Afghan waterافغان پانی
افغانستان میں لوگ صرف جنگ کا نشانہ نہیں بن رہے، آلودہ پانی ان کے لئے زیادہ جان لیوا ثابت ہورہا ہے۔ گزشتہ برس یونیسیف کا کہنا تھا کہ افغانستان کی صرف پچاس فیصد آبادی کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل تھی، جبکہ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق افغانستان میں دس فیصد بچے اپنی پانچویں سالگرہ منانے سے پہلے پیٹ کے امراض کے باعث ہلاک ہوجاتے
کابل کے ضلع Karte Sakhi میں اس وقت دوپہر کا وقت ہے۔ نوسالہ سعدیہ شدید سردی میں پانی کے حصول کے لئے قطار میں کھڑی ہوئی ہے۔
سعدیہ کا کہنا ہے کہ اس کے گھر میں کوئی اور ایسا شخص موجود نہیں جو پانی لینے آسکے۔ وہ اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ہمراہ چار ڈبوں میں پانی بھرنے کیلئے یہاں موجود ہے۔
سعدیہ کے ہمراہ سینکڑوں افراد قطار میں لگے پانی کے منتظر ہیں، اس ضلع کے چار ہزار سے زائد رہائشیوں کے لئے پانی کے صرف چار نلکے موجود ہیں، جن میں سے صرف دو کام کررہے ہیں۔ایک رہائشی عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ شدید سرد موسم نے صورتحال کو زیادہ بدتر کردیا ہے۔
عبدالقیوم(male)”پانی کے مسئلے کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ یہاں پانی کا صرف ایک نلکا ہے، اس سے پہلے یہاں دو نلکے کام کرتے تھے، مگر اب ایک نلکا برف کے باعث پھٹ گیا ہے۔اب واحد نلکے پر ہجوم بہت زیادہ ہے، ہر شخص یہاں سے پانی بھرنا چاہتا ہے۔ ہمارے ضلع کو اسی مسئلے کا سامنا ہے۔ میں یہاں صبح ساڑھے آٹھ بجے آیا تھا، مگر اب تک میں آدھی قطار بھی عبور نہیں کرسکا ہوں”۔
گزشتہ برس افغانستان نے عالمی برادری سے ایک سو چالیس ملین ڈالر کی اپیل کی تھی تاکہ وہ موسم سرما کے دوران لوگوں کو قحط سالی سے بچا سکے۔ قحط سالی کے باعث لوگ زیرزمین پانی کے حصول کیلئے انتہائی گہرائی میں کنویں کھودتے ہیں، مگر یہ پانی بہت آلودہ ہوتا ہے۔ Muhammad Naiem Tokhi وزارت معدنیات کے اہلکار ہیں۔
Muhammad Naiem Tokhi(male)”کابل کے زیرزمین پانی کے وسائل انتہائی آلودہ ہیں۔ کابل کے لوگ اپنا کچرا میدانوں میں دبا دیتے ہیں، جبکہ یہاں جگہ جگہ بارودی سرنگیں موجود ہیں، اس کے علاوہ یہاں پانی کی سپلائی لائن کا نظام بھی ناقص ہے، اور گندے پانی کی نکاسی ٹھیک طرح نہیں ہورہی، یہ وہ اسباب ہیں جو یہاں پانی کی آلودگی کا سبب بن رہے ہیں”۔
کابل کا زیرزمین پانی انتہائی آلودہ ہیں اور اس میں e-coli اور دیگر بیکٹیریا بھی موجود ہیں۔ حکومت کے مطابق ہر ہزار میں سے 97 بچے 5 سال کی عمر سے پہلے ہیضے کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں۔ ڈاکٹر Ghulam Sakhi Kargar Noor Oghli وزارت صحت کے ترجمان ہیں۔
Ghulam Sakhi Kargar Noor Oghli(male)”بدقسمتی سے افغانستان میں بچوں کی اموات کا سب سے بڑا سبب پینے کے صاف پانی تک رسائی نہ ہونا ہے۔ آلودہ پانی کے باعث بچے ہیضے اور دیگر جان لیوا امراض میں مبتلا ہو کر دنیا سے چل بستے ہیں”۔
ڈاکٹر محمد کاظم ہمایوں قومی ماحولیاتی ادارے کے مشیر ہیں۔
ہمایوں(male)”کیمیکل کھاد پانی کو آلودہ کرنے والے بڑے عناصر میں سے ایک ہے۔ ان کھادوں سے نائٹریٹ پیدا ہوتی ہے، جو زیرزمین پانی میں شامل ہونے کے بعد معدے کے کینسر اور دیگر امراض کا سبب بنتی ہے۔ جب گاڑیاں دھوئی جاتی ہیں، تو اس سے پانی میں تیل مل جاتا ہے، جوزیرزمین پانی کے ذخائر تک پہنچ کر دس لاکھ لیٹر پانی کو آلودہ کردیتا ہے”۔
کابل میں پانی کے بحران کو حل کرنے کیلئے حکومت نے دو آبی منصوبوں پر کام شروع کیا ہے۔Shahtoot اور Golbahar نامی یہ ڈیم کابل میں صاف پانی کی فراہمی کیلئے تعمیر کئے جارہے ہیں۔ سلطان محمود محمودی وزارت پانی و توانائی سے تعلق رکھتے ہیں۔
محمودی(male)” Shatoot ایک مختصر المدت منصوبہ ہے، جس سے کابل کے مغربی اور چند وسطی علاقوں کو پینے کا پانی فراہم کیا جائے گا، جبکہ گلبہار منصوبہ طویل المعیاد ہے، جس سے شہر کے باقی حصوں کو پانی کی سپلائی یقینی بنائی جائے گی۔ ہمیں توقع ہے کہ ان منصوبوں کیلئے ہمیں وزارت خزانہ اور غیر ملکی ڈونرز سے فنڈز مل سکیں گے، جب فنڈز مل جائیں گے تو ہم سب سے پہلے Shatoot پر کام شروع کریں گے”۔
فنڈز کے انتظار کے ساتھ ساتھ حکومت نے عوام میں پانی کی نکاسی کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنے کی میڈیا مہم بھی شروع کر دی ہے۔
Gholam Sakhi Kargar Noor Oghli اس میڈیا مہم کے بارے میں بتا رہے ہیں۔
Gholam Sakhi Kargar Noor Oghli(male)”لوگوں کیلئے صاف پانی کا استعمال ضروری ہے، ہم نے ان تک یہ پیغام پہنچانے کیلئے مساجد اور میڈیا کے ذریعے آگاہی مہم شروع کی ہے۔ ہم انہیں بتارہے ہیں کہ وہ آلودہ پانی استعمال نہ کریں۔ ہم انہیں مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ پانی میں کلورین ڈالیں اور اسے ابال کر استعمال کریں، اس طرح آلودگی کی شرح کم ہونے سے امراض نہیں پھیلے گے”۔
تاہم ایک شہری اسد کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ان کی جیب پر بھاری ہیں۔
اسد(male)”وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ ہم پانی میں کلورین ڈالیں اور اسے ابالیں، یہ موثر ضرور ہے مگر پانی کو ابالنا ہمارے لئے بہت مہنگا ہے، کیونکہ اس کے لئے ہمیں زیادہ لکڑی خریدنا پڑے گی۔ ہم لوگ بہت غریب ہیں، آخر ہم اس خرچے کیلئے رقم کہاں سے لائیں؟”
