بھارت میں گزشتہ دنوں کشمیری حریت پسند افضل گرو کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ یہ فیصلہ اتنا اچانک کیا گیا کہ افضل گرو کو بھی اس سے صرف چند گھنٹے پہلے ہی آگاہ کیا گیا، جبکہ ان کا خاندان کو اس بارے میں میڈیا سے پتا چلا۔اس پھانسی کے بعد کشمیر میں تشدد بڑھنے کا خدشہ سامنے آرہا ہے۔
نئی دہلی کے جنتر منتر چوک میں ہندو قوم پرست گروپ کے درجنوں کارکن کشمیری حریت پسند محمد افضل گرو کو پھانسی دیئے جانے پر خوشی منارہے ہیں۔ Jai Bhagwan Goyal اس گروپ کے رہنماءہیں۔ جے بھَوَن گویال” پوری قوم ہماری پارلیمنٹ پر حملے کرنے والے شخص کی سزا پر خوشی منارہی ہے۔ یہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے نو فوجیوں کو دیا جانے والا حقیقی خراج تحسین ہے جبکہ ان کے خاندانوں کو بھی اس سے کچھ تسکین ہوئی ہوگی۔ اس سے ان عناصر کو بھی سخت پیغام دیا گیا ہے جو بھارت کے خلاف منفی جذبات رکھتے ہیں”۔
افضل گرو کو نئی دہلی کی انسداد دہشتگردی عدالت نے 2002ءمیں پھانسی کی سزا سنائی تھی، جبکہ سپریم کورٹ نے بھی سزا برقرار رکھی تھی۔ رواں ماہ کے شروع میں صدر نے افضل گرو کی اہلیہ کی رحم کی درخواست بھی مسترد کردی۔ روی شنکر پرساد بی جے پی کے ترجمان ہیں۔ پرساد” افضل گرو کی سزا قانونی اور عدالتی عمل کا حصہ ہے جس پر جلد عملدرآمد ہوجانا چاہئے تھا۔ بھارتی پارلیمنٹ پر بارہ سال ہونیوالا حملہ بھارت پر حملہ تھا۔ اگر کوئی دہشتگرد پارلیمنٹ میں اپنی رائفل کیساتھ داخل ہونے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو سیاسی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کی زندگیاں خطرے میں پڑجاتیں۔سزا کے فیصلے پر عملدرآمد میں بہت تاخیر ضرور ہوئی مگر ایسا ہوگیا ہے”۔
تاہم ہر شخص اس رائے سے متفق نہیں۔
نئی دہلی میں خوشیوں کیساتھ پھانسی کی مذمت میں احتجاج بھی ہورہا ہے۔ مظاہرین کا ایک گروپ نعرے لگا رہا ہے، جن کے ہاتھوں میں بینرز میں لکھا ہے ہم سب افضل گرو ہیں، ہم میں سے کتنے افراد کو تم قتل کروگے؟ کویتا کرشنا All India Progressive Women’s Association کی سیکرٹری ہیں۔ کویتا” ہمیں اب تک حقیقت معلوم نہیں ہوسکی، عدالت کا کہنا ہے کہ ہم جانتے ہیں افضل حقیقی ماسٹر مائنڈ نہیں،
ہم جانتے ہیں کہ وہ ایک پیادہ تھا، تاہم اسے پھانسی ملنی چاہئے تھی کیونکہ ہمارے معاشرے کا اجتماعی مطالبہ تھا۔ میں خود کو اس فیصلے کا حصہ سمجھتی ہوں تاہم میرا یہ بھی ماننا ہے کہ کسی بھی شخص کو قوم یا اسکے اہلخانہ کو مطلع کئے بغیر پھانسی نہیں دی جانی چاہئے۔ اسے بیوی اور بچوں سے ملنے کا موقع دیا جانا چاہئے تھا، یہ ایک انتہائی غم انگیز دن ہے کیونکہ ایسا ایک جمہوری ملک میں ہوا ہے۔ ہم پارلیمنٹ پر حملے کے اصل حقائق جاننا چاہتے تھے مگر آج اس سچ کو دفن کردیا گیا”۔
افضل گرو کیخلاف مقدمہ بھارتی تاریخ میں متنازعہ ترین قرار پایا، انسانی حقوق کے کارکنوں اور قانونی ماہرین نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسے اپنے دفاع کا منصفانہ موقع فراہم نہیں کیا گیا۔ Sushil Kumar نامی ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ میں افضل گرو کی وکالت کی تھی۔ سُشِیل کُمار “ آپ نے اس شخص کو دیکھا ہوگا جسے حال ہی میں ممبئی حملوں کے جرم میں پھانسی دی گئی، ریاست کی جانب سے اسے ہر مرحلے پر اچھے وکلاءفراہم کئے گئے۔ اس کے مقابلے میں افضل گرو کے مقدمے میں ہر چیز ناقص نظر آتی ہے۔ سپریم کورٹ میں اس نے اپنے تمام وسائل خرچ کرکے میری خدمات حاصل کی، مگر ہائیکورٹ یا ماتحت عدلیہ میں صورتحال بہت زیادہ خراب نظر آتی ہے۔ اسے فیئر ٹرائل کا موقع ہی فراہم نہیں کیا گیا”۔
کشمیر میں شدید ردعمل کے پیش نظر حکومت نے افضل گرو کی تدفین دہلی کی تہاڑ جیل میں ہی کردی، جبکہ وادی کشمیر میں سخت کرفیو نافذ کردیا گیا، اس کے باوجود مظاہرین گھروں سے نکلے اور پولیس کی فائرنگ سے چار افراد جاں بحق ہوگئے۔ اس سے قبل 80ءکی دہائی میں بھی کشمیری حریت پسند رہنماءمقبول بٹ کو تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی تھی، جس کے بعد کشمیری نوجوانوں نے اسلحہ اٹھالیا تھا۔خرم پرویز Jammu and Kashmir Coalition of Civil Society سے تعلق رکھتے ہیں، انہیں ڈر ہے کہ افضل گرو کی پھانسی کا ردعمل اس سے بھی زیادہ شدید ہوسکتا ہے۔ خرم پرویز” جب مقبول بٹ کو پھانسی دی گئی تو پوری کشمیری نسل میں انتہاپسند سوچ جڑ پکڑ گئی اور عسکریت پسندی در آئی۔ اب ایک اور نسل کو اس دہانے پر پہنچا دیا گیا ہے، ان کے پاس کوئی راستہ نہیں چھوڑا گیا، سوائے اس کے کہ وہ زیادہ پرتشدد روئیے کا مظاہرہ کریں۔ان کے لئے پورا سیاسی منظرنامہ دم گھٹنے کا باعث بن رہا ہے”۔