Downhill Biking – A Big Hit in Burma – ڈاﺅن ہل بائیکنگ ، برما میں مقبول

یہ بہت تیز، خطرناک اور پہاڑوں پر ہونے والی ریس ہے، برما کے نوجوانوں میں یہ کھیل تیزی سے مقبولیت اختیار کررہا ہے، گزشتہ برس برمی ٹیم نے اس کھیل میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اب وہ اسے ساﺅتھ ایسٹ ایشین گیمز میں دوہرانے کیلئے پرعزم ہے۔

پہاڑوں سے نیچے اترنے والی ماﺅنٹین بائیک کی ریس بہت خطرناک اور انتہائی تیزرفتار ہوتی ہے۔ گزشتہ برس یہ کھیل برما میں متعارف کرایا گیا تھا اور یہ نوجوانوں میں بہت مقبول ہوچکا ہے۔ وسطی برما کی منڈالے پہاڑی اس کھیل کیلئے مرکزی مقام بن چکا ہے، ایک سائیکلنگ گروپ منڈالے فری رائیڈرز اس کھیل کو قومی توجہ بنانے میں کامیاب ہوا ہے۔رواں برس دسمبر میں برما میں ساﺅتھ ایسٹ ایشین گیمز کا انعقاد ہورہا ہے اور ان میں پہاڑوں سے نیچے اترنے والی ریس کو بھی رکھا گیا ہے۔اونگ ون تن کا تعلق میانمار فری رائیڈرز نامی گروپ سے ہے۔

اونگ ون” یہ کھیل 27 ویں ساﺅتھ ایسٹ ایشین گیمز میں شامل ہوگا، اسی لئے ہم مشکل راہ گزر پر مشق کررہے ہیں، اگرچہ ہم سات یا آٹھ برس اس طرح کے کھیل کھیلتے رہے ہیں، مگر کسی بڑے ٹورنامنٹ میں شامل ہونے کا یہ ہمارا پہلا موقع ہے”۔

اس ریس کے لئے ٹریک مشکل پہاڑی مقامات پر بنایا جاتا ہے، جو بہت تیز اور خطرناک ہوتا ہے۔ تاہم گیمز کیلئے اس ٹریک کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالا جاتا ہے۔

اونگ ون” بغیر تربیت کے اس طرح کی پہاڑیوں سے تیزرفتاری سے نیچے جانا ناممکن ہوتا ہے۔ ہم شاہراﺅں کو دوبارہ ڈیزائن کررہے ہیں تاکہ ہم انہیں پہاڑی راستوں جیسا بناسکے۔ اگر ہم اپنی مشکلات پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئے تو ان گیمز میں اس کھیل کو شامل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے”۔

منڈالے فری رائیڈرز ایوینٹ میں پیشہ ور اور نوآموز افراد شریف ہیں، اون ون کا کہنا ہے کہ اب تک دس افراد زخمی ہوچکے ہیں، جن میں سے دو کو ہسپتال لیکر جانا پڑا ہے۔ اب اس گروپ کے تحت اگلا ایونٹ چنگ مائی چیلنج ڈاون ہل ہوگا، برما میں یہ اس طرز کا پہلا بین الاقوامی ایونٹ ہوگا جس میں مقامی و غیرملکی کھلاڑی شریک ہوں گے، تاہم KoSai کیلئے تو یہ ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوگیا ہے۔

کو سائی “ میں اب تک اپی نئی سائیکل کے ساتھ مطابقت پیدا نہیں کرسکا، کیونکہ اس میں دو بار تبدیلی ہوچکی ہے، اب اگر میں گیمز میں حصہ لوں گا تو سائیکل کے اچھلنے کے بعد میں خود پیچھے جاگروں گا”۔

تاہم ان کے ساتھی اونگ ون تُن پوری طرح تیار ہیں، مگر انکا کہنا ہے کہ ان مقابلوں میں رفتار بہت زیادہ نہیں رکھی جاتی۔

اونگ ون” منڈالے میں ہونے والے مقابلوں میں سائیکلوں کی رفتار بہت زیادہ تیز نہیں ہوتی، مگر اب نئے مقام پر جو مقامات مقابلے میں رکھے گئے ہیں وہ بہت تیز رفتار اور ہم ان سے واقف نہیں۔ ہم اتنی زیادہ رفتار کے عادی نہیں یہی وجہ ہے کہ ہم خوفزدہ ہیں”۔

اونگ ون برمی کھلاڑیوں کو بین الاقوامی ایونٹس میں موقع نہ ملنے پر مایوسی کا اظہار کررہے ہیں۔

اونگ ون” اس خطے میں صرف برما ایسا ملک ہے جو اپنے کھلاڑی کو خطے کی سطح پر ہونے والی پہاڑی سائیکل ریسوں میں نہیں بھیجتا۔ یہی وجہ ہے کہ اب کوئی بھی ہم پر اعتبار کرنے کے لئے تیار نہیں، اور جب ہم کہتے ہیں کہ ہمارا تعلق برما سے ہے تو وہ حیران رہ جاتے ہیں۔ یہ غیرملکی کھلاڑی پہلے کبھی کسی برمی شہری سے نہیں ملے اور انہیں معلوم بھی نہیں تھا کہ ہم بھی ان مقابلوں میں حصہ لے سکتے ہیں”۔

اگرچہ برما میں یہ کھیل نیا ہے تاہم اس کے پڑوسی ملک تھائی لینڈ میں ایک دہائی سے یہ کھیل کھیلا جارہا ہے، اور برمی کھلاڑی ان کے سامنے خود کو کمزور سمجھ رہے ہیں۔

اونگ ون” تھائی لینڈ میں چار سال کی عمر سے بچوں کو اس کھیل کی تربیت دی جاتی ہے اور آٹھ سال کی عمر تک وہ کافی ماہر ہوچکے ہوتے ہیں۔ ہم ان لوگوں کا مقابلہ بہت مشکل سے ہی کرسکتے ہیں، ہماری عمریں تیس سال کے لگ بھگ ہیں، ہمارے لئے بہتر ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو شروع سے ہی اس کھیل کی تربیت فراہم کریں”۔

رواں برس برمی ایتھلیٹس پہلی بار خطے کی سطح پر ہونے والی گیمز میں پہاڑی سائیکلنگ ریس میں شرکت کریں گے۔

اونگ ون” ہمارے گروپ منڈالے فری رائیڈرزسے سولہ جبکہ دیگر چار افراد کا ان مقابلوں کے لئے انتخاب کیا گیا ہے”۔

ایک کھلاڑی اس بارے میں اظہار خیال کررہا ہے۔

رائڈر” ہمیں بین الاقوامی سطح پر مقابلوں میں شرکت کے لئے سخت محنت کرنا ہوگی، ہمیں توقع ہے کہ ساﺅتھ ایسٹ ایشین گیمز میں ہمارے کھلاڑی پہلی تین پوزیشنوں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوسکیں گے”۔

قومی ٹیم کی سلیکشن آئندہ چند ماہ بعد ہوگی، ایک چھوٹے گروپ نے اپنے چار اراکین کو اس پچاس رکنی ٹیم میں حصہ بنانے کے لئے تیار کرنا شروع کردیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *