(Burma election)برمی انتخابات
برمی عوام آج کل گزشتہ ہفتے ہونیوالے ضمنی انتخابات میں جمہوریت پسند رہنماءAung San Suu Kyi کی کامیابی پر جشن منارہے ہیں۔ Aung San Suu Kyi کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی یا این ایل ڈی نے 45 میں سے 43 نشستیں جیت کر انتخابی دنگل جیت لیا، تاہم اب بھی پارلیمنٹ میں فوج کی حمایت یافتہ جماعتوں کا غلبہ ہے۔ موجودہ انتخابات کے بعد آسیان نے عالمی برادری سے برما پر عائد پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
برمی دارالحکومت رنگون کے نواحی علاقے Pago میں خواتین کا ایک گروپ گانے، رقص کرنے اور تالیاں بجانے میں مصروف ہے۔ برما کے بیشتر علاقوں کی طرح یہاں بھی بجلی کی فراہمی محدود ہے، مگر اس وقت لگتا ہے کہ ان لوگوں کو خود کوروشن کرنے کے لئے بجلی کی ضرورت نہیں۔
ویمن(female) “میں بہت بہت زیادہ خوش ہوں، یہ سننے کے بعد کہ ہم نے انتخابات جیت لئے ہیں خوشی کے مارے میری بھوک ہی اڑ گئی ہے”۔
ویمن 2(female) “میں بھی بہت زیادہ خوش ہوں، اس موقع پر میں چاہتی ہوں کہ گزشتہ دو دہائیوں میں اپنی تمام مشکلات سے لوگوں کو چیخ چیخ کر آگاہ کروں”۔
سرکاری ٹی وی نے اعلان کیا ہے کہ این ایل ڈی نے ضمنی انتخابات میں تاریخ ساز کامیابی حاصل کرتے ہوئے 45 میں سے 43 نشستیں جیت لی ہیں۔ ایک نشست فوجی حمایت یافتہ جماعت یو ایس ڈی پی اور ایک نشست Shan Party جیتنے میں کامیاب رہی۔ این ایل ڈی کے صدر دفاتر میں خوشی سے جھومتے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے Aung San Suu Kyi نے اپنے حامیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اب تبدیلی کا وقت آگیا ہے۔
(female) Aung San Suu Kyi “ہمیں توقع ہے کہ ہمارے ملک کی سیاست میں اب عوام کے بڑھتے ہوئے کردار سے ایک نیا دور شروع ہوگا۔ہمیں یہ بھی توقع ہے کہ ہم قومی مصالحت کو مزید فروغ دے سکیں گے۔ ہم ان تمام جماعتوں کا خیرمقدم کرتے ہیں جو ہمارے ساتھ مصالحتی عمل میں شریک ہوکر ملک میں امن و خوشحالی لانا چاہتے ہیں”۔
دارالحکومت میں این ایل ڈی کے چار نوجوان امیدوار ان علاقوں میں کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے جہاں فوجی جنرل رہائش پذیر ہیں۔ ان نوجوانوں میں سے ایک Zayar Thar بھی ہیں، جو معروف برمی hip-hop star ہیں۔
Aung San Suu Kyi نے دارالحکومت کے نواح میں واقع علاقے Kawhmu میں دو حریفوں کو شکست دیکر انتخابی عمل میں کامیابی حاصل کی، ان کا ایک حریف فوجی حمایت یافتہ جماعت یو ایس ڈی پی سے تعلق رکھتا تھا اور یہاں سے 2010ءکے عام انتخابات میں اسی جماعت کے امیدوار نے کامیابی حاصل کی تھی۔ Htay Oo یو ایس ڈی پی کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ انکی جماعت این ایل ڈی کے ساتھ ملکر کام کرنے کیلئے تیار ہے۔
(male) Htay Oo “یہ سب کو معلوم ہے کہ عوام اپنی پسند کے امیدواروں کو ووٹ دیتے ہیں، ہم این ایل ڈی کی کامیابی پر اس کے سوا کچھ کہنا نہیں چاہتے کہ ہمیں ان سے مستقبل میں مزید تعاون کی توقع ہے۔ ہم ہر اس جماعت کے ساتھ ملکر کام کرنے کیلئے تیار ہیں جو عوام کی بہتری کیلئے کام کرنا چاہتی ہو”۔
این ایل ڈی نے 1990ءکے عام انتخابات میں واضح کامیابی حاصل کی تھی، تاہم فوج نے نتائج کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے Aung San Suu Kyi کو طویل عرصے کے لئے گھر پر نظر بند کردیا، اسی وجہ سے این ایل ڈی نے 2010ءکے عام انتخابات کا بائکاٹ کیا، جس میں یو ایس ڈی پی نے کامیابی حاصل کی۔ اگرچہ ضمنی انتخابات میں این ایل ڈی نے تاریخی کامیابی حاصل کی ہے، تاہم اب بھی پارلیمنٹ میں یوایس ڈی پی اور فوج کو اسی فیصد نشستیں حاصل ہیں۔ Democractic Voice of Burma نامی ویب سائٹ کے تھائی لینڈ میں بیورو چیف Toe Zaw Latt کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی تو پہلا قدم ہے۔
(male) Toe Zaw Latt “اہم بات یہ ہے کہ اس سے پہلے برمی پارلیمنٹ میں کوئی حقیقی اپوزیشن موجود نہیں تھی، اگرچہ پہلے اسپیکر Thura Shwe Mann اور ان کی جماعت کسی حد تک حزب اختلاف کا کردار ادا کرتے رہے ہیں، تاہم میرے خیال میں Aung San Suu Kyi اس گروپ کے ساتھ ملکر حقیقی اپوزیشن لیڈر کا کردار ادا کرسکتی ہیں۔ جو کہ میری نظر میں انتہائی اہم بات ہے”۔
Aung San Suu Kyi انتخابی مہم کے دوران اپنی تقاریر میں آئینی اصلاحات کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ اس وقت آئین کے تحت فوج کو مرکزی سیاست میں اہم کردار حاصل ہے، جبکہ پارلیمنٹ کی 25 فیصد نشستیں بھی فوج کیلئے مختص ہیں، حال ہی میں فوج کے ایک سنیئر جنرل Min Aung Hlaing نے کہا ہے کہ فوج ملک میں جمہوریت کو فروغ دینے کیلئے کردار ادا کرے گی۔ Min Aung Hlaing آرمی چیف ہیں، 2008ءکے آئین کے تحت آرمی چیف کو اس وقت مکمل اقتدار حاصل ہوجائے گا جب قومی سطح پر ہنگامی حالات کے نفاذ کا اعلان کردیا جائے اور ہنگامی حالات کا اعلان بھی فوج کو خود ہی کرنے کا اختیار حاصل ہے۔Aung Naing Oo ایک برمی تھنک ٹینک کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں۔
(male) Aung Naing Oo “اس وقت Aung San Suu Kyi آئین میں ترامیم چاہتی ہیں، مگر فوج اس مرحلے پر اس چیز کی مخالفت کرے گی۔ یہ بات واضح ہے کہ اس نکتے پر دونوں فریقین کے درمیان اختلافات پیدا ہوں گے۔ برما میں انقلابی تبدیلی اسی صورت میں ممکن ہے جب پارلیمنٹ میں فوج کو اس پر قائل کیا جاسکے، مجھے توقع ہے کہ Aung San Suu Kyi اور آرمی چیف کے درمیان جلد ملاقات ہوگی، ایسا نہ ہوا تو آئینی ترامیم ایک خواب ہی رہے گی، اور ہمارے ملک میں سیاسی تبدیلی موثر ثابت نہیں ہوسکے گی”۔
