(Fighting for 500 years: India’s first environmentalists) پانچ سو برس سے جدوجہد میں مصروف بھارت کے پہلے ماحولیاتی کارکن

[ 0 ] April 22, 2012

(India Bishnoi) بھارت بشنوئی

بھارتی ریاست راجھستان کی Bishnois برادری کو بھارت میں ماحولیاتی بہتری کے لئے جدوجہد کرنے والی پہلی برادری بھی کہا جاتا ہے۔ گزشتہ پانچ سو سال سے یہ اپنے جنگل کو بچانے کے لئے ہر قسم کی قربانی دے رہے ہیں۔

Khejarlee نامی گاﺅں کے ارگرد موجود جنگل زندگی کی گہماگہمی سے بھرپور ہے، یہ جنگل بنجر صحرائے تھر میں ایک خوبصورت سبز منظر کی طرح نظر آتا ہے۔ یہ Bishnoi برادری کا گھر ہے۔ شیوداس شاستری مقامی پجاری ہیں، جب بھی وہ جنگل کے بارے میں بات کرتے ہیں ان کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ جاتی ہے۔

شیوداس(male) “دو صدی قبل مقامی راجہ نے اس جنگل کے متعدد درخت کاٹ کر ایک قلعہ تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ جب راجہ کے آدمی درخت کاٹنے کیلئے آئے تو Bishnoi برادری نے اس کے خلاف احتجاج کیا، ان کا کہنا تھا کہ وہ مرجائیں گے مگر درخت نہیں کاٹنے دیں گے۔ اس روز ہونے والی ہنگامہ آرائی میں 363 افراد ہلاک ہوگئے، وہ اس مقام کے شہید ہیں، اب ان کا پیغام ہم پورے ملک تک پہنچانا چاہتے ہیں کہ ماحولیاتی نظام کو تحفظ دیا جائے”۔

Bishnoi مذہب 15 ویں صدی میں گرو Jambeshwar نے متعارف کرایا تھا، ان کا ماننا تھا کہ انسان اسی وقت کامیاب ہوسکتے ہیں جب وہ فطرت کا خیال رکھیں۔ انھوں نے اپنے ماننے والوں کو 29 احکامات دیئے، جس میں ماحول دوست اور صحت مند معاشرے کا تحفظ بھی شامل تھا۔

گرو Jambeshwarکے احکامات میں ہر زندہ شے کا خیال رکھنے اور سرسبز درختوں کو کاٹنے کی ممانعت بھی شامل ہے۔Bishnoi رہنماءFaglu Ramji سنسکرت زبان میں اپنے مقدس مذہبی احکامات سنا رہے ہیں۔

 male) Faglu Ramji) “پانچ سو سال قبل ہمارے گرو نے کہا تھا کہ اگر تم لوگ میری تعلیمات کے تحت زندگی گزارنا چاہتے ہوں، تو ہی تم لوگ اچھی زندگی گزار سکو گے۔ انھوں نے ہمارے لئے یہ 29 احکامات چھوڑے، اب ہر روز کے اختتام پر ہم جائزہ لیتے ہیں کہ ہم نے اپنے گرو کی تعلیمات پر کس حد تک عمل کیا، اور ہم نے کیا غلطیاں کیں۔ یہی ہمارا عقیدہ ہے”۔

جانور جیسے ہرن، مور اور معدومی کے خطرے سے دوچار چنکارہ ہرن اس برادری کے ساتھ انتہائی سکون سے رہ رہے ہیں۔ کئی بار تو یہاں کی خواتین جانوروں کے ایسے بچوں کو اپنا دودھ بھی پلاتی ہیں جنھیں شکاری مار دیتے ہیں۔ Bishnois برادری اپنے درختوں اور جانوروں کو بچانے کیلئے انتہائی جارحانہ مہم چلاتے ہیں اور انہیں پکڑ کر سزا بھی دیتے ہیں۔ Banaram Bishnoi ماضی میں شکاریوں کو پکڑنے والی ٹیم کا حصہ رہ چکے ہیں۔

 male) Banaram Bishnoi)  ایک دیہاتی نے دو شکاریوں کو پکڑ لیا جو جانوروں کا شکار کررہے تھے۔ اس دیہاتی نے گاﺅں کے دیگر افراد کو مدد کیلئے بلایا، جس پر ہم لوگوں نے کہا کہ ہم آرہے ہیں، ہم آرہے ہیں، خود کو مضبوط رکھو۔ شکاری گاﺅں سے سات کلو میٹر دور تھے۔ہمارے پاس ہتھیار نہیں تھے مگر ہم میں سے چند لاٹھیاں اٹھا کر مدد کیلئے روانہ ہوئے۔ میں واحد شخص تھا جو اس جگہ سے ایک یا دو کلومیٹر ہی دور تھا، میں نے شکاریوں کی رائفلوں کی آواز سنی، مگر ہمارے بہادر ساتھی نے انکا مقابلہ کیا، اور انہیں اس وقت تک وہاں سے جانے نہیں دیا جب تک ہم وہاں پہنچ نہیں گئے”۔

ایک اور موقع پر اس برادری نے ایک شکاری کو پکڑ کر برہنہ کیا اور گرم صحرائی ریت پر لٹا دیا، مگر اس علاقے میں صرف شکاری ہی واحد خطرہ نہیں۔

دریائے Loni واحد دریا ہے جو اس صحرا سے گزرتا ہے اور اب یہ دریا صنعتی زہریلے مواد کے باعث آلودہ ہوچکا ہے۔ ماضی میں لوگوں کے روزگار کی ضمانت یہ دریا اب زہریلا اور انتہائی غلیط ہوچکا ہے، جس کے باعث انتہائی زرخیر زمین بنجر ہونا شروع ہوگئی ہے۔Balaram Bishnoi ایک قریبی گاﺅں Doli کے کاشتکار ہیں۔

 male) Balaram Bishnoi)  “میں دالوں، گندم اور دیگر فصلیں اگاتا تھا، مگر اب یہاں کچھ بھی کاشت نہیں کیا جاسکتا، یہاں تک کہ گھاس بھی پیدا نہیں ہوتی۔ ابھی آلودہ پانی جہاں تک نہیں پہنچا وہاں پر آپ فصلوں کی کاشت دیکھ سکتے ہیں، مگر جہاں یہ پانی پہنچ چکا ہے وہاں اب کاشتکاری ختم ہوگئی ہے۔ یہ زمین مکمل طور پر بنجر ہوچکی ہے، جبکہ پانی پینے والے جانور بھی بیمار ہوکر مر رہے ہیں”۔

بالا رام اور گاﺅں کے دیگر کاشتکاروں نے آلودگی پیدا کرنے پر صنعتوں کیخلاف راجھستان ہائیکورٹ میں چند برس قبل مقدمہ دائر کیا تھا، جس کا فیصلہ ابھی تک سامنے نہیں آسکا ہے، مگر اس سے ملتے جلتے ایک مقدمے میں گزشتہ ماہ عدالت نے آٹھ سو ٹیکسٹائل کمپنیوں کو تیزابی مواد دریا کے پانی میں پھینکنے سے روکنے کا حکم دیا ہے۔

Faglu Ramji اپنے گھر کے احاطے میں اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں،انکا کہنا ہے کہ وہ اپنے مذہبی احکامات اور روایات اپنی نئی نسل میں منتقل کریں گے اور وہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔

male) Faglu Ramji) “ہم خوش ہیں کہ پانچ سو سال قبل ہمارے گرو نے ماحولیات کے بارے میں جو کچھ کہا تھا وہ اب صحیح ثابت ہوگیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ زندگی درختوں سے ہیں، اب پوری دنیا نے اس بات کی اہمیت کا احساس کرلیا ہے۔ اب عالمی برادری کہتی ہے کہ درختوں کو مت کاٹو ورنہ پوری دنیا ختم ہوجائے گی، بارشیں ختم ہوجائیں گی، اور سورج کی بڑھتی ہوئی حرارت کے باعث دنیا کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اس وقت عالمی سطح پر کروڑوں ڈالرز ماحولیاتی نظام بہتر کرنے کیلئے خرچ کئے جارہے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ اس رقم کو کس حد تک صحیح طرح سے استعمال کیا جارہا ہے، تاہم ہم لوگ ماحولیات کی بہتری کے لئے صدیوں سے بغیر کسی معاوضے کے کام کررہے ہیں”۔

Category: Asia Calling | ایشیا کالنگ, Environment

Leave a Reply

burberry pas cher burberry soldes longchamp pas cher longchamp pas cher polo ralph lauren pas cher nike tn pas cher nike tn nike tn pas cher air max 90 pas cher air max pas cher roshe run pas cher nike huarache pas cher nike tn pas cher louboutin pas cher louboutin soldes mbt pas cher mbt pas cher hermes pas cher hollister pas cher hollister paris herve leger pas cher michael kors pas cher remy hair extensions clip in hair extensions mbt outlet vanessa bruno pas cher vanessa bruno pas cher vanessa bruno pas cher ralph lauren pas cher