سندھ کے دیہی علاقوں میں خواتین کے اغوا ءاور جبری زیادتی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو خاصا تشویش ناک ہے، ایسا ہی ایک واقعہ ماتلی کی رہائشی ثمرین ثناءسومرو کے ساتھ پیش آیا، جسے ڈھائی ماہ قبل یونیورسٹی جاتے ہوئے اغواءکیا گیا تھا، ڈھائی ماہ تک اغواءکنندگان کی قید میں رہنے کے بعد ثمرین کسی طرح فرار ہو کر اپنے گھر پہنچنے میں کامیاب ہو سکی، ثمرین سومرو کا کہنا ہے کہ اُسکے محلے داروں نے اُسے اغوا کیا تھا، اس دوران وہ اُسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے، نشہ آور گولیاں کھلاتے رہے اور جب اُسکی حالت انتہائی خراب ہوئی تو اُسے میر پور خاص کے پرائیویٹ اسپتال لے آئے جہاں سے وہ اپنی بہن کی مدد سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی:
ثمرین ثناءسومرو کے اغوا ءکی پٹیشن ہائی کورٹ میں اُسکے والد عثمان سومرو کی جانب سے داخل کی گئی ہے،اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی ثمرین کا کہنا ہے کہ اُسے جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں،ثمرین نے حکومت اور انسانی حقوق کے اداروں سے مدد اور تحفظ کی اپیل کی ہے۔
مختلف سیاسی جماعتوں نے ثمرین ثناءکو انصاف دلوانے اور ملزمان کو عدالت کے کٹہرے تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا ہے،اس سلسلے میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ڈگری تھانے میں متعلقہ واقعے کی ایف آئی آر درج کروانے میں بااثر سیاسی شخصیات رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔۔۔زیادتی سندھ کی بیٹی کے ساتھ ہو یا دختر پنجاب کے ساتھ،بنت حوا کے ساتھ ہونے والا ظلم ناقابل معافی ہے،اس نوعیت کے واقعات کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کے بجائے پاکستان میں بسنے والی تمام خواتین کو تحفظ فراہم کرنے اور مجرمانہ ذہنیت کے حامل افراد کو عبرت ناک انجام تک پہنچانے کیلئے عملی اقدامات کئے جانے چاہئیں۔
