Santosh Kumar’s Death Anniversary سنتوش کما ر کی برسی

قرار لوٹنے والے توپیار کو ترسے جیسے سپرہٹ گیتوں اور اپنی اداکاری سے شائقین کا قرار لوٹ لینے والے پاکستانی فلم انڈسٹری کے تاریخ ساز ہیرو سید موسیٰ رضا المعروف سنتوش کمار پچیس دسمبر 1925ءکو لاہور میں پیدا ہوئے۔
پاکستانی فلم انڈسٹری کے پہلے سپراسٹار ہیرو نے قیام پاکستان سے قبل انہوں نے انیس سو سینتالیس میں بھارت میں پہلی فلم میں کام کیا۔
پاکستان بننے کے بعد وہ لاہور آگئے اور انیس سو پچاس میں پہلی پنجابی فلم بیلی میں جلوہ گر ہوئے۔ اسی سال انہوں نے پاکستان کی پہلی اردو سلور جوبلی فلم دوآنسو میں ہیروکا تاریخ ساز کردار اداکیا۔
تاہم 1957ءمیں ریلیز ہونے والی فلم سات لاکھ اور وعدہ نے سنتوش کمار کو پاکستانی فلمی صنعت کا پہلا سپر اسٹار بنا دیا۔
سات لاکھ کے گیت یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں یا آئے موسم رنگیلے سہانے آج تک لوگوں کی زبانوں پر رواں ہیں۔
اسی طرح فلم وعدہ کا گیت جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں کون بھول سکتا ہے۔
سن پچاس کے عشرے میں صبیحہ خانم اور سنتوش کمار کی جوڑی سپرہٹ قرار پائی اور غلام ، رات کی بات، قاتل، انتقام، حمیدہ، سرفروش ،عشقِ لیلیٰ، وعدہ، سردار، سات لاکھ، حسرت، مکھڑا، دربار وغیرہ انتہائی کامیاب ثابت ہوئیں۔
سنتوش کمار کے بیشتر گانے سپر ہٹ ثابت ہوئے، جیسے دلا ٹھہر جا یار دا نظارہ لین دے اور مجھ کو آواز دے تو کہاں ہے وغیرہ۔
فلم وعدہ اور سات لاکھ کی شوٹنگ کے دوران صبیحہ خانم اور سنتوش کمار ایک دوسرے کے بہت قریب آ گئے اور بالآخر دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔
سنتوش کمار پہلے ہی شادی شدہ تھے اور آخری دم تک ا±ن کی دونوں شادیاں قائم رہیں۔
پاکستان کا پہلا نگار ایوارڈ بھی فلم وعدہ کیلئے سنتوش کے حصے میں آیا جو انھوں نے فلم وعدہ میں حاصل کیا۔سنتوش اپنے دور کے ایک اور معروف ہیرو درپن اور فلم ڈائریکٹر سید سلیمان کے بھائی تھے۔ انیس سو پچاس سے 1982ءتک 86 فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھانے والاپاکستان کا یہ تاریخ ساز فنکار گیارہ جون انیس سو بیاسی کو چھپن سال کی عمر میں انتقال کر گیا تاہم سنتوش کمار کا فن اور اعزازات ہمیشہ پاکستانی فلم انڈسٹری کی تاریخ کا حصہ رہیں گے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *