For Indian Farmers, the Grass is Greener in Georgia – جارجیا میں بھارتی کاشتکاروں کی آمد

اپنے گھروں سے ہزاروں میل دور بھارتی کاشتکاروں نے یورپی ملک جارجیا میں زرخیر زمینوں کو دریافت کرلیا ہے، جس کے بعد سے بھارتی پنجاب سے ہزاروں افراد نئی زندگی کے آغاز کیلئے وہاں منتقل ہوچکے ہیں۔ تاہم مقامی افراد ان نئے کاشتکاروں سے زیادہ خوش نہیں۔

درجنوں سکھ حضرات اپنی ہفتہ وار مذہبی عبادت کیلئے جارجیا کے دارالحکومت تبلسی کے ایک اپارٹمنٹ میں جمع ہیں، 42 سالہ رامندیپ سنگھ پلہان بھی ان میں شامل ہیں، وہ گزشتہ برس اس یورپی ملک آئے تھے۔

دھند سے چھپی ہوئی ایک صبح کو رامندیپ نے ہمیں اپنا فارم دکھایا۔

رامندیپ “ اس فارم کے پورے رقبے پر گندم کاشت کی گئی ہے”۔

یہ تین سو ایکڑ پر پھیلا ہوا فارم ہے، رامندیپ کو زرعی زمینیں سستی ملنے کا لالچ ہی جارجیا لایا تھا، اپنے ملک میں تو انہیں اتنی زمین پچاس گنا زیادہ مہنگی ملتی۔

رامندیپ “ ایک دن میں اخبار پڑھ رہا تھا تو میں نے ایک اشتہار دیکھا، جس میں جارجیا میں سرمایہ کاری کا لکھا تھا، اور بتایا گیا تھا کہ ایک ایکڑ زمین آٹھ سو سے ایک ہزار ڈالرز کی خریدی جاسکتی ہے۔ اس کے بعد میں ایک کمپنی کراون امیگریشن کو فون کیا، جنھوں نے مجھے بتایا کہ میں جارجیا میں زمین خرید سکتا ہوں”۔

کراون امیگریشن کا صدر دفتر بھارتی پنجاب کے شہر جالندھر میں ہے۔

جارجیا میں بھارتی شہریوں کی آمدم یں اضافے کے بعد اس کمپنی نے اپنا دفتر تبلسی میں بھی کھول لیا ہے، دھرم جیت سنگھ سیلانی اس کمپنی کے سربراہ ہیں۔

دھرم جیت” دو ہزار سے زائد کاشتکار بھارت سے مختلف کمپنیوں یا براہ راست جارجیا منتقل ہوچکے ہیں”۔

لاریسا میسو راڈز ایک گاﺅں سمگوری میں اپنے شوہر اور بچوں کے ہمراہ مقیم ہیں، ان کے گھر کے قریب ہی متعدد بھارتی شہریوں کے فارمز موجود ہیں۔

لاریسا میسو راڈز” جب میں نے پہلی بار انہیں دیکھا تو مجھے سمجھ نہیں آیا کہ یہ کیا ہورہا ہے، میں حیران اور پریشان تھی کہ آخر بھارتی شہری یہاں ٹریکٹرز کیوں چلارہے ہیں؟ میں ان کے ساتھ عزت سے پیش آئی اور انھوں نے مجھے آلو اور ٹماٹر مفت دیئے۔ میں نے کہا کہ آپ یہاں کام کررہے ہیں، میں یہ سبزیاں خرید لوں گی، جس پر انکا کہنا تھا کہ نہیں نہیں، ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں، ہم آپ کو خوش رکھنا چاہتے ہیں، اور اب صورتحال یہ ہے کہ وہ مجھے اپنی بہن سمجھتے ہیں، میرے بچوں کا حال احوال پوچھتے ہیں، یہ لوگ برے نہیں”۔

تاہم ہر کوئی ان نئے آنے والے سے خوش نہیں۔رائُل با دُنا شِوِلِی جارجین فارمز یونین کے صدر ہیں۔

رائُل با دُنا شِوِلِی” ماضی میں زراعت میں کوئی سرمایہ کاری نہیں ہوئی تھی، حکومت نے اس شعبے پر کوئی توجہ نہیں دی اور لگتا تھا کہ زراعت اس کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ یہی وجہ تھی کہ کاشتکاروں نے اپنی زمینیں انتہائی سستے داموں فروخت کرنا شروع کردیں۔پھر یہ غیرملکی سرمایہ کار آئے، میں خصوصی طور پر جارجیا آنے والے بھارتی شہریوں کی بات کررہا ہوں، جنھوں نے یہ سستی زمینیں خریدنا شروع کردیں”۔

انکا کہنا ہے کہ حکومتی معاونت نہ ہونے کے باعث مقامی کاشتکاروں کو اپنے ہی ملک میں بھارتیوں سے نامنصفانہ مقابلے کا سامنا ہے،جارجیا کے وزیر زراعت ڈیوڈ کِروالزڈنے اعتراف کیا ہے کہ ماضی میں حکومت نے مقامی کاشتکاروں کی زیادہ مدد نہیں کی۔

ڈیوڈ کِروالزڈ” طویل عرصے تک زراعت ہمارے خاندان میں ایک سیاہ بھیڑ جیسی سمجھی جاتی رہی، اس کی مختلف وجوہات ہیں، تاہم اب ہم اس شعبے پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، حکومت اب کاشتکاروں کو مکمل تعاون فراہم کررہی ہے، اور اس مقصد کے لئے ان کے لئے انتہائی موزوں ماحول فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے تاکہ جو لوگ زرعی شعبے میں آنا چاہتے ان کی حوصلہ افزائی ہو”۔

حکومتی کا منصوبہ ہے کہ مقامی زرعی پیداوار میں اضافہ کرکے خوراک کے شعبے میں خودانحصاری حاصل کی جاسکے۔رواں برس جنوری میں حکومت نے زرعی ترقی کیلئے چھ سو ملین ڈالرز کا فنڈ متعارف کرایا، جبکہ غیرملکی سرمایہ کار جیسے بھارتی کاشتکاروں کو ہمیشہ خوش آمدید کہا جاتا ہے۔

جیسے جیسے جارجیا میں بھارتی برادری بڑھ رہی ہے یہاں بھارتی کمپنیوں کو بھی نئے مواقعے ملنا شروع ہوگئے ہیں، کراون امیگریشن نے جارجیا میں مزید دفاتر کھولنے جبکہ پنجاب میں روسی زبان کے اسکول وغیرہ کھولنے کے منصوبے بنانا شروع کردیئے ہیں، جبکہ تبلسی کے نواح میں ایک نیا بھارتی ہوٹل اور ریستواران کھل گیا ہے۔

ہریانہ سے تعلق رکھنے والے رنجوت سنگھ اس ریستوران کے مالک ہیں۔

رنجوت سنگھ” جب بھارتی شہری یہاں آنا شروع ہوئے تو انہیں مختلف رکاوٹوں کا سامنا ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے یہاں ہوٹل اور ریستوران کھولا، تاکہ یہاں آنے والوں کو زبان کی مشکل کا سامنا نہ ہو، ہمارے پاس رہائش کیلئے کمرے بھی ہیں، ہمارے پاس بھارتیوں کیلئے ہر چیز موجود ہے”۔

ریستوران کے افتتاح کے موقع پر وہ پنجابی صارفین کے کچھاکھچ بھرا ہوا تھا، جن میںرامندیپ شامل تھے، انکا کہنا ہے کہ وہ بھارت اور وہاں کے کھانوں کو بہت یاد کرتے ہیں۔
رامندیپ” مکئی کی روٹی اور سرسوں کا ساگ”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *