برما میں بسوں اور پروازوں کے کرائے بھی بہت زیادہ ہیں۔
یُو تِن تُن اونگ” ایسے سیاح جو پہلے کبھی برما نہیں آئے، وہ یہاں چیزوں کی قیمتوں کے بارے میں زیادہ نہیں سوچتے اور انہیں مناسب تصور کرتے ہیں۔مگر جو لوگ پہلے بھی یہاں آچکے ہیں انہیں اندازہ بہت زیادہ قیمت کا احساس ہوجاتا ہے اور وہ سوچتے ہیں کہ رواں برس ان کا دورہ کتنا مہنگا ثابت ہوا ہے”۔
ہوٹل سیکٹر میں مسائل کے حل کیلئے نئی حکمت عملی پر کام ہورہا ہے۔ Kyi Thein Ho اس بارے میں بتارہے ہیں۔
کیِی تھِین ہو “اس وقت ہوٹلوں میں سیاحوں کی آمد کا انحصار ٹور ایجنسیوں پر ہے، ہم نے مقامی ہوٹل مالکان سے رہائشی قیمتیں یکساں رکھنے کی درخواست کی ہے، اس وقت رنگون اور دیگر مقامات پر مقامی افراد کے ہوٹلز موجود ہیں اور ہم نے ان پر یکساں قیمتیں مقرر کرنے پر زور دیا ہے۔ ہم نے ان ہوٹلز کو معیار بھی بہتر بنانے کی تجویز دی ہے تاکہ وہ غیرملکی سیاحوں کے لائق بن سکیں”۔

سیاحوں کی آمد میں اضافے کے ساتھ ہوٹلوں اور سیاحت کی صنعت میں مزید بہتر خدمات اور تربیت یافتہ عملے کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے، اسی کے مدنظر وزارت سیاحت نے تربیتی پروگرامز کا آغاز کیا ہے، اس کے علاوہ غیر رجسٹر ٹور گائیڈز بھی ایک مسئلہ ہیں۔ Daw Thanda ایک ٹور گائیڈ ہیں۔
داو تھندا “ اس وقت یہاں تین ہزار سے زائد لائسنس یافتہ ٹورگائیڈز موجود ہیں، جنھیں متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ وہ لوگ ہیں جو بغیر لائسنس کے ٹورگائیڈ کا کام کررہے ہیں، جس کی وجہ سے لائسنس رکھنے والے افراد بیروزگار ہوتے جارہے ہیں”۔
برما میں سیاحت کے وسیع مواقع موجود ہیں، یہاں کا معاشرہ اور قدرتی مناظر بہت خوبصورت ہے۔ تاہم ٹرانسپورٹ کی کمی کے باعث ایڈونچر کے شائقین کی آمد میں کمی کا خدشہ ہے۔U Tin Tun Aung اس بارے میں اظہار خیال کررہے ہیں۔
یُو تِن تُن اونگ “شمالی برمی علاقوں میں مناسب ٹرانسپورٹ سسٹم یا رہائشی سہولیات ہی موجود نہیں، وہ روزانہ پروازیں بھی نہیں ملتیں، مگر اس صورتحال میں بہتری ممکن ہے”۔
رواں سال دسمبر میں برما نے SEA Games کی میزبانی کرنی ہے، جس کے دوران ہزاروںسیاحوں کی آمد متوقع ہے۔ اس کیلئے حکومت ہوٹلوں، ٹیلی کمیونیکشن اور دیگر انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کی کوشش کررہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *