برما میں بدھ افراد کے مظالم کے باعث لاکھوں روہنگیامسلمان اپنے گھر بار چھوڑ کر دیگر ممالک جانے پر مجبور ہوگئے ہیں، جن میں سے اکثر کی منزل تھائی لینڈ ثابت ہوئی ہے۔ تاہم گزشتہ دنوں تھائی لینڈ کے ایک مرکز میں مقیم دو سو برمی مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا۔اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
عید کا دن ہے مگر تھائی لینڈ کے پنگ نگا امیگریشن سینٹر میں دو سو سے زائد برمی مسلمانوں نے اس موقع پر اپنے غصے کا اظہار کا فیصلہ کیا ہے۔
نو ماہ تک جنوبی تھائی لینڈ کے اس پرہجوم مرکز میں رہنے کے بعد ان لوگوں نے بغاوت کردی، انکا مطالبہ تھا کہ انہیں اس مرکز سے آزاد کردیا جائے اور کسی تیسرے ملک جانے کا موقع دیا جائے، تاہم اس مطالبے کو مسترد کردیا گیا اور ان افراد کو مقامی پولیس اسٹیشن میں بھیج دیا گیا۔ نیٹی خانبو ن اس مرکز کے ڈائریکٹر ہیں۔
نیٹی”ہم اتنی زیادہ تعداد میں افراد کی دیکھ بھال زیادہ وقت تک نہیں کرسکتے، ہمیں توقع ہے کہ موجودہ صورتحال سے تنگ یہ افراد مزید احتجاج کرسکتے ہیں”۔
جنوبی تھائی لینڈ میں اس وقت دو ہزار برمی مسلمان موجود ہیں، جنھیں عالمی دباﺅ کے تحت تھائی حکومت نے رواں برس جولائی تک پناہ دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
پرنیا بو رنٹریٹائی کل تھائی لینڈ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی عہدیدار ہیں۔
پرنیا”ہم نے تھائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کی بناید پر ان پناہ گزینوں کو بہتر سہولیات فراہم کرے، کیونکہ ان لوگوں نے کوئی جرم نہیں کیا، ہم چاہتے ہیں کہ تھائی حکومت اس معاملے میں یو این ایچ سی آر سے ملکر کام کرے، کیونکہ اقوام متحدہ کا ادارہ ہی انہیں سیاسی پناہ دلانے کا کام کرسکتا ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ یو این ایچ سی آر کو کوئی کام ہی نہیں کرنے دیا جارہا”۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک کھلے خط کے ذریعے تھائی حکومت سے ان مسلمانوں کو رہا کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے، تاہم تھائی
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے ہرممکن کوشش کررہے ہیں۔
نیٹی”برما ان افراد کو اپنا شہری ہی تسلیم نہیں کرتا، ہم انہیں بے دخل یا نظر انداز نہیں کرسکتے، اگر ہم انہیں جانے کی اجازت دیدیں تو وہ ہیومین ٹریفکننگ کا نشانہ بن سکتے ہیں، ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہم نے انہیں واپس بھیج دیا تو وہ زیادہ بڑے مسئلے کا شکار ہوسکتے ہیں”۔
روہنگیازمسلمان گزشتہ تیس برس سے تھائی لینڈ آرہے ہیں، تھائی دارالحکومت بینکاک میں ہزاروں برمی مسلمان چھوٹے موٹے کام کرتے نظر آتے ہیں، عبدل محمد کی عمر پچاس سال سے زائد ہوچکی ہے، وہ تیس برس قبل غیرقانونی طریقے سے تھائی لینڈ پہنچے تھے مگر اب انہیں قانونی اقلیتی حیثیت مل گئی ہے۔
عبدل”میں نے ایک تھائی خاتون سے شادی کی تھی مگر ماضی میں مجھے اکثر پکڑ کر تھائی برما سرحد پر بھیج دیا جاتا تھا، جہاں مجھے کئی ماہ گزارنے پڑتے تھے، جس کے باعث میری بیوی مجھے چھوڑ کر چلی گئی،اور اب میں اپنے تین بچوں کے ساتھ رہ رہا ہوں، متعددروہنگیا خاندان اسی طرح ٹوٹ گئے ہیں”۔
ان کے بچوں کو تھائی شہریت مل گئی مگر متعدد تھائی لینڈ میں پیدا ہونے والے متعدد روہنگیابچے شہریت کے حصول میں ناکام رہے ہیں۔
عبدل”تھائی حکومت کو ان بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع دینا چاہئے، انہیں بھی دیگر انسانوں کی طرح زندہ رہنے کا حق ہے”۔
شمالی شہر چینگ مئے میں طالبعلم برمی مسلمانوں کی حالت و زار پر ہونے والی ایک تصویری نمائش میں شریک ہیں، انیس سالہ میٹی نی ان میں شامل ہیں۔
میٹینی”یہ بہت خوفناک ہے، یہ پہلی بار ہے کہ مجھے برمی مسلمانوں کی قابل رحم حالت کو دیکھنے کا موقع ملا ہے”۔
یہ تصاویر تھائی فوٹو گرافر ستھیپ کرٹساناوارن نے چھ ممالک میں گھوم کر لی تھیں،جس کا مقصد برمی مسلمانوں کی حالت و زار سے دنیا کو آگاہ کرنا اور بدھ افراد کو بات چیت کیلئے تیار کرنا ہے۔
ستھیپ”اس مسئلے کا حل صرف بات چیت سے ہی ممکن ہے، ہر وقت ایک دوسرے کے پیچھے بھاگنا اور قتل و غارت کرنا ناممکن ہے، اس سے دونوں فریقین کو نقصان ہوتا ہے”۔