گزشتہ چند برسوں کے دوران تھائی لینڈ شدید سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا، جس کے دوران فوجی بغاوتوں کے ساتھ ساتھ بار بار حکومتیں تبدیل ہوئیں، جبکہ عوامی مظاہروں میں بھی شدت آئی۔ متعدد حلقوں کا ماننا ہے کہ تھائی عوام اس وقت خود کو زخم خوردہ تصور کررہے ہیں، اس مسئلے پر تھائی لینڈ میں چار ایمنسٹی بلوں پر غور کیا جارہا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
پیوم شمالی تھائی لینڈ کے شہر چینگ مائیی کی ایک مصروف سڑک پر کھانے پینے کی اشیاءفروخت کررہا ہے۔
پیوم یہ حقیقی نام نہیں، درحقیقت اس شخص نے سیکیورٹی وجوہات کی بناءپر اپنی شناخت چھپانے کی درخواست کی ہے۔ اسے حال ہی میں عارضی ضمانت پر رہائی ملی ہے اور وہ اس وقت سپریم کورٹ کے فیصلے کا منتظر ہے۔ اسے چھ سال قبل زرد اور سرخ پوشوں کے درمیان ہونے والے تصادم میں قتل کے الزام پر بارہ سال قید کی سزا ہوئی تھی، تاہم وہ خود کو بے گناہ قرار دیتا ہے۔ اب وہ عام زندگی گزار رہا ہے اور اپنے بیٹے کی پرورش کررہا ہے۔
پیوم”میں ہر ایک کو معاف کرسکتا ہوں، جب میں جیل سے باہر آیا تو میں نے خود سے وعدہ کیا کہ اب میں کبھی غصہ نہیں کروں گا یا کسی سے انتقام نہیں لوں گا۔ میں نے سب کو اپنے دل سے معاف کردیا ہے”۔
تھائی لینڈ میں اس وقت سیاسی جرائم کے مرتکب اور احتجاجی رہنماﺅں کو معافی دینے کے چار مجوزہ بلوں پر بحث ہورہی ہے، اس میں سے ایک بل کے تحت پیوم جیسے عام افراد کو معافی دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔اس بل کو حکمران جماعت Pheuپہیو تھائی پارٹی کے 42 اراکین پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔ رکن پارلیمنٹ تواٹچائی ہیما کا کہنا ہے کہ اس بل سے حکومتی مقبولیت بڑھے گی۔
ہیما”ان بل کی مدد سے ہم تمام تنازعات کو ختم کرنے کی مخلصانہ کوشش کررہے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ حکومت کو اس کی حمایت کرنی چاہئے کیونکہ ہمارے ملک کے مفاد میں ہیں”۔
چولا لونگ کورن یونیورسٹی کی پوانگ ٹونگ پاواکاپنان بلوں کی حمایت کیلئلے مہم چلارہی ہیں، انکا کہنا ہے کہ یہ تھائی معاشرے کو صحت مند کرنے کے لئے ضروری ہے۔
پوانگ ٹوانگ” 2010ءکے احتجاج کے بعد 1700 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے بیشتر بے گناہ تھا مگر وہ اب بھی جیل میں ہیں، جس کی یہ تھی کہ وہ ایمرجنسی کے دوران اپنے گھروں سے نکل آئے تھے یا ریلیوں میں شریک تھے۔ اب یہ سب سیاسی قیدی ہیں، بیشتر پر سنگین دہشتگردی کی دفعات عائد کی گئی ہیں، ان سب افراد کو اچھی زندگی گزارنے کے لئے معافی دیئے جانے کی ضرورت ہے”۔
تاہم تیردساک جیامکت وٹانااس بات سے اتفاق نہیں کرتے، ان کے والد 2007ءمیں ایک تصادم کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔انکا کہنا ہے کہ ذمہ داران کو ان کے جرائم کی سزا ملنی چاہئے۔
تیرڈاسک”اگر میں نے اپنے والد کو نہیں بھی کھویا ہوتا، تو بھی میں اس ایمنسٹی بل سے اتفاق نہیں کرتا۔ ہر شخص کو اس بل کو ماننے سے انکار کرنا چاہئے، یہ کسی پیارے کو کھونے کی بات نہیں بلکہ اصولوں کا معاملہ ہے”۔
تیر ڈاسک زرد پوش گروپ کے حامی ہیں، اسی گروپ کے باعث ملک میں فوجی بغاوت برپا ہوئی اور اس وقت کے وزیراعظم تھاکسن شنا وٹرا کو اقتدار سے نکال باہر کیا گیا تھا، تاہم اب اس ایمنسٹی بل سے تھاکسن کو جلاوطنی ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ یہی وجہ چیز جسے تیرڈساک دیکھنا نہیں چاہتے۔
تیرڈساک”حکومت کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر اس نے بل کو آگے بڑھایا تو ملک میں ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوجائے گا”۔
اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ پارٹی اور زرد پوش تحریک کے حامیوں نے ان بلوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے، وزیراعظم ینگلک شناوترایہ معاملہ پارلیمنٹ پر چھوڑنے کا عندیہ دے چکی ہیں۔سیاسی تجزیہ نگار نتھی ایوسریوونگ کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس ان بلوں کو قبول کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
نتھی”حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں، اسے سیاسی قیدیوں کو معافی دینے کی اکثریتی رائے کے مطالبے کی حمایت کرکے ملک میں حقیقی مصالحت کی جانب قدم اٹھانا ہوگا۔ انہیں اس حوالے سے عوام کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے”۔
تاہم عام عوام مزید تشدد کی لہر برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔
تیڈسک”ہمیں ماضی سے سبق سیکھنا چاہئے، ہر شخص کو یہ بات سمجھنا ہوگی، ہم ریلیاں نکال سکتے ہیں اور احتجاج کرسکتے ہیں، جس میں کوئی بھی شرکت کرسکتا ہے، تاہم اب بھی ماضی جیسی پرتشدد لڑائیاں لڑنے کے متحمل نہیں ہوسکتے، کیونکہ اس وقت ہر شخص ماضی کے زخموں سے چور ہے”۔