بیٹی اللہ کی رحمت ہوتی ہے ،ماں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک دل کا قرار ہوتی ہے،لیکن ایک سنگدل باپ نے اپنی گھر آئی رحمت کو اپنے ہاتھوں سے زندہ درگور کر دیا۔یہ واقعہ ہے خانیوال کا جہاں ایک سفاک اور بے رحم باپ نے اپنی ایک دن کی بیٹی کو محض اس لئے زندہ دفن کر دیا کیونکہ وہ معذور تھی اور اس معصوم کا ایک قصور یہ بھی تھا کہ وہ پانچ بیٹیوں کے بعد مسلسل چھٹی بیٹی تھی۔پولیس کے مطابق سفاک باپ چاند خان نے بیٹی کو پیدائش کے محض ایک گھنٹے بعد ہی زندہ دفن کر دیا،اس سے پہلے باپ نے کوشش کی کہ ڈاکٹر اس کی بیٹی کو زہر کا انجکشن لگا دیں لیکن ڈاکٹروں نے ایسا کرنے سے صاف انکار کر دیا،جس کے بعد یہ ظالم شخص اپنی بیٹی کو مولوی صاحب کے پاس لے گیا اور بیٹی کو مردہ بیان کر کے اس نماز جنازہ پڑھانے کی درخواست کی،لیکن نماز جنازہ کے دوران معصوم جان رو پڑی جس کے بعد نماز جنازہ روک دی گئی ،لیکن پتھر دل باپ نے اپنی معصوم بیٹی کو ختم کرنے کی ٹھان لی تھی،اس لئے اس نے اپنی بیٹی کو قبرستان لے جا کر زندہ دفن کر دیا۔سنگ دل باپ کے مطابق اس کی بیٹی تدفین کے وقت مردہ تھی۔
باپ کے مطابق بچی عجیب الخلقت تھی جس کے چہرے کو دیکھ کر اسے خوف آتا تھا ،بچی کی آنکھیں اصل جگہ سے ہٹ کر تھیں،ڈاکٹروں کے مطابق بچی کے چہرے کا علاج ممکن تھا،اس با رے میں ڈا کٹر جا وید اکرم کہتے ہیں ،
مولانا اکرام نے بچی کو زندہ درگور کرنے کے اس دلخراش واقعے کو اسلامی احکامات اور اصولوں کے منافی قرار دیاہے،
اولاد کسی بھی شکل کی کیوں نہ ہو،چاہے وہ معذور ہی کیوں نہ ہوں ،والدین اپنے بچوں پر اپنی تمام تر محبتیں نچھاور کر دیتے ہیں،ڈاکٹر صابر حسین ایک معروف سائیکائیٹرسٹ ہیں ،ان کے مطابق چھٹی کی پیدائش اور وہ بھی معذور ہونے کی وجہ سے باپ نے شدید ذہنی صدمے کا شکار ہوکر یہ انتہائی قدم اٹھاےا،
پولیس نے شقی القلب باپ کو گرفتار کر کے اس کے خلاف دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے،جبکہ آج بچی کی قبر کشائی کر کے اس کا پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے ،لیکن ذہنوں میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ حوا کی بیٹی کب تک دور جاہلیت کی رسموں کا شکار بنتی رہے گی ،کیا اس معصوم فرشتہ صفت بچی کا قصور یہ تھا کہ وہ ایک لڑکی تھی ،یا پھر اس کا جرم معذور ہونا تھا؟ ان سوالوں کے جواب شاید ہمیں کبھی نہ مل سکیں ،کیونکہ عورت کے لئے اس کا عورت ہونا ہی اس کاسب سے بڑا قصور ہے۔