عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر کے نوے فیصد نابینا اور جزوی طور پر بنیائی سے محروم افراد ترقی پذیر ممالک میں رہائش پذیر ہیں، جن میں سے بیشتر بھارتی شہری ہیں۔بنیائی کے خاتمے کی ایک بنیادی وجہ بھینگا پن کا مرض ہے۔
نئی دہلی کی Katputli کالونی کی کچی بستی میں بچے کچرے میں سے قابل فروخت اشیاءتلاش کرکے خاندان کے اخراجات پورے کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ان بچوں کی زندگی بہت مشکل ہے مگر تیرہ سالہ حاکم علی کیلئے تو سخت ترین ہے۔
حاکم علی(male) “میں کبھی کبھی اچانک اندھا ہوجاتا ہوں، میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے اور مجھے کچھ نظر نہیں آتا”۔
حاکم علی کو بھینگے پن کا مرض لاحق ہے، جس کے باعث اسے کبھی کبھار بنیائی ختم ہونے کا تجربہ ہوتا ہے، مگر یہ مرض بڑھتا رہا تو وہ مستقل طور پر دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہوجائے گا۔ تین سال قبل ایک مقامی ہسپتال سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکنوں نے حاکم کے والدین کو کہا تھا کہ وہ ان کے بیٹے کی سرجری مفت کرنے کیلئے تیار ہیں، مگر حاکم کے گھروالوں نے انکار کردیا۔حاکم کی ماں اس بارے میں بتارہی ہیں۔
ماں(female) “ہماری ساری توجہ بس زندہ رہنے پر مرکوز ہے، اس لئے ہمارے پاس کسی اور مسئلے پر فکر مند ہونے کا وقت ہی نہیں ہوتا”۔
حاکم کے ساتھ ساتھ اسکا بھائی اور بہنیں بھی اس مرض کا شکار ہیں۔
مہیش کمار ایک بین الاقوامی فلاحی ادارے Orbis کے پروگرام منیجر ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ چار فیصد بھارتی بچے پیدائشی طور پر بھینگے پن کے شکار ہوتے ہیں، تاہم بیشتر کا علاج نہیں ہوپاتا۔
مہیش کمار(male) “بھارت اور نیپال میں متعدد جگہوں پر اگر بچہ بھینگا پیدا ہو تو اسے خاندان کیلئے خوش قسمتی کی علامت سمجھاجاتا ہے۔ یہ عقیدہ خاندان یا والدین کو اپنے بچوں کا علاج کرانے سے روکتا ہے”۔
بیشتر خاندان اپنے بچوں کا علاج ان کی شادیوں تک نہیں کراتے اور پھر سرجری کرانے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں، مگر اس وقت تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ Suma Ganesh، Dr. Shroff’s Charity Eye Hospital میں امراض چشم کی ماہر ہیں۔
(female) Suma Ganesh “جب آنکھیں بھینگے پن کا شکار ہوجائیں تو ہم ایک چیز دو نظر آنے لگتی ہیں، جسے double vision بھی کہا جاتا ہے۔ دماغ اس چیز کو پسند نہیں کرتا اور وہ ردعمل ظاہر کرتا ہے، جس سے بھینگے پن کی شکار آنکھ میں تصویر دھندلی ہوجاتی ہے۔ تو اس طرح بچے آہستہ آہستہ بنیائی سے محروم ہوجاتے ہیں”۔
بھارتی عوام میں موجود توہم پرستی کے مطابق بھینگے پن کا شکار بیٹا خوش قسمتی ساتھ لیکر آتا ہے مگر بیٹیوں کیلئے یہ سوچ بالکل مختلف ہے۔ حاکم کی بڑی بہن پچیس سالہ شبانہ کی شادی ہوئی اور ختم بھی ہوگئی جس کی وجہ بھینگا پن ہی بنا۔
شبانہ(female) “میرے سسرالی رشتے دار بھینگے پن کے باعث میرا مذاق اڑاتے اور مجھ پر تشدد کرتے تھے”۔
اب وہ اپنے بچے کے ہمراہ والدین کے ساتھ رہ رہی ہے، مہیش کمار کا کہنا ہے کہ بھارتی عوام کو بھینگے پن کے شکار بچوں سے متعلق خیالات تبدیل کرنے پر مجبور کرنا بہت مشکل کام ہے، تاہم اب ان کے ہسپتال کے سماجی کارکنوں نے ایک نئے طریقہ کار پر عمل شروع کیا ہے۔
کمار(male) “وہ والدین اور دیگر رشتے داروں کو علاج نہ کرانے کی صورت میں منفی اثرات سے ڈراتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ آپ کے بچے مستقبل میں اپنی بنیائی سے محروم ہوسکتے ہیں، ہوسکتا ہے کہ کچھ وقت لگے مگر اندھا ہونا ان کی قسمت کا حصہ ہے۔ کیا آپ اپنے بچے کو اندھا دیکھنا پسند کریں گے؟ اسے دوسروں کے سہارے پر زندگی گزارتا دیکھ سکیں گے؟ اس طرح یہ کارکن والدین کے جذبات سے کھیلتے ہیں، جس سے وہ ڈر کر اپنے بچوں کا علاج کرانے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں”۔
ایک سماجی کارکن اس وقت حاکم علی کے چچا ابراہیم سے بات کررہا ہے۔
ابراہیم(male) “میں اپنے بھتیجے کو علاج کیلئے بھیج کر اچھا محسوس کررہا ہوں، مجھے اس کی حالت پر افسوس ہوتا ہے، وہ اپنی آنکھوں کی وجہ سے سائیکل نہیں چلا سکتا یا معمول کی زندگی نہیں گزار سکتا”۔
ابراہیم کا کہنا ہے کہ اسکا ماننا ہے کہ بھینگا پن اچھی قسمت کی ضمانت نہیں۔ حاکم علی سماجی کارکنوں کو اپنے خاندان سے بات کرتے سن رہا ہے، اور وہ ہسپتال جانے کے خیال سے خوفزدہ ہے۔
حاکم(male) “میں ہسپتال جانے کے خیال سے کافی خوفزدہ ہوں”۔