Empowering Indonesia’s Child Domestic Labour – انڈونیشین گھریلو ملازم بچے

عالمی ادارہ محنت کا تخمینہ ہے کہ دنیا بھر میں ایک کروڑ سے زائد بچے گھریلو ملازمین کی حیثیت سے کام کررہے ہیں، جن میں سے ستر فیصدتعداد لڑکیوں کی ہے، انڈونیشیاءمیں ایک این جی او ایسے بچوں کی زندگی بہتر بنانے کیلئے کام کررہی ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

انسیا اس وقت صرف پندرہ سال کی تھی جب اس نے گھریلو ملازمہ کی حیثیت سے کام شروع کیا، اس وجہ سے اسے ساتویں کلاس سے ہی اپنا اسکول چھوڑنا پڑا۔

انسیا”میرے والد کو فالج ہوگیا ہے، انہیں جب ڈاکٹر ہمارے گھر آئی تو اس نے کہا کہ اسے اپنے گھر میں کام کیلئے کسی ملازمہ کی ضرورت ہے، اسی وجہ سے میں نے یہ کام کرنے کا فیصلہ کیا”۔

یہ اس کی پہلی ملازمت ہے اور وہ روزانہ سترہ گھنٹے تک کام کرتی ہے۔

انسیا”میں صبح پانچ بجے کام شروع کرتی ہوں، سب سے پہلے جوس بناتی ہوں، پھر ناشتہ اور اس کے بعد مالکہ کی ماں کی مالش کرتی ہوں، اس کے بعد صاف ستھرائی، کپڑے دھونا اور ان پر استری وغیرہ کا نمبر آتا ہے”۔

سوال”یہ سب کس وقت تک ختم ہوتے ہیں؟

انسیا”رات کو دس بجے، مگر کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ مجھے کچھ اور کام بھی دیدیا جاتا ہے”۔

وہ اس لیڈی ڈاکٹر کے گھر دو ہفتے کام کرسکی جس کے عوض اسے پچیس ڈالرز ملے، مگر مناسب تعلیم نہ ہونے باعث وہ گھریلو ملازمہ کا ہی کام کرسکتی تھی، اسی لئے اس نے اگلی ملازمت بھی یہی کی، جس کیلئے اسے روزانہ پندرہ گھنٹے کام کرنے عوض ماہانہ ساٹھ ڈالرز ملتے ہیں۔

انسیا”میں ایسے تخت پر سوتی ہوں جس پر بستر نہیں بچھا، یعنی لکڑی کے بیڈ پر جس پر متعدد کاٹھ کباڑ بھی پڑا ہے۔ مجھے لگتا ہے جیسے میں کسی گودام میں سو رہی ہوں، میرے پاس صرف ایک تکیہ ہے اور پتلا سا کمبل، مجھے کمبل کے بغیر ہی سونا پڑتا ہے اور سوتے ہوئے بھی میں نے دستانے اور جرابیں پہن رکھی ہوتی ہیں، اس وقت ایسا لگتا ہے جیسے میں موٹرسائیکل چلارہی ہوں”۔

انسیا نے وہ ملازمت بھی کچھ عرصے بعد چھوڑ دی اور اب وہ کئی گھروں میں کپڑے دھونے کا کام کررہی ہے، انسیاان ایک کروڑ بچوں میں سے ایک ہے جو دنیا بھر میں غلاموں کی طرح کام کررہے ہیں۔ صرف انڈونیشیاءکے مختلف شہروں میں بچوں کی بڑی تعداد گھریلو ملازمین کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔ان میں سے ایک علاقہ مغربی جاوا کا کرانجی بھی ہے، جہاں صورتحال بدلنے کیلئے ایک این جی او ہر اتوار کو پندرہ گھریلو ملازمین بچوں کیلئے مفت کلاسز کا انعقاد کررہی ہے۔ انکے مارساس کلاس میں پڑھاتی ہیں۔

مارس”ہم 2011ءمیں کرانجی آئے، ہم چاہتے تھے کہ یہاں کے بچوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملے، نہ صرف تعلیم بلکہ انکا مستقبل بھی بہتر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہم یہاں تھیٹر کلاس کے ساتھ آئے، جہاں اچھا ماحول فراہم کیا جاتا ہے، ہم نے متیارا اسٹوڈیو بھی تشکیل دیا ہے”۔

ہر لینا سریفدین پیشہ ور تھیٹر لیکچرار ہیں۔

ہر لینا”میرا مقصد ان بچوں کو اتنا پراعتماد بنانا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے بھی پرفارمنس دکھاسکیں، اسی طرح وہ دنیا میں آگے بڑھ سکتے ہیں، مگر اعتماد سازی کا یہ عمل کافی مشکل ہے کیونکہ طویل عرصے سے انکا استحصال کیا جارہا ہے۔ ہم ان کی ہمت بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں، اور انہیں سمجھا رہے ہیں کہ ان کے سامنے ایک روشن مستقبل موجود ہے، جس کیلئے کافی محنت کرنا ہوگی، اب ہم ان بچوں میں کچھ بہتری دیکھ رہے ہیں”۔

سولہ سالہ سو چی رحماتی بھی اس کلاس میں پڑھ رہی ہے۔

سوچی”تھیٹر اداکاری جیسا ہی ہے، ہمیں یہاں کافی تجربات حاصل ہورہے ہیں، ہم تھیٹر میں اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں”۔

سوال”کیا اب آپ زیادہ پراعتماد ہوچکی ہیں؟

سوچی”شروع میں تو میں کافی ہچکچاہٹ محسوس کرتی تھی، پہلی بار ڈائیلاگ بولنے سے پہلے مجھے یہاں کے اساتذہ کافی سمجھانا پڑا، مگر اب میں کافی پراعتماد ہوچکی ہوں”۔

اس تھیٹر کے ذریعے انکے مارس چاہتی ہیں کہ یہ ملازم بچے یہ جانے کہ ان کیلئے ایک اور دنیا کے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔

مارس”میں نہیں چاہتی کہ یہ بچے مزید گھریلو ملازمین کی حیثیت سے کام کریں، یہ ان بچوں کیلئے دنیا کی بدترین ملازمت ہے، اس عمر میں تو انہیں کام کرنے کی بجائے اسکول جانا چاہئے، جب ہم پوچھتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اپنے خاندان کی کفالت کیلئے کام کرتے ہیں، وہ اپنے اسکول جانے والے دوستوں سے حسد کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کے اندر خوداعتمادی کا فقدان ہے”۔

سوچی نے جون میں پہلی بار جکارتہ میں تھیٹر ڈرامے میں کام کیا، اسٹیج پر اس نے گھریلو ملازمہ کا کردار ادا کیا۔

ڈرامے کے بعد انیسیا نے کہا کہ وہ کوئی اور کام کرنا چاہتی ہے۔

انیسیا”میں بہتر ملازمت چاہتی ہوں، کسی دفتروغیرہ میں، میں اپنے خاندان کا بہتر طریقے سے خیال رکھنا چاہتی ہوں اور میں مالی طور پر خودمختار بننا چاہتی ہوں”۔