Girls School in Sanghar سا نگھڑ میں لڑکیو ں کے تعلیمی مسائل

صوبہ سندھ کے کئی اضلاع میں لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے خاصے مسائل دیکھنے میں آتے ہیں ،صوبائی وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کا کہنا ہے کہ سندھ بھر میں74فیصد لڑکیاں اسکولوں میں تعلیم حاصل نہیںکرپاتی ہیں جسکے بیش نظر اندرون سندھ میںتعلیم کے حوالے سے اقدامات بھی کئے جاتے رہے ہیں ۔ ضلع سانگھڑ صوبہ سندھ کا سب سے بڑا ڈسٹرکٹ ہے یہا ں بھی گرلز اسکولوں کے حوالے سے مسائل موجود ہیں ،سندھ بھر میں بند پڑے ہوئے اسکولوں کے حوالے سے جب ہم نے سانگھڑ میں قائم سوشل ڈیموکریٹک ہیومن آرگنائزیشن سے منسلک رفیعہ گُلانی سے بات کی تو انھوں نے بتایا :
اس حوالے سے یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ضلع سانگھڑ سمیت دیگر اضلاع میں اسکولوں کے قیام کے لئے کوئی باقاعدہ پالیسی ترتیب نہیں دی گئی ہے جن علاقوں میں ضرورت ہے وہاں سرے سے کوئی اسکول نہیں اور کسی علاقے میں بغیر تعلیمی سہولیات کے ایک سے زائد اسکول موجود ہیں، جبکہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جو چند ایک اسکول موجود ہیں اُن میں علاقے کے مقامی اساتذہ نے اپنے خاندان سمیت رہائش اختیار کر رکھی ہے:
نہ صرف گرلز اسکول بلکہ گرلز کالجز کی حالت بھی تسلی بخش نہیں ہے :
گزشتہ کچھ عرصے کے دوران سانگھڑ سمیت دیگر اضلاع میں مختلف این جی اوز کی جانب سے گرلز اسکولز کھولے گئے ہیں جہاں نہ صرف طالبات کو ظائف دئیے جاتے ہیں بلکہ بہتر تعلیمی سہولیات بھی دی جاری ہیں لیکن ان اسکولوں کی تعداد انتہائی کم ہے جسکی وجہ سے شرح خواندگی میں کوئی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا ہے، رفیعہ گُلانی کا کہنا ہے کہ مقامی لوگ لڑکیوں کو اسکول اس لئے بھی نہیںبھیجتے کیونکہ اسکولوں میں خواتین ٹیچرز موجود نہیں ہیں:
مختلف این جی اوز کی جانب سے ضلع سانگھڑ میں کئی گرلز اسکولوں کو ٹیک اوور کیا گیا ہے جہاں طالبات کو وظائف بھی دیے جا تے ہیں جو خوش آئند امر ہے ، سرکاری اور نجی اداروں کے تعاون سے اس دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے لڑکیوں کو زیر تعلیم سے آراستہ کر سکیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *