عید کا موقع ہو اور نئے کپڑے نہ سلوائے جائیں یہ ممکن ہی نہیں۔خصوصا خواتین تو ملبوسات کی فیشن کے مطابق تےاری میں پیش پیش رہتی ہیں،عید کے موقع پر بھی خواتین جدید فیشن کو مد نظر رکھ کر اپنے ملبوسات تےار کرواتی ہیں،جبکہ بعض خواتین ریڈی میڈ ملبوسات خریدنے کو ترجیح دیتی ہیں۔نبیہہ ایک اسٹوڈنٹ ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ آج کل لمبی قمیض اور چوڑی دار پجامے فیشن میں ان ہیں ،اس لئے انہوں نے بھی اسی طرح کا سوٹ سلواےا ہے،
صفیہ ایک گھریلو خاتون ہیں ،یہ کہتی ہیں کہ لمبی قمیض کے فیشن نے فربہ خواتین کے لئے بہترین ہے،کیونکہ اس طرح کی قمیض میں خاتون فربہ نظر نہیں آتیں،
لڑکیاں عید بہت پر جوش انداز میں مناتی ہیں،اور ان کی تےاری بھی ہر لحاظ سے بھر پور ہوتی ہے ،یمنیٰ بھی ایک اسٹوڈنٹ ہیں،ان کا کہنا ہے کہ آج کل ملبوسات کا جو فیشن چل رہا ہے اس کے ساتھ چوڑیاں مناسب نہیں لگتیں اس لئے انہوں نے بھی اس بار چوڑیاں نہیں خریدیں،
اس سال کی عید میں درزیوں کے نخرے اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے باعث خواتین سلے سلائے ملبوسات خریدنے کو ترجیح دے رہی ہیں،اس حوالے سے آمنہ جو کہ ایک اسکول ٹیچر ہیں کہتی ہیں،
سارا کویت سے عید منانے پاکستان آئی ہیں،ان کو گھیر والی فراک اور ایمبرائڈری والے سوٹ بہت پسند ہیں،اور اس بار عید پر بھی اسی طرح کے ملبوسات کا اہتمام کیا ہے،
عید کے موقع پر ملبوسات چاہے سلے سلائے خریدے جائیں یا درزی سے سلوائے جائیں،دونوں صورتوں میں جدید فیشن کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے ،اور خواتین عید کی مناسبت سے جدید فیشن پر مبنی ملبوسات کا ہی انتخاب کرتی ہیں،اور اپنی عید کی خوشیوں کا دوبالا کرتی ہیں۔