بھارتی پارلیمنٹ نے حال ہی میں اینٹی ریپ لاءکی منظوری دی ہے، جس کے تحت خواتین پر جنسی حملے کرنے کے مرتکب ملزمان کی سزاﺅں کو سخت کیا گیا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں ایک ر پورٹ۔
اینٹی ریپ لاءکی متفقہ طور پر منظوری دی گئی۔اسپیکر میرا کمار ووٹنگ کرارہی ہیں۔
کمار”بل کی منظوری کیلئے اب جو ارکان اس کے حق میں ہوں وہ Aye کہیں، اور جو مخالف ہوں وہ نہیں کی آواز لگائیں۔ میرے خیال میں سب نے متفقہ طور پر ایس کہا ہے، اس لئے اب اس بل کو منظور تصور کیا جائے گا”۔
اس بل کے ذریعے کسی کا پیچھا کرنے اور گھورنے کو بھی پہلی بار جرائم میں شامل کردیا گیا ہے۔ اس بل کی منظوری کے بعد اب عصمت دری کے مرتکب شخص کو عمر قید یعنی بیس سال قید کی سزا ہوسکے گی، جبکہ مخصوص حالات میں سزائے موت بھی دی جاسکتی ہے۔ اس نئے قانون کے تحت پولیس کو پابند کیا گیا ہے جب بھی اس کے پاس کسی حملے کی رپورٹ درج ہو وہ اسے فوجداری مقدمے کے طور پر درج کرے۔وزیر قانون ایشونی کمار اس بل کی منظوری کو تاریخی واقعہ قرار دے رہے ہیں۔
ایشونی کمار”میں بہت خوش ہوں کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے اس تاریخی فوجداری بل کو متفقہ طور پر منظور کیا، یہ قانون ہماری خواتین کے تحفظ اور ان کی عزت کو بچانے کے لئے تیار کیا گیا ہے، یہ قومی سطح پر چلنے والی تحریک کے بعد حکومت کا مثبت ردعمل ہے”۔
تاہم خواتین سماجی کارکن اس حوالے سے زیادہ پرجوش نہیں، سماجی کارکن فرح نقوی کا ماننا ہے کہ اس قانون کو مزید مضبوط بنایا جانا چاہئے تھا۔
فرح نقوی”ہم قانون میں ان چیزوں کا ہی مطالبہ کررہے ہیں جو جسٹس ورما کمیٹی نے تجویز کی تھیں۔ ہم جسٹس ورما کمیٹی کے سامنے پیش ہوئیں جو کہ تاریخی امر تھا۔ اس کمیٹی کی تجاویز میں خواتین تحریک کی دہائیوں کی محنت کا نچوڑ پیش کیا گیا تھا، یہی وجہ ہے کہ ہمیں اس رپورٹ کو سراہنا چاہئے اور اس سے ہماری تحریک کو نیا حوصلہ بھی ملا، یہی وجہ ہے کہ اس بل میں کئی تبدیلیاں دیکھ کر ہمیں مایوسی ہوئی”۔
پارلیمنٹ میں اس بل پر گرما گرم بحث کے دوران جنسی امتیاز کھل کر اس وقت سامنے آگیا، جب مرد اراکین نے بل میں موجود دلت ذات کے حوالے سے چند تجاویز کے خلاف ووٹ دیا۔شرد یادو جنتہ ڈال یو نائیٹڈ پارٹی کے صدر ہیں۔
شرد یادو”ہم سب انسان ہیں اور ہم سب کی اپنی اپنی فطرت ہے۔ آپ خواتین کے تعاقب کو ایک جرم بنانا چاہتے ہیں، مجھے بتائیں کہ ہم میں کون ایسا نہیں کرتا؟ ہم سب جانتے ہیں کہ کسی خاتون سے اظہار محبت آسان نہیں، وہ ہماری شادی کی پیشکش کو آسانی سے قبول نہیں کرتیں، آپ کو اس کے لئے کافی محنت کرنا پڑتی ہے، اس کے ارگرد رہ کر اسے احساس دلانا ہوتا ہے کہ آپ واقعی اس سے محبت کرتے ہیں۔ ایسا ملک بھر میں ہوتا ہے اور ہم سب اسی طرح کے جذبات کا اظہار کرتے ہیں”۔
خواتین اراکین نے اس پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس طرز فکر کو مسترد کردیا۔ سپریا سلوہ پارلیمنٹ میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی رکن ہیں۔
سپریا”میں یہاں ایک خاتون، ایک ماں اور ایک بیٹی کی حیثیت سے موجود ہوں۔ بہت کم مردوں نے اس بات کو محسوس کیا ہے کہ ہم یہاں مردوں کے حقوق پر بات کرنے کے لئے جمع نہیں ہوئے، ہم خواتین کے تحفظ پر بات کررہے ہیں، کیونکہ وہ بھی ان مردوں میں سے کسی کی بیوی، بیٹی یا مائیں ہوتی ہیں”۔
اس قانون کو گزشتہ برس دہلی اجتماعی زیادتی کے بعد قائم کئے گئے حکومتی کمیشن کی تجاویز پر مرتب کیا گیا ہے، تاہم اس میں کمیشن کے چند اہم نکات جیسے شوہر کی بیوی سے زیادتی کے حوالے سے تجاویز کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔گو پال سبرا مانیئم، جسٹس ورما کمیٹی کے ایک رکن تھے۔
گوپال”کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ نیپال میں سپریم کورٹ شوہر کو بیوی سے زیادتی پر معاف کردے۔سوئٹزرلینڈ میں بھی آپ کو اس معاملے میں کوئی استثنی حاصل نہیں ہوتا۔ جنوبی افریقہ اور تمام لاطینی امریکی ممالک میں اس کو جرم سمجھا جاتا ہے۔ کیا آپ مانے گے کہ بھارت اب بھی رجعت پسند ملک ہے؟ یہی وجہ ہے کہ ہم خواتین کے احترام و حقوق کی بحالی کے اقدامات کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں؟۔
اس معاملے نے احتجاجی مظاہرین کو بھی تقسیم کردیا ہے، رچی لتھڑا کا کہنا ہے کہ معاشرہ ابھی تک شوہر کی بیوی سے زیادتی کو اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں۔
رچی”اگر شوہر کی زیادتی کو قانونی طور پر عصمت دری سمجھا جائے تو میرے خیال میں آج 99 فیصد بھارتی مرد اس جرم کے مرتکب ثابت ہوجائیں گے، اور ہمیں اپنی قوم کو جیل میں بھیجنا پڑے گا۔ بھارتی مرد ازدواجی تعلق قائم کرنے کے لئے بیوی کی رضامندی کو اہمیت نہیں دیتے، وہ اسے اپنا حق سمجھتے ہیں، جو ایک عادت بن چکی ہے، اسے راتوں رات نہیں تبدیل کیا جاسکتا”۔
تاہم مظاہرین جیسے داران باسوکے خیال میں یہ خواتین پر تشدد کی چند بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔
باسو”اس قانون کا مسودہ تیار کرنے والے تمام افراد کا پس منظر لگ بھگ یکساں ہی ہے، ان کی ذہنیت ایک ہے اور وہ گھروں میں خواتین پر ہونے والے تشدد کو سمجھنے کے لئے تیار نہیں، حالانکہ بھارت کی ہر خاتون کو شوہر کی زیادتی کا سامنا ہوتا ہے۔ ہم کسی خاندان کو اس وقت تک خوش باش نہیں دیکھ سکتے جب تک بیوی خود کو اپنے شوہر کے ساتھ خوش نہ سمجھے”۔