پاکستان خصوصاً قبائلی علاقہ جات میں طلاق کو ناپسندیدہ ترین موضوع سمجھا جاتا ہے، تاہم اس کے باوجود رشتے ٹوٹنے کے واقعات کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ گزشتہ برس پشاور کی عدالتوں میں ایک ہزار طلاق کے مقدمات دائر ہوئے، جبکہ 1998ءمیں یہ تعداد صرف 98 تھی۔تاہم خواتین جب اس حق کو مانگتی ہیں تو انہیں تشدد اور دھمکیاں وغیرہ کا سامنا ہوتا ہے۔
بائیس سالہ معصومہ سارہ خان پشاور کے ایک بیوٹی پارلر میں کام کرتی ہیں، انکے والدین نے انہیں شادی کے موقع پر ڈھائی سو ڈالرز میں فروخت کردیا تھا۔
معصومہ” میری شادی ارینج یا لو میرج نہیں تھی، بلکہ مجھے ایک کھلونے کی طرح میرے شوہر کو بیچ دیا گیا تھا۔ ہر عورت کے اپنی شادی کے حوالے سے خواب ہوتے ہیں مگر میری شادی والدین نے طے کی۔ میرا شوہر مجھ سے محبت نہیں کرتا بلکہ وہ چاہتا ہے کہ میں اس کے والدین کو خوش رکھوں”۔
نو سال تک اس رشتے سے نبھا کرنے کے بعد معصومہ نے آخر کار گزشتہ برس خلع کا مقدمہ دائر کردیا۔
معصومہ” میں خلع لینا چاہتی ہوں کیونکہ میرے شوہر کا بڑا بھائی مجھے جنسی طور پر ہراساں کرتا ہے۔ آخر میں ایک ہی گھر میں اس کے ساتھ کیسے رہ سکتی ہوں؟ مجھے اس گھر میں اپنی عزت کی فکر ہے”۔
یہ کیس ابھی زیرالتوا ہے مگر معصومہ کی زندگی بہت مشکل ہوچکی ہے۔
معصومہ” جب میں نے اپنے شوہر کا گھر چھوڑا تو میرے والدین نے مجھے گھر میں گھسنے نہیں دیا، میں نے کرائے پر ایک گھر لینے کی کوشش کی مگر کوئی بھی ایک تنہا خاتون کو کرائے پر گھر دینے کیلئے تیار نہیں۔ اب میں اپنی ایک سہیلی کے خاندان کے ساتھ مقیم ہوں، مگر یہاں مجھے متعدد پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے”۔
قدامت پسند پشتون معاشرے میں خواتین کی جانب سے خلع کے مطالبہ کو ناقابل قبول سمجھا جاتا ہے۔
گزشتہ برس معروف پشتو گلوکارہ غزالہ جاوید کو ان کے سابق شوہر نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا، غزالہ نے اپنے شوہر کی ایک اور شادی کا معلوم ہونے کے بعد خلع کا مطالبہ کیا تھا، غزالہ کی والدہ تاحال اپنی بیٹی کی موت کا سوگ منارہی ہیں۔
غزالہ جاوید کی ماں” میری بیٹی غزالہ جاوید کو پولیس اسٹیشن کے قریب فائرنگ کرکے قتل کیا گیا، میری ایک اور
بیٹی اپنی زخمی بہن کو ہسپتال لے جانے کے لئے جائے واردات پر مدد کیلئے روتی چلاتی رہی۔ہمیں عدالت سے انصاف چاہئے اور کسی جانب سے تعاون چاہئے”۔
معصومہ پشاور ہائیکورٹ میں اپنے مقدمے کی سماعت سے قبل اپنی وکیل سے مشورہ کررہی ہیں۔ احمد سلیم خان ان کے وکیل ہیں۔
احمد” گزشتہ پانچ سال کے دوران طلاق کے مقدمات کی تعداد میں دوگنا اضافہ ہوا ہے، غربت، خواتین پر تشدد اور حقوق نسواں سے متعلق شعور بڑھنا اس کی بنیادی وجوہات ہیں۔ خواتین کو اب اپنے حقوق کا احساس ہوگیا ہے، انہیں میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ ہر بیوی جسے اس کے حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے یا تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے خلع حاصل کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین عدالتوں کا رخ کررہی ہیں”۔
جامعہ درویشیہ میں لوگ مختلف معاملات پر فتوے لینے آتے ہیں، یہاں آنے والے چالیس فیصد مرد و خواتین طلاق کے بارے میں مشورہ لینے آتے ہیں۔ مفتی عبدالقدیر اس ادارے سے تعلق رکھتے ہیں۔
مفتی عبدالقدیر” طلاق سے معاشرہ، قبیلہ اور خاندان مکمل طور پر تباہ ہوجاتا ہے۔ اگرچہ یہ اس کی قانونی اجازت ہے تاہم اسلام میں اسے ناپسندیدہ فعل سمجھا جاتا ہے۔ ہمارا مذہب شوہر اور بیوی کے درمیان صلح کو ترجیح دیتا ہے، طلاق آخری راستہ ہونا چاہئے”۔
تاہم این جی او عورت فاﺅنڈیشن کے مطابق آٹھ ہزار خواتین گزشتہ برس پاکستان میں قتل ہوئیں، جن میں سے بیشتر خلع کی خواہشمند تھیں۔
عورت فاﺅنڈیشن کی ڈائریکٹر شبینہ ایاز کا کہنا ہے کہ خواتین کو کسمپرسی کی زندگی گزارنے کی ضرورت نہیں۔
شبینہ ایاز” خواتین کو تشدد برداشت نہیں کرنا چاہئے، یہ ناانصافی ہے کہ خواتین یا کسی سے تشدد برداشت کرنے کا کہا جائے۔ہمارے معاشرے اور ثقافت کی یہ سوچ غلط ہے جس کے تحت خواتین کو کہا جاتا ہے کہ ایک بار ان کی شادی ہوگئی تو وہ ان کی موت تک ہی چلے گی۔ والدین اپنی بیٹیوں کو دوسری شادی کرنے یا کسی مشکل میں پھنسنے پر گھر واپسی کو پسند نہیں کرتے”۔
معصومہ عدالت میں ایک تھکا دینے والے دن کے بعد گھر واپس جارہی ہیں۔ وہ اپنے مقدمے کا جلد اختتام چاہتی ہیں، وہ اپنے شوہر سے بچوں کی پرورش کیلئے کسی معاوضے کی توقع نہیں رکھتی، تاہم وہ اپنے تحفظ کے حوالے سے ضرور فکرمند ہیں۔
معصومہ” مجھے ڈر ہے کہ کوئی میرے آکر مجھے قتل کردے گا، گھر کے باہر میں بھی مجھے فکر رہتی ہے کہ کہیں کوئی مجھ پر تیزاب نہ پھینک دے”۔