Indian Widows Still Struggling to Live – بھارتی بیواﺅں کو مشکلات کا سامنا

بھارتی قصبے ورنداوان کو بیواﺅں کا شہر بھی کہا جاتا ہے، یہاں انتہائی مشکل حالات میں بیس ہزار کے لگ بھگ بیوائیں مقیم ہیں، بھارتی سپریم کورٹ نے حال ہی میں حکومت کو ان بیوہ خواتین کا طرز زندگی بہتر بنانے کا حکم دیا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی رپورٹ

تراسی سالہ بیوہ خاتون میرا رانی نے ہمیں وہ کمرہ دکھایا جہاں وہ سولہ سال سے مقیم ہیں، یہ ایک چھوٹا سا کوٹھری جیسا گھر ہے جس میں کوئی کتا بھی آرام سے نہیں رہ سکتا۔

میرا”میں کیا کرسکتی ہوں؟ کوئی بھی میرا خیال نہیں کرتا، میرا کوئی خاندان نہیں، میں صرف بھگوان کو ہی جانتی ہوں اور وہی میرا خیال رکھتا ہے”۔

میرا کے شوہر کی وفات کے بعد بچوں نے انہیں گھر سے نکال دیا تھا، جس کے بعد وہ ورندوان چلی آئیں، یہاں پانچ ہزار کے قریب مندر ہیں کیونکہ ہندوﺅں کے خیال میں بھگوان کرشن یہاں پیدا ہوئے، اونچی ذات کی ہندو بیوائیں، جنھیں ان کے خاندان رکھنے سے انکار کردیتے ہیں، وہ یہاں گیسٹ ہاﺅسز، پناہ گاہوں یا دیگر جگہیوں پر مقیم ہوجاتی ہیں۔

یہ بیوائیں گزارے کے اخراجات کیلئے مندروں میں بھجن گاتی ہیں، 91 سالہ گنگا داسی ایک کمپاﺅنڈ میں دیگر چالیس خواتین کے ساتھ مقیم ہیں، یہاں روشنی نہ ہونے کے برابر ہے۔

گنگا”مجھے کچھ یاد نہیں، مجھے یہاں آئے کافی عرصہ ہوچکا ہے، کوئی بچیس سے چھبیس سال سے زائد عرصہ ہوچکا ہے، میری ایک بیٹی ہے اور اس کا نام ہے”

انہیں اپنی بیٹی کا نام بھی یاد نہیں، گنگا کی بیٹی ہیری ڈسی بھی بیوہ ہے۔

ہیری”آج کے بچے پیسے کمانے میں بہت زیادہ مصروف ہوگئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ گھر میں تنہا رہنے کی بجائے یہاں رہنا زیادہ بہتر ہے، بھگوان کا گھر میرے اپنے گھر سے زیادہ بہتر ہے، میرا کوئی بھائی نہیں اور ایک بیٹی کی حیثیت سے میں یہاں رہ کر اپنی ماں کی دیکھ بھال کرنا چاہتی وہں، میرے بیٹے نے مجھے کہہ دیا ہے کہ میں یہاں اس وقت تک رہوں جب تک مر نہ جاﺅ”۔

بھارتی ہندو قوم پرست خاندانوں میں اکثر بیواﺅں کو انکے شوہروں کی موت کا ذمہ دار قرار دیدیا جاتا ہے، جس کے بعد انکی معاشرتی زندگی ختم کردی جاتی ہے۔

ہیری دیسی ایک مقامی مندر میں تیس ڈالر ماہانہ کے عوض بھجن گاتی ہیں۔

ہیری دیسی”بارش سے میرا کمرہ تباہ ہوگیا ہے، اور ہمارے پاس پینے کے پانی تک رسائی کا کوئی ذریعہ بھی نہیں کیونکہ پائپ بھی ٹوٹ گیا ہے، میں نے تیس ڈالرز اس کی مرمت پر لگادیئے ہیں، میں نے وہ رقم بھی خرچ کردی جس سے میں اپنی والدہ کیلئے دودھ لیتی تھی”۔

کچھ فلاحی ادارے اور این جی اوز کی جانب سے ان بیواﺅں کی مدد کیلئے پروگرامز چلائے جارہے ہیں، انہیں تیکنیکی تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ روزگار حاصل کرسکیں۔ مقامی مخیر شخص بابا رام جی اور ان کی تنظیم اکشیا پترا کی جانب سے ان بیواﺅں کو گزشتہ دو برس سے دوپہر کو مفت کھانا اور ادویات فراہم کی جارہی ہیں۔

بابا رام جی” ورندوان میں موجود بیوائیں بھگوان کرشن کی مہمان ہیں، ان کی خدمت کرنا میرا فرض ہے، اگر میرے مہمان خوش ہوں گے تو بھگوان بھی خوش ہوں گے”

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان خواتین کو درپیش مسئلے سے آگاہ ہے، قومی خواتین کمیشن کے بقول اس نے اترپردیش حکومت پر زور دیا ہے کہ ان بیواﺅں کو صاف ستھرا ماحول اور مناسب خوراک فراہم کی جائے۔ ممتا شرما اس کمیشن کی سربراہ ہیں۔

ممتا”یہ خواتین مناسب پناہ گاہوں سے محروم ہیں، اور اگر کسی کے پاس ہے بھی تو بھی وہ انتہائی گندی جگہ ہوتی ہے جہاں نکاسی آب، پینے کے پانی اور خوراک وغیرہ تک رسائی نہیں ہوتی۔ بیوائیں اپنی بقاءکیلئے بھیک مانگنے پر مجبور ہوجاتی ہیں، ہم انکے روزگار کیلئے کاٹیج انڈسٹریز اور گھروں کی تعمیر کی کوشش کررہے ہیں تاکہ وہ وقار کیساتھ زندگی گزار سکیں”۔

گزشتہ سال بھارتی سپریم کورٹ نے اس حوالے سے حکومت کو حکم دیا تھا کہ ان بیواﺅں کے طرز زندگی کو بہتر بنایا جائے۔سرکاری ادارے نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی نے ان بیواﺅں کو شناختی کارڈ جاری کرنے کی تجویز دی ہے، تاہم ایک بیوہ خاتون موری دیسی کے مطابق حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی۔

موری”مجھے اب تک اپنا کارڈ یا پنشن نہیں ملی، سرکاری افسران کا کہنا ہے کہ ہم میں سے کچھ کو پنشن مل رہی ہے مگر ہمیں ابھی تک کچھ نہیں ملا، متعدد افسران یہاں آئے ہماری تصاویر لیں اور چلے گئے، مگر پھر کچھ بھی نہیں ہوا”۔