جان بانو کی بیٹی کو اس کے ہی شوہر نے تیزاب پھینک کر قتل کردیا تھا، جس کے بعد اس خاتون نے انصاف کیلئے ہر جگہ کوشش کی مگر کچھ نہیں ہوسکا، تاہم اب پاکستان کے پہلے خواتین جرگہ کے قیام نے اس کی امیدوں کو پھر سے جگادیا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
جان بانو کی بیٹی کے قتل کو ایک برس بیت چکا ہے مگر وہ اب تک انصاف کے حصول میں ناکام رہی ہے۔ سولہ سالہ طاہرہ کو اس کے شوہر نے تیزاب پھینک کر قتل کیا تھا۔
بانو”اس کے کان اور پیٹ مکمل طور پر جل گئے تھے، اس کے ہاتھ سوکھ کر اکڑ گئے تھے، اس کا جسم ایسا ہوگیا تھا جیسے بھنا ہوا گوشت”۔
طاہرہ کا چہرہ اور بالائی جسم تیزاب پھینکنے سے بری طرح متاثر ہوئے تھے، اپنے انتقال سے قبل اس نے وڈیو بیان ریکارڈکرایا تھا۔
بانو”موبائل فون میں ریکارڈ کرائے گئے وڈیو بیان میں میری بیٹی نے کہا کہ اسے بھی ایسے ہی جلایا جائے جیسے مجھے جلایا گیا، مگر ہم بے بس اور غریب ہیں اور کچھ بھی نہیں کرسکتے، اللہ ہی اسے جلاسکتا ہے”۔
اپنی وڈیو میں طاہرہ نے یہ بھی کہا تھا کہ اسے پولیس کے سامنے اس واقعے پر جھوٹ بولنے پر مجبور کیا گیا تھا، جان بانو اس وڈیو ریکارڈنگ کیساتھ پولیس کے پاس گئیں مگر کچھ نہیں ہوسکا، حقوق نسواں گروپس کی مدد سے اس واقعے کو منظرعام پر لایا گیا، جس کے بعد پولیس نے مجبوراً طاہرہ کے شوہر کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، اب یہ مقدمہ عدالت میں جاچکا ہے مگر اس کا فیصلہ آنے میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔مقدمے کی رفتار بڑھانے کیلئے جان بانو کو مقامی جرگے کی حمایت کی ضرورت ہے۔
جان بانو نے جرگے سے مدد طلب کی، تمام مردوں پر مشتمل جرگے نے اس کا مقدمہ سننے سے اناکر کردیا، جس کے بعد بانو نے گزشتہ برس تبسم عدنان کے تشکیل دیئے گئے خواتین جرگے سے رجوع کیا۔
تبسم”اس برادری کیساتھ کام کرتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ مرد اپنی خواتین کے معاملات کو برداشت نہیں کرتے، اور وہ خواتین کو درپیش حقیقی مسائل کو سمجھ نہیں پاتے۔اسی وجہ سے میں نے خواتین جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا”۔
مگر قدامت پرست پشتون معاشرے میں مردوں کو ہی اہم فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے، زاہد خان وادی سوات میں مردوں کے جرگہ کے چیئرمین ہیں۔
زاہد خان”ان خواتین کو شکرگزار ہونا چاہئے کہ انہیں خواتین جرگہ تشکیل دینے پر ڈنڈوں سے نہیں مارا گیا، یہ پشتون ثقافت کی بے عزتی ہے، خواتین اپنا جرگہ تشکیل دینے کا اختیار نہیں رکھتیں”۔
مگر موت کی دھمکیوں کے باوجود تبسم عدنان اپنے مقصد کیلئے پرعزم ہیں۔
تبسم”میں خوفزدہ نہیں کیونکہ میں اچھا کام کررہی ہوں اور اس سے مجھے خوشی ہوتی ہے۔ مردوں پر یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ خواتین اب مردوں کے غالب معاشرے میں ان کے فیصلے کو فرمانبرداری کرنے کیلئے تیار نہیں”۔
اب تک یہ جرگہ گھریلو معاملات کے گیارہ مقدمات کو حل کرچکا ہے، اس جرگے نے 55 سالہ بی بی حنیفہ کی بھی مدد کی، جس اس کے کرائے کے گھر سے بغیر نوٹس کے نکال دیا گیا تھا، جرگے کی مداخلت کے بعد مالک مکان نے بی بی حنیفہ کو نئے گھر کی تلاش کیلئے وقت دیدیا تھا۔
بی بی حنیفہ”مردوں کو جرگہ خواتین کیلئے اچھا نہیں، سوات میں خواتین مردوں کے بارے میں بات نہیں کرسکتیں، مگر خواتین کے جرگے کے اندر میں اپنے حقوق پر بات کرسکتی ہوں، یہ سب خواتین جرگہ کی بدولت ہے اور اب ہمارا وقت آگیا ہے”۔
خواتین جرگے کی اراکین تبسم عدنان کے گھر میں اکھٹے ہوکر حل طلب معاملات پر غور کرتی ہیں، طاہرہ بشیس جرگے کی سربراہ ہیں۔
طاہرہ”میں تعلیم یافتہ نہیں مگر مجھے گھریلو معاملات نمٹانے کا تجربہ ضرور ہے، مجھے یقین ہے کہ ہم ان مسائل کو مردوں کے جرگے کے مقابلے میں زیادہ بہتر طریقے سے حل کرسکتی ہیں، مردوں کے جرگے کے مقابلے میں ہم ان معاملات کو حل کرنے کیلئے اپنے پاس سے پیسے بھی خرچ کرتے ہیں، جبکہ دوسرا جرگہ فریقین سے مالی فوائد حاصل کرتا ہے۔ میں اپنے معاشرے اور خواتین کی بہتری کیلئے سب کچھ کرنے کیلئے پرعزم ہوں”۔
اس نئی پیشرفت کے بعد جان بانو کے مقدمے کی سماعت تیزی سے ہونے کا امکان ہے، مردوں کے جرگے کے سنیئر رکن سید انعام الرحمن اس مقدمے میں اپنی حمایت کیلئے خواتین جرگہ کے دفتر میں آئے۔
انعام”میں تبسم اور ان کے جرگے سے متفق ہوں، میں طاہرہ کے مقدمے کی حمایت کرتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ حکومت ملزم کو سزا دے۔ ہمیں ملکر کام کرکے لوگوں کے اندر حقوق نسواں سے متعلق شعور اجاگر کرنا چاہئے”۔