عید خوشی کا تہوار ہے،جو ہر مسلمان کے لئے خوشیوں کے لمحات لے کر آتا ہے،دنیا بھر میں ہر مسلمان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ عید اپنے گھر میں ہی منائے اور اس کے لئے کئی دن قبل ہی سارے کام نمٹا کر سب اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوجاتے ہیں،لیکن کئی جگہیں ایسی ہیں جہاں کے باسیوں کو عید کے موقع پر اپنے گھروں کا جانا نصیب نہیں ہوتا،ان میں سے ایک جگہ دارلامان بھی ہے،جہاں بہت سی مجبور ،بے بس اور لاوارث خواتین عید کا دن اپنوں کی راہ تکتے تکتے گزار دیتی ہیں۔عید کے موقع پر یہاں کی خواتین بھی اہتمام کرتی ہیں لیکن ان کی یہ تےاریاں ادھوری سی رہتی ہیں۔ 6جوان بچوں کی ماں 65سالہ فَلَک ناز،جن کی اولاد نے اپنی ماں کوبوجھ سمجھتے ہوئے دارالامان بھجوادےا۔3بیٹوںاور 3بیٹیوں کے ہوتے ہوئے فلک ناز دارلامان کے تنہا کمرے میںعید منانے پر مجبور ہے،اور جب وہ اپنی اولاد کو ےاد کرتی ہے تو بے اختےار اانکی آنکھوں سے آنسو نکل آتے ہیں۔
ٓ
دارالامان میں ایک ایسا ہے کردار الماس کنول کا بھی ہے،جن اپنوں نے ان سے اپنے بچے چھین لئے،اور گھر سے نکال دےا گےا ،اسکے بعد الماس کنول بھی دارالامان کی چھت کے نیچے پناہ لینے پر مجبور ہے،لیکن عید کے اس موقع پر اپنے بچوں سے جدائی کے غم نے اسے نڈھال کر دےا ہے،الماس آج بھی اسی انتظار میں ہے کہ اسے اپنے گھر والے گھر لے جائیں،
ٓ
رفعت رانی حوا شیلٹر کی روح رواں ہیں،ان کے دارلامان میں موجود خواتین کس طرح عید مناتی ہیں ،اور شیلٹر ہوم ان کی عید کوکس طرح یادگار بناتے ہیں،یہ بتا رہی ہیں،رفعت رانی،
چُوڑےوں کی کھنک اور حنا کی خشبُو اپنی جگہ مگر د ارالامان ایسے کئی کرداروں کو اپنے اندر سمائے ہوئے ہے،جن کی کہانیاں دلوں کو ہلا دیتی ہیں۔عید کی آمد آمد ہے اور ان خواتین کو انکے پےا روں کی کمی شدت سے تڑپا رہی ہے۔اپنو ںکی محبت کو ترستی ےہ خواتین چاہے اپنے دکھ اور درد لوگوں کو سنا کے اپنے من کا بوجھ ہلکا کریںمگر ان خواتین کو دلی سُکوں تب تک مےسر نہیں آسکتا جب تک کہ یہی خواتین اپنے گھر نا چلی جا ئیں۔