(Filipinos reject mega project in pristine area) فلپائنی عوام نے تاریخی علاقے میں میگاپراجیکٹ مسترد کردیا

 

فلپائن کے صوبہ Aurora معروف سیاحتی مقام ہے، جس کی وجہ یہاں کے تاریخی آثار اور دلفریب قدرتی مناظر ہیں، مگر حکومت کی جانب سے یہاں اقتصادی زون کی تعمیر کے منصوبے پر سماجی کارکن اور مقامی شہری پریشان ہیں

ہم لوگ اس وقت Aurora میں اقتصادی زون کے خلاف ہونیوالے احتجاجی مظاہرے میں شریک ہیں۔ مقامی شہریوں کے ساتھ ساتھ ڈچ اور سوئس مذہبی رہنماءبھی اس احتجاج میں شریک ہیں۔ ہم لوگ دارالحکومت منیلا سے آٹھ گھنٹے کی طویل ڈرائیو کے بعد یہاں پہنچے، مگر خوبصورت پہاڑی مناظر نے تھکن کا احساس بھی نہیں ہونے دیا۔جب ہم ساحلی قصبے Casiguran کے قریب پہنچے تو وسیع و عریض کھیت، مچھلیوں کے فارم اور بحراوقیانوس کے قدیم ساحلوں نے ہمارا استقبال کیا۔

یہ وہ جگہ ہے جہاں Aurora Pacific Economic Zone یا APECO کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا ہے، Mark Cebreros ہیومین رائٹس کمیشن سے تعلق رکھتے ہیں، انکا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے بارے میں وہ پہلے ہی تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔

Mark Cebreros(male)”ہمیں اس منصوبے کے باعث برادریوں کے بے گھر ہونے کے آثار نظر آرہے ہیں، ہم نے تعمیراتی منصوبوں جیسے عمارات، فضائی اڈوں اور بینکس وغیرہ کو دیکھا ہے، جن کے لئے زمینوں پر رہائشیوں کو رقم دیئے بغیر قبضہ کرلیا جاتا ہے، یا انہیں ہراساں کرکے انتہائی کم قیمت پر زمین خرید لی جاتی ہے۔ ہم نے Dumagats of Ildelfonso کی قبائلی برادریوں کی جانب سے ہراساں کئے جانیکی شکایت سنی ہے کہ ان کی زمینوں پر قبضہ کیا جارہا ہے اور ان کے روایتی علاقوں کو ختم کیا جارہا ہے۔ ہم ایسے خاندانوں سے ملے ہیں، جو گزشتہ پچاس یا ساٹھ برس سے یہاں آباد تھے، تاہم انھوں نے سرکاری طور پر ملکیت اپنے نام نہیں کرائی تھی، اور اب انہیں کوئی متبادل رہائش فراہم کئے بغیر نکالا جارہا ہے”۔

ہزاروں قبائلی افراد، کاشتکار اور ماہی گیروں نے اس منصوبے کے خلاف ریلی نکالی، بارہ ہزار ایکڑ رقبے پر تعمیر کئے جانیوالے اس اقتصادی زون میں صنعتی کمپلیکس بحراوقیانوس کے سامنے تعمیر کئے جائیں گے جو کہ Aurora کے موجودہ رہائشیوں

کیلئے حقیقی خطرہ ہے۔دیہاتیوں کو مچھلی کے شکار اور زمینوں پر کاشتکاری کی محدود سہولت دستیاب ہوگی، یہی وجہ ہے کہ مقامی گرجا گھر نے عالمی اور مقامی حمایت کے ساتھ اس منصوبے کے خلاف تحریک شروع کی ہے۔ پادری Jose Francisco Talaban مقامی گرجا گھر سے تعلق رکھتے ہیں۔

Jose Francisco Talaban(male)”ہم بین الاقوامی یکجہتی چاہتے ہیں، کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ یکجہتی کے ذریعے ہم کاشتکاروں، ماہی گیروں اور قبائلی افراد کو ان کے حقوق دلاسکتے ہیں۔ ہم نے اپنی تحریک میں دیگر ممالک کو لوگوں کو شامل کرسکتے ہیں،جو اپنے ملک کے شہریوں کو بتائیں گے کہ Aurora کے رہائشیوں کو مدد کی ضرورت ہے۔ ان کی مدد سے اس اقتصادی زون سے متاثر ہونیوالے افراد کی حوصلہ افزائی ہوگی، اور اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے اٹھ کھڑے ہوں گے”۔

غیرملکی افراد کے وفد کی آمد کے موقع پر منصوبے سے متاثرہ افراد نے اسٹیج پر کھڑے ہوکر اپنی مشکلات کا اظہار کیا۔ Victor Abahon ایک قبائلی گروپ Agta کے رکن ہیں۔

Victor Abahon(male)”حکومت کہتی ہے کہ وہ ہماری ترقی کیلئے یہ کام کررہی ہے، مگر اس نے ہم سے مشاورت کی ہی نہیں، یہ منصوبہ تو ان کیلئے ہے جو اس کی حمایت کرتے ہیں، ہم بھی ترقی چاہتے ہیںمگر جب ہمارے جزیرے پر عمارات تعمیر ہوجائیں گی، تو ہم کاشتکاری اور ماہی گیری جیسے کام کیسے کریں گے؟ وہ ہمارے فش فارم کی زمینیں لے لیں گے جو کہ ہمارے روزگار کا واحد ذریعہ ہے”۔

پادری Jose Fransisco Talaban کے گرجا گھر کی ایک دیوار کو مبینہ طور پر APECO کے کسی حامی نے بم سے اڑا دیا ہے۔

Jose(male)”یہ واقعہ رات کے دوبجے پیش آیا، اس وقت میں سو رہا تھا کہ اچانک میں نے بم دھماکے کی آواز سنی، جس سے میرے کمرے کی دیوار ٹوٹ گئی، اس کے بعد میں نے فائرنگ کی آوازیں بھی سنیں، ہم نے حملے کے بعد ملزمان کو تلاش کرنے کی کوشش کی مگر وہ فرار ہوگئے۔ ہمارا خیال تھا کہ یہ کوئی عام واقعہ ہے، مگر صبح مجھے اپنے کمرے کے قریب راستے میںپانچ پمفلٹ ملے، جس میں مجھے بے دین اور شیطان کا بیٹا قرار دیا گیا تھا”۔

دارالحکومت منیلا میں APECO کے صدر Robbie Mathay منصوبے کا دفاع کررہے ہیں۔

Robbie Mathay(male)”اس علاقے میں متعدد ساحل اور قدرتی مناظر پھیلے ہوئے ہیں، مگر وہاں کسی کیلئے ہوٹل تعمیر کرنا مشکل ہے،ہمارا ماننا ہے کہ اس علاقے کی برادری پر سر ما یہ کا ری کے متعدد مثبت اثرات سامنے آئیں گے، ہم وہاں مقامی سیاحت کے وسیع مواقع دیکھ رہے ہیں، مجھے توقع ہے کہ تین برس کے عرصے میں ہم وہاں دیگر ممالک جیسے تائیوان، ہانگ کانگ اور کوریا وغیرہ سے بھی سیاح وہاں لانے میں کامیاب ہوجائیں گے، اور آئندہ دس برسوں میں ہر ملک سے وہاں لوگ آئیں گے”۔

حکومت نے رواں برس کے بجٹ میں اقتصادی زون کے منصوبے کے پہلے مرحلے کیلئے ستر لاکھ ڈالر مختص کئے ہیں، اس رقم سے ایک ہوٹل اور انتظامیہ کے دفاتر کی تعمیر بھی شروع کر دی گئی ہے۔

اس منصوبے کے خلاف جاری احتجاج کے باوجود Aurora کی گورنر Bella Angara-Castillo کا دعویٰ ہے کہ مقامی آبادی کی اکثریت منصوبے کی حمایت کررہی ہے، تاہم ہیومین رائٹس کمیشن کے Mark Cebrero اس سے اتفاق نہیں کرتے۔

Mark Cebrero(male)”ہم نے فلپائنی کانگریس میں سفارشات جمع کرائیں ہیں کہ وہ APECO کے منصوبے کی منسوخی کا قانون منظور کرے”۔

وہ اس منصوبے سے جڑی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی روشنی ڈال رہے ہیں۔

Mark Cebrero(male)”ہم نے وہاں زمینی تحقیقات بھی کرائی ہے اور ہم نے کانگریس کے کمیشن کو اپنی تحقیقات پر مبنی سفارشات دی ہیں،جس میں اس سے متاثرہ رہائشیوں کے مسائل کے بارے میں بتایا گیا ہے، ہم نے سفارش کی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے ایک عوامی تحقیقات کرائی جائے، تاکہ بامقصد بات چیت اور موجودہ صورتحال کے حل کا راستہ نکل سکے”۔

Robbie Mathay بھی مقامی رہائشیوں سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔

Robbie Mathay(male)”ہوسکتا ہے کہ وہ مخصوص مفادات رکھنے والے افراد کے مشوروں کے باعث APECO کے بارے میں منفی تاثرات رکھتے ہو، میں نہیں جانتا انھہیں کہاں سے یہ غلط معلومات مل رہی ہے، ہم پر زمینوں

پر قبضے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا جارہا ہے۔ ہم مکمل کاروباری سوچ کے ساتھ اپنا کام کررہے ہیں اور ہم یہ کام شفافیت کے ساتھ کررہے ہیں اور اس میں مقامی برادری کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کررہے ہیں۔آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ یہ کتنا بڑا علاقہ ہے، تو جب ہم بات چیت شروع کرےںتو تمام دیہات کے افراد کے ساتھ ایک ساتھ بات چیت نہیں ہوسکتی، میرے خیال میں مقامی لوگوں کے ذہنوں میں یہ الجھن موجود ہے کہ APECO منصوبے سے کیا ہوگا”۔

مخالف گروپس نے منصوبے کی منسوخی کیلئے درخواست عدالت میں دائر کردی ہے۔ Bishop Rolando Tria Tirona اس منصوبے کے خلاف چلنے والی تحریک کے رکن ہیں، وہ مقامی افراد سے کہہ رہے ہیں کہ وہ پرامید رہیں۔

Bishop Rolando Tria Tirona(male)”آخر میں حقیقت سب کے سامنے آئے گی”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *