Asia Urged to Enhance Protection for Domestic Workers – ایشیائی گھریلو ملازمین

گھریلو ملازمین کے حقوق دینے کے معاملے میں ایشیاءبہت پیچھے ہے، دنیا بھر میں گھریلو ملازمین کی چالیس فیصد تعداد ایشیائی ممالک میں کام کررہی ہے، جہاں انہیں متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی رپورٹ

علامتی طور پر اہم لیبر یونینز اکھٹی ہوئی ہیں، فلپائن پہلا ایشیائی ملک ہے جس نے دو برس قبل کنوینشن ون ایٹی نائن کی توثیق کی، جس کے تحت گھریلو ملازمین کیلئے عالمی معیار فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، نشا ویریےا ہیومین رائٹس واچ سے تعلق رکھتی ہیں، وہ فلپائنی اقدام کی وضاحت کررہی ہیں۔

نشا”میرے خیال ایک وجہ تو یہ ہے کہ زمینی طور پر فلپائن میں گھریلو ملازمین کافی منظم ہیں، وہ کافی رصے سے حکومت پر زور ڈال رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ حکومت کو محسوس ہوا کہ اب پر ردعمل ظاہر کرنا ہوگا۔ فلپائنی عوام کے روزگار کا بڑا انحصار ان گھریلو ملازمین پر ہی ہے، جو سعودی عرب، کویت یا یورپ وغیرہ میں کام کرکے اپنے گھر رقم بھیجتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ حکومت ان گھریلو ملازمین کے حقوق کے تحفظ کیلئے ہرممکن بہتر اقدامات کررہی ہے، اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کررہی ہے کہ انہیں بنیادی تحفظ حاصل ہو”۔

ایک طرف جہاں فلپائن اس معاملے میں صف اول کا کردار ادا کررہا ہے وہیں دوسری جانب ایشیائی حکومتیں گھریلو ملامزین کے معاملے میں مکمل طور پر خاموش ہیں، انٹرنیشنل ڈومیسٹک ورکرز نیٹورک، انٹر نیشنل ٹریڈ یو نیئن کنفیڈریشن اور ہیومین رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق مختلف ایشیائی ممالک میں اب بھی گھریلو ملازمین جنسی تشدد، جسمانی تشدد اور دیگر مشکلات کا سامنا کررہے ہیں، اکثر گھریلو ملازمین خواتین اور نوجوان لڑکیاں ہیں، جنھیں اکثر ممالک کے قوانین میں کوئی تحفط ہی حاصل نہیں۔ کنفیڈریشن اس بارے میں بتارہی ہیں۔

نشا”ان معاشروں کے اندر یہ رویہ رچ بس چکا ہے کہ گھریلو ملازمین کی کوئی اہمیت نہیں، لوگ ان ملازمین کو مددگار یا خاندان کو حصہ تو کہتے ہیں، مگر ان کیساتھ سلوک ایسا نہیں ہوتا جیسا خاندان کے کسی رکن کیساتھ کیا جاتا ہے۔گھریلو ملازمین کو ہمیشہ بے کار اشیاءجیسا سمجھا جاتا ہے، اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے، خصوصاً خواتین کیساتھ تو کافی صنفی امتیاز برتا جاتا ہے”۔

ٹم دے مئیر عالمی ادارہ محنت کے لیبر اسٹینڈر اینڈ لیبر لاءکے ماہر ہیں۔

ٹیم دے میئر”میرے خیال میں آپ کو گھریلو ملازمین کو حقوق دینے کے بارے میں غور کرنا ہوگا، متعدد ممالک میں انتہائی نچلی سطح پر ان گھریلو ملازمین کو ان کے کام کی حیثیت سے شناخت دی گئی ہے”۔

فلپائن میں رواں سال جنوری میں ایک قانون منظور کیا گیا تھا، جس کے تحت بیس لاکھ کے قریب گھریلو ملازمین کی کم از کم تنخواہوں میں اضافے، سماجی، سیکیورٹی اور پبلک ہیلتھ انشورنس کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا تھا، انڈونیشیاءنے بھی رواں برس اس سے ملتا جلتا بل پارلیمنٹ میں پیش کیا، جسکی منظوری جلد متوقع ہے۔کمبوڈیا، سنگاپور اور تھائی لینڈ میں بھی اصلاحات متعارف کرائی جارہی ہیں، مگر اس حوالے سے پیشرفت کافی سست ہے،  اس حوالے سے اظہار خیال کررہے ہیں۔

ٹم “کب آپ گھریلو ملازمین کا معاملہ اتھاتے ہیں، تو درحقیقت آپ ان ورکرز کی بڑی تعداد کی بات کررہے ہوتے ہیں، جو ماضی میں ہماری نظروں سے غائب تھے، اب تبدریج ان پر ہونے والے مظالم پر روشنی ڈالی جارہی ہے اور ان کے حقوق کا احساس کیا جارہا ہے، کچھ معاملات میں عالمی ادارہ محنت کے طے کردہ بنیادی معیار کے مطابق یونینز کی تشکیل اور جبری مشقت کو روکنے کی صلاحیت کے بارے میں بات کی جاتی ہے، میرے خیال میں سیاسی عزم میں بہتری آئی ہے، اور ایشیاءکے بیشتر حصوں میں اس حوالے سے شعور بیدار ہوا ہے، میں کہنا چاہتا ہوں کہ سول سوسائٹی اداروں نے ان معاملات میں دلچسپی لینا شروع کردی ہے اور وہ صورتحال میں بہتری لانا چاہتے ہیں”۔