روز مرہ استعمال میں آنے والی اشیاءکی بڑھتی ہوئی قیمتیں۔۔۔جسے عرف عام میں مہنگائی کا نام دیا جاتا ہے۔۔۔جو کسی عذاب کی صورت مردو خواتین دونوں کیلئے ہی پریشان کن ہے، بلکہ مردوں کی نسبت خواتین کیلئے مہنگائی ایک براہ راست چیلنج ہے، کیونکہ ہمارے معاشرے میں گھریلو اُمور کا ذمے دار عموماً خواتین کو تصور کیا جاتا ہے ،ایسے میں گھر کا بجٹ ترتیب دیتے ہوئے خواتین براہ راست مہنگائی کا مقابلہ کرتی ہیں۔۔۔لیکن کیسے؟
یہ سوال حل طلب ہے کہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والی ، ملازمت پیشہ ،گھریلو اور پورے خاندان کی اکیلے کفالت کرنے والی خواتین اس ہوش ربا مہنگائی کا مقابلہ آخر کس طرح کر رہی ہیں؟
اس سلسلے میں ملازمت پیشہ خاتون عالیہ کا کہنا ہے کہ خواتین کمیٹیاں وغیرہ ڈال کر تھوڑی بہت بچت کرنے کی کوشش کرتی ہیں:
اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین سالوں میں مہنگائی میں د گنا اضافہ ہوا ہے ،پاکستان میں وقفے وقفے سے مختلف اشیاءکا بحران دیکھنے میں آتا ہے جس کی ایک اہم وجہ ناجائز منافع خوری بھی سمجھی جاتی ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ خواتین کی جانب سے مختلف سماجی رجحانات دیکھنے میں آئے ہیں۔ خواتین کی بڑی تعداد اب ہفتہ وار بازاروں کا رُخ کرنے لگی ہے اسکے علاوہ گرم کپڑوں کی خریداری کیلئے لنڈا بازار کا رُخ کرنے والوں میں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین شامل ہیں، اس سلسلے میں پوش علاقوں اور اندرون شہر میں بڑے پیمانے پر لنڈا بازار لگتے ہیں جہاں قیمتیں دیگر مارکیٹس کی نسبت تقریباً آدھی ہیں۔مقامی ادارے میں کام کرنے والی در شہوار کا کہنا ہے :
ہول سیل مارکیٹس سے خریداری کرنے کے رجحان میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جسکی اہم وجہ ان مارکیٹس میں مختلف اشیاءکی قیمتوں میں نمایاں کمی ہے ،اس سلسلے میں میکرو میٹرو اور ہائپر مارکیٹس کی مقبولیت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیاہے۔بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث شادیوں میں ون ڈش کا رواج عام ہو رہا ہے دوسری جانب مڈل اور لوئر مڈل کلاس گھرانوں میں ملنے ملانے اور اجتماعی تقریبات منعقد کرنے کا رجحان کم ہو رہا ہے۔مختلف کمپنیاں اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ کیلئے سیل لگاتی رہتی ہیں جہاں خواتین بہت ذوق و شوق سے جاتی ہیں اسکے ساتھ ساتھBuy one get one freeقسم کی ڈیلز سے استفادہ حاصل کرنے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔گھریلو خاتون زینت کا کہنا ہے کہ اگر خواتین بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف متحد ہو جائیں تو مہنگائی پر قابو پایا جا سکتا ہے:
خواتین مختلف تدابیرکے ذریعے مہنگائی کا مقابلہ کرنے کی اپنی سی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن مہنگائی نام کا جن بوتل سے آزاد ہو کر ہماری زندگیوں کو معاشی و سماجی مسائل سے دوچار کر رہا ہے، ایسے میں مختلف اشیاءکی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ نہ صرف عوام کے ساتھ زیادتی ہے بلکہ عام آدمی کے ووٹ سے منتخب ہونے والے حکمرانوں کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے۔
