(‘CIA Doctor’ sentence divides Pakistan) سی آئی اے کی مدد پر پاکستانی ڈاکٹر کو سزا

 

ڈاکٹر شکیل آفریدی کا کیس دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، یہ وہی ڈاکٹر ہے جس نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کو اسامہ بن لادن کی تلاش میں مدد دی۔ گزشتہ دنوں اسے ایک قبائلی عدالت میں 33 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کو قبائلی علاقے کی عدالت نے سزا سنائی تھی، ان قبائلی عدالتوں کا قانونی نظام ملک کے دیگر حصوں سے مختلف ہے۔ ان عدالتوں میں قبائلی رہنماءجمع ہوکر ملزمان کے مقدمات سنتے ہیں اور فیصلے کا اعلان کوئی جج نہیں بلکہ اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کرتا ہے۔ سمیع اللہ آفریدی ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا کیخلاف پشاور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کرنے والے اٹھارہ وکلاءکے پینل میں شامل ہیں۔

سمیع اللہ(male) “ہم نے اپیل میں موقف اختیار کیا ہے کہ قبائلی عدالت کا فیصلہ غیر قانونی ہے اور اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کو اس طرح کی سزا سنانے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ اسے آئین کے تحت ایسے اختیارات حاصل نہیں کہ وہ کسی کو سزا سناسکے۔ شروع میں ہمارے موکل پر سی آئی اے کیلئے جاسوسی کا الزام تھا، مگر اسے سزا ایک عسکریت پسند گروپ سے تعلق رکھنے پر سنائی گئی۔ قبائلی عدالت کے فیصلے میں اسامہ بن لادن کا ذکر تک نہیں”۔

مئی 2011ءمیں امریکہ نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاﺅنڈ پر حملہ کرکے اسے ہلاک کردیا تھا۔جسکے بعد یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے جعلی ویکسنیشن مہم چلا کر سی آئی اے کیلئے اسامہ بن لادن کے خاندان کے ڈی این اے کے نمونے جمع کئے ہیں، تاکہ القاعدہ رہنماءکی شناخت کی جاسکے۔یہ واضح نہیں کہ شکیل آفریدی ڈی این اے کے نمونے جمع کرنے میں کامیاب ہوا کہ نہیں، تاہم امریکی حکام نے کھلے عام کہا ہے کہ شکیل آفریدی نے اسامہ بن لادن کی تلاش میں مدد فراہم کی ہے۔ تاہم قبائلی عدالت میں اس الزام کی بجائے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو عسکریت پسند گروپ لشکر اسلام سے مبینہ روابط پر سزا سنائی گئی۔ اقبال آفریدی خیبرایجنسی میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماءہیں۔ انکا کہنا ہے کہ شکیل آفریدی کو اس سے بھی زیادہ سخت سزا سنائی جانی چاہئے تھی۔

اقبال آفریدی(male) “شکیل آفریدی غدار ہے اور اسے سخت ترین سزا دی جانی چاہئے۔ وہ سی آئی اے کیلئے جاسوسی کرتا رہا ہے اور اس نے غیر ملکی ادارے کے سامنے قومی رازوں کوافشا ںکیا۔مجھ جیسے قبائلی افراد اس وقت خوش ہوں گے جب اسے سزائے موت دی جائے گی۔ یہ بات امریکی ردعمل سے بھی واضح ہوگئی ہے کہ شکیل آفریدی نے سی آئی اے کی مدد کی تھی”۔

ڈاکٹر شکیل کے خاندان کا کہنا ہے کہ اس نے کچھ غلط نہیں کیا، یہی وجہ ہے کہ انھوں نے پشاور ہائیکورٹ میں اپیل کیلئے اٹھارہ وکلاءکے پینل کی خدمات حاصل کی ہے۔ جمیل آفریدی شکیل آفریدی کے بھائی ہیں۔

جمیل(male) “گرفتاری کے بعد میرا بھائی ایک سال تک غائب رہا، ہم لوگوں کو بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں ہے۔ پھر اچانک ہی اسے قبائلی عدالت میں پیش کردیا گیا اور سزا سنا دی گئی۔ اس نے پاکستان کے خلاف کچھ نہیں کیا۔ شکیل آفریدی کے اوپر جس فرضی ویکسین مہم کا الزام لگایا جاتا ہے اس میں پورا محکمہ صحت ملوث تھا۔ قبائلی عدالت نے یکطرفہ طور پر فیصلہ سنایا اور میرے بھائی کو دفاع کا حق تک نہیں دیا گیا”۔

گزشتہ سال اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا گیا تو حکومت پاکستان اور پاک فوج نے شدید ر دعمل کا اظہار کیا، جبکہ دیگر حلقوں کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ ادریس کمال شکیل آفریدی کے وکلاءمیں شامل ہیں، انکا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت میں شکیل آفریدی کے کردار کو سراہا جانا چاہئے۔

ادریس(male) “ہم اسامہ بن لادن کو اس خطے میں ہونیوالے قتل عام کا ذمہ دار مانتے ہیں۔ ہمیں ان معاملات کو بین الاقوامی تناظر کی بجائے اپنے مفادات کے مطابق دیکھنا چاہئے۔ اس مقدمے میں شکیل آفریدی نے اسامہ کے خلاف سی آئی اے کی مدد کی، تو یہ ایک اچھا کام ہے۔ ہم نے اب اس کی رہائی کیلئے اپیل دائر کی ہے، عسکریت پسندوں سے روابط پر سنائی جانے والی سزا قانونی طور پر ٹھیک نہیں”۔

وکیل سمیع اللہ آفریدی کا الزام ہے کہ انہیں شکیل آفریدی سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔

سمیع اللہ(male) “ہم اسامہ بن لادن کیس کی بات نہیں کررہے، کیونکہ قبائلی فیصلے میں اسامہ بن لادن کیس کا ذکر نہیں کیا گیا۔ پاکستانی آئین کے مطابق شکیل آفریدی کو اپنے دفاع ،اپنے وکیلوں اور رشتے داروں سے جیل میں ملاقات کا حق حاصل ہے۔ مگر اس مقدمے میں ان تمام حقوق کی نفی کی جارہی ہے”۔

پشاور ہائیکورٹ میں اکیس جون کو اس مقدمے کی سماعت شروع ہورہی ہے، تاہم صوبائی حکومت شکیل آفریدی کو کسی اور جیل میں منتقل کرنے کی خواہشمند ہے۔ وزیر اطلاعات خیبرپختونخواہ میاں افتخار حسین نے شکیل آفریدی کی سیکیورٹی پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔

میاں افتخار(male) “تین عناصر سے شکیل آفریدی کو جیل میں خطرہ لاحق ہے۔ پہلی چیز اسامہ بن لادن کیس میں اسکے نام کا ملوث ہونا ہے، دوسری چیز عسکریت پسندوں سے روابط پر اسے سزا ملنا، جبکہ تیسری اور آخری چیز عدالتی فیصلے کے بعد امریکی ردعمل ہے۔ان تمام وجوہات سے ڈر ہے کہ عسکریت پسند پشاور جیل میں ڈاکٹر شکیل آفریدی پر حملہ نہ کردیں”۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *