شمالی یورپ جسے اسکنڈے نیویا (Scandinavia) بھی کہا جاتا ہے، میں رہائش پذیر کسی بھی ایشیائی شخص سے Fried Rice Network کے بارے میں پوچھیں تو معلوم ہوگا کہ وہ اس کا رکن ہے۔ اسے خطے میں سب سے بڑا ایشیائی نیٹ ورک ہونے کا اعزاز حاصل ہے، اس آن لائن یا انٹرنیٹ کے نیٹ ورک کے تحت گزشتہ دنوں ایشیائی ملبوسات کا خوبصورت شو ہوا.
فیشن شو شروع ہونے میں ایک گھنٹہ باقی رہ گیا ہے اور اس وقت ماڈلز اپنی کیٹ واک کی تیاریوں کو آخری شکل دے رہی ہیں۔یہ رواں برس InspirAsian کے نام سے ہونیوالا 8 واں سالانہ شو ہے، جو سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم، ناروے کے شہر اوسلو اور ڈنمارک کے صدر مقام کوپن ہیگن میں بیک وقت شروع ہوگا، جس میں تمام ماڈلز ایشیائی شہری ہوں گے
۔اسٹیج کے پیچھے نوجوان لڑکے اپنے بالوں کو دو رنگوں میں رنگ رہے ہیں، جبکہ لڑکیاں اپنے جوتوں اور دیگر اشیاءڈھونڈنے میں مصروف ہیں۔ Vincent Tse فرائیڈ رائس نیٹ ورک کے بانیوں میں سے ایک ہیں۔وہ ان ماڈلز کو ہدایات دے رہے ہیں۔
(male) Vincent Tse “سب تیار ہوگئے، اگر ہاں تو ہمارے پاس ابھی مزید ریہرسل کیلئے وقت موجود ہے، تو آئیے ریہرسل دوبارہ شروع کرتے ہیں”۔
Vincent کی پیدائش سوئیڈن میں ہوئی تاہم ان کے والدین کا تعلق ہانگ کانگ سے ہے جہاں سے وہ تیس برس قبل اس یورپی ملک میں آئے تھے۔ Vincent اور ان کے دوستوں نے فرائیڈ رائس نیٹ ورک کو ایک آن لائن سماجی گروپ کی حیثیت سے شروع کیا تھا۔
(male) Vincent “درحقیقت ہم تین افراد فرائیڈ رائس کے بانی ہیں، ایک تو میں ہو، جبکہ Sevan Lam اور Dum Wing میرے دیگر شراکت دار ہیں۔ Dum Wing آج ڈنمارک میں اس شو کے انعقاد میں مصروف ہے۔Sevan Lum فرائیڈ رائس نیٹ ورک کے قیام سے پہلے بھی طویل عرصے سے اس طرح کے شوز کا انعقاد کا کام کرتا رہا ہے، جب وہ اسٹاک ہوم منتقل ہوا تو اس نے آن لائن سماجی رابطے کی ویب سائٹ کے قیام کا سوچا تاکہ لوگ ایک دوسرے سے زیادہ بہتر طریقے سے رابطے میں رہ سکیں، پھر میں اس کے ساتھ شامل ہوا اور اس طرح فرائیڈ رائس نیٹ ورک نے کام شروع کردیا”۔
آج اس نیٹ ورک کے شمالی یورپ میں پندرہ ہزار سے زائد رکن ہیں۔ فرائیڈ رائس کے تحت متعدد ایونٹس کا انعقاد ہوچکا ہے جن میں Miss Asia Scandinavia، ایشیائی میوزک کنسرٹ، فیشن شوز اور سماجی تقاریب وغیرہ قابل ذکر ہیں، Vincent بتارہے ہیں کہ اس نیٹ ورک کا نام اتنا عجیب کیوں ہے۔
(male) Vincent “یہ نام یعنی فرائیڈ رائس پورے ایشیاءکی عکاسی کرتا ہے، ایشیائی لوگوں کی ثقافت مختلف عناصر کا امتزاج ہے، ایشیائی لوگ مختلف ہوتے ہیں، اسی لئے ہم نے اس نیٹ ورک کو فرائیڈ رائس کا علامتی نام دیا”۔
اسٹیج کے پیچھے ماڈلز کپڑے، بال، میک اپ اور جوتے وغیرہ ٹھیک کرنے میں مصروف ہیں، یہ ماڈلز پیشہ ور نہیں، بلکہ وہ محض تفریح کیلئے اس ایونٹ کا حصہ بنے ہیں۔Errol Lim سنگاپور سے تعلق رکھتے ہیں، وہ انجنئیرنگ کی تعلیم کیلئے سوئیڈن میں موجود ہیں۔
(male) Errol Lim “میرے لئے تو فیشن بہت اہمیت رکھتا ہے، بلکہ میرے خیال میں تو یہ ہم سب کے لئے اپنی شناخت ظاہر کرنے کا راستہ ہے، ہم سب نے رنگارنگ ملبوساب زیب تن کر رکھے ہیں۔ اسٹاک ہوم واقعی ایک فیشن ایبل شہر ہے، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہاں لوگوں کی جرابیں بھی کتنی رنگارنگ ہوتی ہیں، یہاں تک کہ ان کی سائیکلیں بھی موسموں کے ساتھ ساتھ رنگ بدلتی ہیں، یہ انتہائی دلچسپ ہے”۔
شو شروع ہوچکا ہے اور لوگ 32 ماڈلز کی کیٹ واک دیکھ کر پاگل ہوئے جارہے ہیں۔ خواتین اونچی ہیلز کے جوتوں، مختلف ڈیزائن اور رنگوں کے ملبوسات کے ساتھ کیٹ واک میں مصروف ہیں، جبکہ لڑکے جینز کی پتلونوں اور ٹی شرٹس پہن کر اسٹیج پر اپنے جلوے بکھیر رہے ہیں۔
Errol چند ماہ بعد سنگاپور لوٹ جائیں گے، اسٹیج پر جانے سے پہلے وہ فرائیڈ رائس نیٹ ورک کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کررہے ہیں۔
(male) Errol “یہ ایک اچھا موقع ہے، فرائیڈ رائس نیٹ ورک اور InspirAsian جیسے ایونٹ میں شمولیت میرے لئے اپنے اندر موجود صلاحیتوں کو پہچاننے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔ میں نے اس میں شامل ہوکر کورین، ہانگ کانگ، چین اور دیگر ایشیائی ممالک کے رہائشیوں کو اپنا دوست بنایا ہے۔ یہ ہم سب کے لئے بہت اچھا تجربہ ثابت ہوا ہے”۔