کہا جاتا ہے کہ خالی پیٹ کسی ملک کی ترقی ممکن ہے،اگر یہ بات سچ ہے تو بھارت میں بھوکے اور ان پڑھ بچوں کی کوئی کمی نہیں۔اقتصادی ترقی کے باوجود بھارت میں بھوکے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ تاہم ایک این جی او حکومت کے ساتھ ملکر اس صورتحال کو بدلنے کیلئے لاکھوں اسکول کے طالبعلم بچوں کو روزانہ مفت دوپہر کا کھانا فراہم کررہی ہے۔
معروف گلوکار و موسیقار Shankar Mahadevan اسٹیج پر اپنا نیا گانا سنا رہے ہیں۔
Shankar Mahadevan اس وقت اپنے گانے کا مطلب سمجھا رہے ہیں۔
(male) Shankar Mahadevan “ہم بچوں کو کھلانے کے تصور کو انہیں دوپہر کا کھانا فراہم کرکے فروغ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہم تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو کھانا دے رہے ہیں اور یہی میرے گانے کا بنیادی خیال بھی ہے۔میں زیادہ سے زیادہ بچوں کو اسکولوں میں داخلے کی جانب متوجہ کرنا چاہتا ہوں، تاکہ وہ پڑھ لکھ سکیں۔ مجھے توقع ہے کہ ہمارے ملک میں بچوں کو تعلیم کا حق مل سکے گا۔ اور اچھی تعلیم اسی وقت ممکن ہے جب بچے صحت مند ہوں۔وہ صحت مند اسی وقت ہوسکتے ہیں جب انہیں اچھی غذا فراہم کی جائے”۔
یہ گانا بھارت بھر میں اسکول کے بچوں میں تقسیم کئے جانے والے دوپہر کے کھانوں کی تعداد ایک ارب ہونے کے موقع پر جاری کیا گیا۔ این جی او Akshaya Patra گیارہ برس سے اس پروگرام کو چلارہی ہے۔اس پروگرام کے تحت سرکاری اسکولوں میں زیرتعلیم غریب بچوں کو دوپہر کا کھانا مفت فراہم کیا جاتا ہے۔ Madhu Pandit Dasa اس این جی او کے چیئرمین ہیں۔
(male) Madhu Pandit Dasa “بھارت کے کروڑوں بچے خوراک و تعلیم سے محروم ہیں، اس کی وجہ یہ نہیں کہ ان کے والدین انہیں تعلیم یا خوراک سے محروم رکھنا چاہتے ہیں، بلکہ وہ اس کی استطاعت ہی نہیں رکھتے۔ ہم اسکولوں میں بچوں کو بھوک سے بچا کر ان کی زندگیوں میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ ہم ایک ارب بار یہ کام کرچکے ہیں، اس وقت
بھارت کی آبادی ایک ارب بیس کروڑ سے زائد ہے، اس کا مطلب ہے کہ ہم تقریباً بھارت کی پوری آبادی کو ایک وقت کا کھانا کھلا چکے ہیں”۔
2001ءمیں ایک بھارتی این جی او نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جس یمں خوراک کے حصول کے حق کو نافذ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عدالت نے اپنے تاریخی حکم میں ریاستی حکومتوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ تمام سرکاری اسکولوں میں بچوں کو دوپہر کا کھانا فراہم کریں۔ اس موقع پر Akshaya Patra نے پانچ اسکولوں کے پندرہ سو طالبعلموں سے اس کام کا آغاز کیا، اب وہ نو بھارتی ریاستوں میں حکومتی و مخیر افراد کے تعاون سے چودہ لاکھ بچوں کو دوپہر کا کھانا فراہم کررہی ہے۔
یہ تمام کھانا این جی او کے انیس باورچی خانوں میں تیار ہوتا ہے،کچھ باروچی خانوں میں روزانہ دو لاکھ بچوں کیلئے کھانا تیار ہوتا ہے، ان کھانوں کو بسوں کے ذریعے اسکول پہنچایا جاتا ہے، جہاں بچوں کو قطار میں کھڑا کرکے یہ کھانا دیا جاتا ہے۔ Pradipta Narsimha Dasa اس این جی او کے باورچی خانوںکے انچارج ہیں۔
(male) Pradipta Narsimha Dasa “ہمارے پاس روٹیاں بنانے کی مشین ہیں، جس کی مدد سے ہم ایک گھنٹے میں چالیس ہزار روٹیاں تیار کرلیتے ہیں۔ ہمارے پاس ایسی دو مشینیں ہیں، اسی طرح ہم ایک گھنٹے میں سبزی کے ساتھ دال بھی تیار کرلیتے ہیں۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ایسا کھانا بنایا جائے جو غذائیت بخش ہو اور اس کی تیاری صاف ستھرے ماحول میں ہو”۔
اب واپس گانے کی تقریب میں چلتے ہیں۔
پندرہ سالہ Savitha اسٹیج پر موجود ہے۔ اس نے حال ہی میں میٹرک کیا ہے اور اب اسے اعلیٰ تعلیم کیلئے اسکالر شپ مل گئی ہے۔
Savitha اپنی کامیابی پر اپنے اسکول کی شکرگزار ہے، جبکہ مفت کھانے پر بھی وہ ممنونیت کا اظہار کررہی ہے۔
(female) Savitha “شب بخیر حاضرین، میں اسکالر شپ دینے پر Akshaya Patra کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔یہ انتہائی متاثر کن ہے اور اس سے مجھ میں اعتماد پیدا ہوا ہے، میں اس کی انتہائی شکر گزار ہو اور میں کہنا چاہتی ہوں کہ میں مفت کھانے کو بھی بہت یاد کروں گی”۔
وہ مزید کہہ رہی ہے۔
شویتا(female) “میرے والدین ہمیشہ اپنے بچوں کو مکمل کھانا فراہم نہیں کرسکتے، اسکول کے تمام بچے امیر نہیں، دوپہر کا کھانا ہماری صحت کیلئے بہت اہم ہے، اور یہ این جی او اس سلسلے میں بہت بڑی مدد کررہی ہے”۔