کمبوڈین حکومت نے گارمنٹس ورکرز کیلئے کچھ عرصہ قبل کم از کم ماہانہ تنخواہ اسی ڈالرز مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم ورکرز کی جانب سے تنخواہ سو ڈالرز مقرر کئے جانے کا مطالبہ کررہا ہے،اس سلسلے میں ان کی مہم بھی جاری ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ۔
پینوم پین کے ضلع مینچے میں ایک چھوٹے کمرے کے باہر پانچ ورکرز کا ایک گروپ اپنے لئے دوپہر کا کھانا تیار کررہا ہے۔
اڑتیس سالہ سرے اون کو ایک ٹیکسٹائل فیکٹری میں کام کرتے ہوئے سات برس ہوچکے ہیں، بانسوں سے بنے ایک چھوٹے سے بستر پر بیٹھی ارے اون کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی بھی نئی تنخواہوں کے بارے میں معلوم ہوا ہے۔
سرے اون”میرے لئے یہ اضافہ بہت کم ہے، کیونکہ ہم لوگوں کو خوراک، پانی، بجلی اور گھر کے کرائے کے لئے کافی رقم کی ضرورت ہے، نئی تنخواہیں ہمارے اخراجات کیلئے ناکافی ہیں، میرے خیال میں سو ڈالرز مناسب تنخواہ ہے”۔
حکومت نے حال ہی میں کم از کم تنخواہ 61 ڈالر سے بڑھا کر 75 ڈالر کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ اضافی پانچ ڈالر طبی سہولیات کے نام پر دیئے جانے تھے۔ یہ اعلان حکومتی تجارتی ادارے اورے مزدوروں کی یونین کے درمیان مذاکرات کے بعد ہوا۔ وین سو لینگ ،گارمینٹس مینو فیکچررز کے صدر ہیں۔
وین سو”ہمارے خیال میں کم از کم تنخواہوں میں اضافہ مناسب فیصلہ ہے کیونکہ اس سے مزدوروں کا طرز زندگی بہتر ہوگا، اور ہم آسیان ممالک کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ یہ فیصلہ ٹریڈ یونین اور مالکان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد ہوا”۔
ایشیائی ممالک میں مناسب تنخواہوں کیلئے کام کرنے والے گروپ آسیہ فلور ویج الائنس کا کہنا ہے کہ تین سو ڈالر ماہانہ تنخواہ طرز زندگی میں بہتری لانے کے لئے مناسب ہے۔ کمبوڈین مزدور اتنی تنخواہیں بڑھانے کا مطالبہ تو نہیں کررہے، تاہم وہ چاہتے ہیں کہ کم از کم تنخواہ سو ڈالر تو ہو۔ رونگ چن کنفیڈریشن آف یو نیئن کے صدر ہیں۔
رونگ”اگر ہمارے درمیان کوئی معاہدہ نہ ہوسکا تو ہمارے پاس آخر راستہ پرامن احتجاج کا ہوگا۔ یہ احتجاج مئی میں عام انتخابات کے موقع پر ہوسکتا ہے”۔
تنخواہوں کا یہ معاملہ سیاسی جماعتوں کیلئے کافی حساس ہوچکا ہے، اپوزیشن نے تو ابھی سے ان گارمنٹس ورکرز کو کم ازکم ڈیڑھ سو ڈالر تنخواہ مقرر کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری کمبوڈین برآمدات میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کررہی ہے، اور اسی شعبے میں سب سے زیادہ لوگ بھی کام کررہے ہیں، تاہم وین سو لینگ کا کہنا ہے کہ مزدوروں کی ہڑتال سرمایہ کاری کے ماحول کو خراب کرسکتی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ انڈونیشیاءمیں بھی اسی طرح کے حالات کی وجہ سے کم ازکم دس کمپنیوں نے اپنے کاروبار بندکرکے دیگر ممالک کا رخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وین سو لینگ “متعدد فیکٹریاں بند ہوگئی ہیں یا بند ہونے والی ہیں، جبکہ دیگر فیکٹریوں یا کمپنیوں نے تنخواہ بڑھانے سے انکار کردیا ہے”۔
وین سو لینگ کو تشویش ہے کہ ایسا کمبوڈیا میں بھی ہوسکتا ہے، گزشتہ ہفتے حکومت نے فیکٹری مالکان، وزراءاور مزدور یونینز کے نمائندوں پر مشتمل ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا جو سالانہ بنیادوں پر تنخواہوں پر نظرثانی کرے گا۔ کمبوڈین یونیئنز کے صدر رونگ چن کا کہنا ہے کہ تنخواہوں میں اضافہ فیکٹری مالکان کو ملک چھوڑنے سے روکنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
رونگ چن”ورکرز کی تنخواہوں میں مناسب اضافے سے ہڑتال کا امکان کم ہوجائے گا اور مزدور پوری طاقت سے پروڈکشن کا کام کریں گے۔ ہمیں مقامی افرادی قوت کو ہی ترجیح دینی چاہئے اور غیرملکی تارکین وطن سے جان چھڑا لینی چاہئے”۔
اس وقت تھائی لینڈ میں گارمنٹس ورکر کی کم از کم تنخواہ دو سو ڈالر سے بھی زائد ہے، مزدور سرے اون کا کہنا ہے کہ اگر آمدنی میں اضافہ نہ ہوا تو سرحد کے اس پار چلی جائیں گی۔
سرے اون”میں نے تھائی لینڈ میں کام کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، کیونکہ وہاں تنخواہیں اچھی ہیں اور سونے کے لئے بھی جگہ فراہم کی جاتی ہے۔ اگر کمبوڈیا میں تنخواہ مزید بڑھ گئی تو میں کہیں اور نہیں جاﺅں گی، کیونکہ میں اپنے وطن میں ہی بچوں کی پرورش کرنا چاہتی ہوں”۔