بھارتی سرحدی حکام کے مطابق پاکستان سے چار سو سے زائد ہندو گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مذہبی یاترا کیلئے بھارت آچکے ہیں۔ان پاکستانی ہندوﺅں نے اپنے ملک میں اغوا، لوٹ مار اور دیگر مسائل کی شکایات کی ہیں، پاکستان کے اندر بھی ہندو برادری نے حکومت سے بہتر تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سمجھوتہ ایکسپریس پاکستان اور بھارت کے درمیان چلنے والی دو ٹرینوں میں سے ایک ہے۔ یہ ہفتے میں دو بار چلتی ہے اور یہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان سفر کا ایک اہم ذریعہ مانی جاتی ہے۔ اس ٹرین کے ذریعے ہر سال ہزاروں ہندو پاکستان سے بھارت اپنے مقدس مقامات کی یاترا کیلئے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس ٹرین کو دوستی کی ٹرین بھی کہا جاتا ہے۔
تاہم گزشتہ دنوں اس ٹرین سے آنے والے پاکستانی ہندو بہت سی خوفناک کہانیاں سنارہے ہیں۔ Mukesh Ahujah صوبہ سندھ میں ایک جنرل اسٹور چلاتے ہیں، تاہم اب وہ بھارت میں مستقل قیام کے خواہشمند ہیں۔
(male) Mukesh Ahujah “ہمیں وہاں متعدد مسائل کا سامنا ہے، ہمارے گھروں اور دکانوں کو دن دہاڑے لوٹا جارہا ہے، ڈاکو ہمارے گھروں اور دکانوں میں گھس جاتے ہیں، اور نقدی و زیورات لے جاتے ہیں۔ہمارے بچوں کو اسکولوں سے اغوا کیا جارہا ہے، میرے ایک رشتے دار کو حال ہی میں اغوا کیا گیا اور اس کی رہائی کے عوض اتنا بھاری تاوان طلب کیا گیا جو ہم ادا نہیں کرسکتے تھے، جس پر ہمیں دو مہینے بعد اس کی لاش ملی۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے اور لگتا ہے کہ آئندہ دنوں میں ہمیں خود کو بچانے کے لئے مذہب تبدیل کرنا پڑے گا”۔
Suman Kumari کا تعلق بھی صوبہ سندھ ہے، ان کا کہنا ہے کہ خواتین کے لئے صورتحال مردوں کے مقابلے میں زیادہ خراب ہے۔
(female) Suman Kumari “کراچی میں تو حالات بہت ہی خراب ہیں، وہاں خواتین مکمل طور پر غیرمحفوظ ہیں۔ انہیں اکثر ہدف بنایا جاتا ہے اور ہمیں بہت زیادہ تشدد کا سامنا ہوتا ہے۔ہم میں سے جو سرحد کے اس پار آجاتے ہیں ان حالات میں واپس جانے کے خواہشمند نہیں ہوتے”۔
انکا کہنا ہے کہ مزید ہندو خاندان بھی پاکستان چھوڑنا چاہتے ہیں، تاہم بھارتی حکومت زیادہ ویزے جاری نہیں کررہی۔ واضح رہے کہ پاکستان میں ستر لاکھ سے زائد ہندو آباد ہیں، تاہم گزشتہ پانچ برس کے دوران اغوا برائے تاوان، قتل اور دیگر مسائل کے سبب ہندو برادری میں عدم تحفظ بڑھا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک ہندو لڑکی نے اسلام قبول کرکے ایک مسلم لڑکے سے شادی کرلی، تاہم ہندو برادری کا ماننا ہے کہ اس لڑکی کو زبردستی اس کام کیلئے مجبور کیا گیا ۔
گزشتہ دنوں ایک ہندو لڑکے کو ایک پاکستانی چینیل پر براہ راست مذہب اسلام قبول کرتے ہوئے دکھایا گیا، اس لڑکے کا اصرار تھا کہ وہ اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کررہا ہے۔ Gopalapuram Parthasarthis پاکستان میں بھارت کے سفیر رہ چکے ہیں۔ انکا کہناہے کہ ہندوﺅں کو پاکستان میں شدید مذہبی تعصب کا سامنا ہے۔
(male) Gopalapuram Parthasarthis” 1951 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان میں ہندوﺅں کی آبادی مجموعی آبادی کا اکیس فیصد حصہ تھی، تاہم 1998ءکی مردم شماری میں یہ تناسب صرف 1.7 فیصد ر ہ گیا۔ یہ حقائق سب کچھ بتادیتے ہیں، تاہم اس کے قطع نظر حکومتی ریکارڈ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ سندھ میں ہر ماہ اوسطاً پچیس لڑکیوں کو زبردستی مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ میں 80ءکی دہائی میں سندھ میں تھا، اس وقت اس قسم کے واقعات نہیں ہوتے تھے۔ تاہم پاکستان میں انتہاپسندی بڑھنے کے سبب ان واقعات میں تیزی آئی ہے”۔
تاہم پاکستانی صحافی اور ممتاز اینکر پرسن حامد میر اس بات سے متفق نہیں۔
حامد میر(male) “مذہبی انتہاپسندی خیبرپختونخواہ اور پنجاب میں تو زیادہ ہے، مگر ان دونوں صوبوں میں ہندو اور سکھ امن و سکون سے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ قبائلی علا قے جو کہ طالبان کے مضبوط گڑھ بنے ہوئے ہیں، وہاں بھی ان اقلیتی برادریوں کو مسائل کا سامنا نہیں۔ ان برادریوں پر حملے سندھ اور بلوچستان میں ہوتے ہیں جہاں کے معاشرے زیادہ آزاد خیال اور سیکیولر سمجھے جاتے ہیں۔ صرف مذہبی انتہاپسند ہی نہیں بلکہ جرائم پیشہ عناصر بھی ان کو ہدف بناتے ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ ان علاقوں میں ہندو مالی طور پر زیادہ مستحکم، پڑھے لکھے اور کاروباری طور پر کامیاب ہیں”۔
دونوں ممالک کے قانون ساز اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بات کررہے ہیں، کچھ بھارتی اراکین پارلیمنٹ کا اصرار ہے کہ حکومت کو اس حوالے براہ راست پاکستان سے بات کرنی چاہئے، جبکہ پاکستانی صدر نے ہندوﺅں کی مشکلات کو جاننے کیلئے تین رکنی کمیشن تشکیل دیدیا ہے۔ بھارت کی اپوزیشن پارٹی بی جے پی نے بھی حکومت پر پاکستانی ہندوﺅں کو مزید معاونت کیلئے دباﺅ ڈالا ہے۔ Rajnath Singh بی جے پی کے سنیئر رہنماءہیں۔
(male) Rajnath Singh “بھارتی حکومت کو فوری طور پر بھارت میں موجود پاکستانی سفیر کو طلب کرکے پاکستان میں ہندوﺅں کے ساتھ سلوک پر اپنی تشویش اور ناراضگی کا اظہار کرنا چاہئے۔ حکومت کو دیگر ممالک سے بھی بات کرکے پاکستان پر عالمی دباﺅ ڈلوانا چاہئے تاکہ وہاں اقلیتیوں کے تحفظ اور سیکیورٹی کو یقینی بنایا جاسکے”۔
بھارتی حکومت نے اس حوالے سے تاحال کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا، تاہم حکمران جماعت کانگریس کے سنیئر رہنماءMani Shankar Aiyer کا کہنا ہے کہ بی جے پی اس معاملے کو فرقہ واریت کا رنگ دے رہی ہے۔ انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس مسئلے پر پاکستان اور بھارت کے تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔
(male) Mani Shankar Aiyer “وہ عناصر جو مطالبہ کررہے ہیں کہ پاکستانی ہندوﺅں کو سیاسی پناہ دی جائے وہی یہ مطالبہ بھی کررہے ہیں کہ بنگلہ دیشی مسلمانوں کو واپس بھیجا جائے۔ ہمیں اس معاملے کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دیکھنا چاہئے اور ہندو ہو یا مسلمان ان کا معاملہ اصولوں کے مطابق دیکھنا چاہئے۔ اگر ہم اسے فرقہ وارانہ رنگ دیں گے تو اس سے پاک
بھارت تعلقات متاثر ہوں گے، جبکہ اس سے دونوں ممالک کی اقلیتی برادریاں بھی متاثر ہوں گیں”۔