چین نے حال ہی میں پاکستان کی اہم گوادربندرگاہ کا کنٹرول سنبھال لیا، بحیرہ عرب میں واقع اس بندرگاہ سے دنیا میں استعمال ہونے والے خام تیل کا تیس فیصد حصہ گزرتا ہے۔پاکستانی حکومت کو توقع ہے کہ بندرگاہ کو چین کے سپرد کئے جانے کے بعد بلوچستان میں مقامی نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع کھلیں گے۔ اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی آج کی رپورٹ۔
گوادر بندرگاہ کا پہلا مرحلہ ابھی مکمل نہیں ہوسکا ہے، جبکہ یہاں تک ابھی ریلوے نیٹ ورک بھی نہیں پہنچ سکا ہے اور ابھی ٹرکوں کے ذریعے ہی اشیاءکو دیگر شہروں میں بھجوایا جاسکتا ہے۔ ٹرک اسٹینڈ پر کچھ ڈرائیور چائے پینے مین مصروف ہیں۔ ٹرک ڈرائیور احمد بلوچ بندرگاہ کے منصوبے سے کافی توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں۔
احمد بلوچ”ہمیں امید ہے کہ ہمارا کام بڑھے گا، غریب مزدور جیسے میں بہت خوش ہیں، ہم پاکستان سے الگ نہیں ہونا چاہتے، بلکہ ہم اسی ملک سے جڑے رہنا چاہتے ہیں”۔
پاکستان کے سب سے بڑے انفراسٹرکچر پراجیکٹ سمجھے جانے والی گوادر بندرگاہ سیاسی طور پر انتہائی شورش زدہ صوبے میں واقع ہے۔ طویل عرصے سے بلوچستان میں تشدد کی شرح بڑھی ہے، مسلح علیحدگی پسند گروپس کی جانب سے گیس پائپ لائنز اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے عام ہیں۔
تاہم مقامی شہریوں کو گوادر بندرگاہ کے فوائد سے متعلق زیادہ معلومات حاصل نہیں۔ بلوچ ٹی وی کے نیوز ڈائریکٹر اویس بلوچ کا ماننا ہے کہ معلومات کی کمی کے باعث متعدد غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں۔
اویس بلوچ”بلوچستان کو طویل عرصے تک نظرانداز کیا جاتا رہا، تاہم اب حکومت کو یہ رویہ تبدیل کرنا چاہئے، لوگ فکر مند ہیں، انہیں حکومت پر اعتماد نہیں، تاہم اگر بندرگاہ کا منصوبہ وقت پر مکمل ہوگیا، تو لوگوں کو روزگار ملے گا اور یہ خطہ ترقی کرے گا”۔
چین اس منصوبے کیلئے زیادہ سرمایہ فراہم کرے گا، ابتدائی طور پر وہ تین سو ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کررہا ہے۔ سابق پورٹ ڈائریکٹر کیپٹن انور شاہ حکومت کی جانب سے انتظام چین کو سونپے جانے کے فیصلے کی حمایت کررہے ہیں۔
انور شاہ”ایک ماہر کی حیثیت سے میں اس بندرگاہ کو مغربی چین کے لئے انرجی کوریڈور کی حیثیت سے دیکھ رہا
ہوں، جبکہ چینی عوام کیلئے بھی یہ منصوبہ ان کے فائدے میں ہے۔ چین ساٹھ سے اسی فیصد تک خام تیل درآمد کرتا ہے، بھارت کی طرح چین کو بھی توانائی کی قلت کا سامنا ہے، اس خطے کے تمام ممالک توانائی کے بحران سے نکلنے کیلئے کوشاں ہیں”۔
یہ بندرگاہ مشرق وسطیٰ کی جانب پیشقدمی کیلئے چین کا پہلا قدم ہے۔ بلوچ قوم پرست رہنماءاس منصوبے کو اپنی زمین پر قبضے اور ان کی معدنی دولت ہتھیانے کا ذریعہ سمجھ رہے ہیں۔
لہری”فوج کے دباﺅ کے باعث اس بندرگاہ کو چین کو حوالے کیا گیا۔ جبکہ ایران سے گیس پائپ لانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ یہ ایک مصنوعی ریاست ہے فوج کب تک اس کا تحفظ کرسکے گی؟”
بندرگاہ کی تعمیر کے دوران اب تک مسلح افراد کے حملوں میں چھ چینی انجنئیرز ہلاک ہوچکے ہیں۔
ماضی میں چین نے سونے اور تانبے کے منصوبوں میں مدد فراہم کی مگر متعدد مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ اس سے علاقے کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ایک پراپرٹی کمپنی کے مالک اقبال احمد بلوچ کا کہنا ہے کہ لوگوں کو مزید ملازمتیں فراہم کئے جانے کی ضرورت ہے۔
اقبال احمد”میرے خیال میں تو چین ایک لالچی ملک ہے، وہ دیگر افراد کے مفادات کیلئے کام نہیں کرتا بلکہ وہ ہمیشہ اپنے مفاد کیلئے کام کرتا ہے۔ چین کو اپنا چہرہ بہتر بنانا چاہئے اور اسے دکھانا چاہئے کہ وہ اب ماضی کی طرح خراب مصنوعات برآمد کرنے والا ملک نہیں رہا”۔
ایک ٹرک ہیلپر واجا مجید کا کہنا ہے کہ کوئی بھی اس بندرگاہ کے منصوبے کے خلاف نہیں۔
واجہ مجید”ہم کام چاہتے ہیں تاکہ اپنے خاندانوں کیلئے پیسے کماسکیں”۔