ڈل نامی جھیل مقبوضہ کشمیر کے صدر مقام سرینگر میں سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے، جبکہ اس شہر میں پانی کی فراہمی کیلئے بھی اس جھیل کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، مگر یہ خوبصورت جھیل آلودگی اور تجاوزات کے باعث آہستہ آہستہ مر رہی ہے، اسی حوالے سے سنتے ہیں آج کی رپورٹ
یہ کشمیر میں سیاحوں کی آمد میں اضافے کا وقت ہے اور جھیل ڈل کے کنارے پر لوگوں کا ہجوم نظر آرہا ہے۔ 27 سالہ انجنئیر پراسن جیت مغربی بنگال سے تعلق رکھتا ہے، وہ پہلی بار یہاں آیا ہے۔
پراسن”میں نے اس جھیل اور اس کی خوبصورتی کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا، مگر میں نے اسے صرف ٹی وی پر دیکھا تھا، اب یہاں آکر اپنی آنکھوں سے اسے دیکھنا بہت زبردست تجربہ ثابت ہوا ہے، پہاڑی کی چوٹی پر واقع مندر کا منظر انتہائی زبردست ہے، یہ بالکل جنت جیسا منظر ہے، جیسا کشمیر کو اکثر کہا بھی جاتا ہے”۔
یہ جھیل صرف سیاحوں کا پسندیدہ مقام نہیں بلکہ سرینگر کے ساٹھ ہزار باسیوں کیلئے پانی کا اہم ترین ذریعہ بھی ہے۔
تاہم مقامی ماہی گیر محمد شفیع کا کہنا ہے کہ اب یہ پانی پینے کیلئے تو کیا نہانے کے بھی قابل نہیں رہا۔
شفیع”جب ہم نوجوان تھے تو یہ پانی پیتے تھے مگر اب یہاں نہانے کے بعد میری جلد پر الرجی اور خارش ہونے لگتی ہے، یہ پانی بہت گندا ہوگیا ہے اور لوگوں نے ہی اسے ایسا بنایا ہے”۔
کشمیر یونیورسٹی کا ایک حالیہ سروے اس بات کی تصدیق کرتا ہے، یونیورسٹی کے ماحولیاتی سائنس کے پروفیسر ارشد جہانگیر کا کہنا ہے کہ جھیل میں آلودگی کی شرح خطرناک سطح پر پہنچ چکی ہے۔
جہانگیر”نباتات اور حیوانات کی نسلوں کی تعداد میں کمی آئی ہے، خصوصاً ماضی میں عام نطر آنے والی مچھلیاں یا دیگر حیات اب غائب ہوچکی ہیں۔ مثال کے طور پر بیس سال قبل یہاں سولہ اقسام کی مچھلیاں موجود تھیں مگر اب یہ تعداد نو رہ گئی ہے”۔
آلودگی کی بنیادی وجوہات میں سیوریج کا پانی اور کچرا وغیرہ ڈالنا ہے، جو کہ جھیل کے ارگرد واقع کارخانوں اور گھروں سے اس میں ڈالا جارہا ہے، پندرہ سال قبل ریاستی اور مرکزی حکومت نے اس جھیل کی صفائی کا منصوبہ شروع کیا تھا، محکمہ سیاحت کے ڈائریکتر حسین میر کا دعویٰ ہے کہ یہ مہم کامیاب رہی۔
میر”ہم نے سب سے پہلے کچرے پر توجہ دی، جو جھیل کے ارگرد آبادی کی جانب سے براہ راست دالا جارہا تھا، لیکس اینڈ واٹر ویز ڈویویلیپمینٹ اتھارٹی نے نکاسی آب پر کام کرتے ہوئے سیوریج لائن جھیل کر گرد ڈالی، اب تمام گندا پانی اور کچرا سیوریج پلانٹس میں جارہا ہے”۔
مگر اب بھی ایک چیز مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
یہاں ایک ہزار سے زائد بوٹ ہاﺅس جھیل میں چلانے کیلئے رجسٹرڈ ہیں، جن میں کچرے کو تلف کرنے کا کوئی نطام موجود نہیں، یہ تیرتے ہوئے ہوٹل سیاحوں میں بہت مقبول ہین اور حسین میر کا کہنا ہے کہ حکومت کا ان کشتیوں کو ہٹانے کا کوئی ارادہ نہیں۔
میر”ہاﺅس بوٹ ڈل کی خوبصورتی ہیں، یہ ہماری چقافت کا حصہ ہیں اور دنیا کے دیگر حصوں میں یہ نظر نہیں آتے۔ ہمیں اسے تحفط دینا چاہئے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اس وجہ سے پیدا ہونے والی آلودگی روکنے کے طریقہ کار پر بھی سوچنا چاہئے، ہاﺅس بوٹس کا کچرا براہ راست جھیل میں چلا جاتا ہے جو ایک بڑا چیلنج ہے”۔
مگر ایک ہاﺅس بوٹ کے مالک عبدالرحیم اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔
عبدالرحیم”ہم نسلوں سے اس جھیل میں موجود ہیں مگر کبھی یہ مسئلہ پیدا نہیں ہوا، ہم اس کی صفائی کیلئے ہرممکن اقدامات کرتے ہیں، کیونکہ یہ ہمارے روزگار کا زریعہ ہے،کوئی بھی سیاح آلودہ میں نہیں آئے گا، ہم ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ ہم جھیل کے تحفط کیلئے ہر ایک کیساتھ ملکر کام کریں گے، مگر ہم الزام عائد کرنا غیرمنصفانہ عمل ہے”۔
آج کل جھیلوں کی صفائی مشینوں کے ذریعے کرنا آسان ہے، مگر ماحولیاتی رضاکار جیسے بشارتاحمد کا کہنا ہے کہ یہ اتنا بھی آسان نہیں۔
احمد”وہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بننے والے چند جگہوں کو چنتے ہیں اور محدود حصے میں صفائی کرتے ہیں، اور یہ کام بھی اکثر اور مناسب طریقے سے نہیں کیا جاتا، وہ اندرنی سطح کو دیکھتے بھی نہیں اور اگر آپڈل پر جائے تو اس کو اس صورتحال میں دیکھنا بھی گوارا نہیں کریں گے۔ اگر صورتحال برقرار رہی تو چند سال بعد آپ اس جھیل کو دیکھ نہیں سکیں گے”۔
اور صرف آلودگی ہی واحد خطرہ نہیں۔
تین دہائیوں قبل یہ جھیل پچیس کلومیٹر تک پھیلی ہوئی تھی مگر اب اس کا رقبہ پچاس فیصد تک کم ہوگیا ہے، طارق احمد پالوایک تنطیم سیو ڈل کمپینگ کے کوآرڈنیٹر ہیں۔
پلو”تجاوزات اس حد تک پھیل چکی ہے کہ ایک فائیو اسٹار ہوٹل بھی ڈل پر تعمیر کردیا گیا ہے، مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کس طرح راتوں رات پچاس کمروں یا بیس کمروں کا ہوٹل قائم ہوجاتا ہے، انہیں اس کی اجازت کون دیتا ہے؟ جب تک انتطامیہ اس کام میں ملوث نہ ہو ایسا ہو ہی نہیں سکتا”۔
انتظامیہ کا اصرار ہے کہ وہ غیرقانونی تجاوزات ہٹانے کیلئے اقدامات کررہی ہے، مگر ایسا ہوتا نطر نہیں آرہا۔
پلو”ایسا لگتا ہے کہ قبضہ مافیا اور انتطامیہ کے درمیان کوئی معاہدہ ہے، تو اگر کوئی چیز ہٹائی بھی جاتی ہے تو کچھ وقت کے بعد اسے دوبارہ تعمیر کرلیا جاتا ہے، مجھے کوئی ایسی تجاوزات دکھائیں جو گرانے کے بعد دوبارہ اسی جگہ تعمیر نہ ہوئی ہو”۔
انکا کہان ہے کہ حکومت نے تحریک آزادی کے باعث ماحولیاتی تحفطات پر زیادہ توجہ نہیں دی، اس وقت وادی میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔
متعدد این جی اوز اور ادارے عوامی شعور اجاگر کرنے کیلئے ریلیاں نکالتی رہتی ہیں، مگر لگتا ہے کہ عام افراد کو کوئی پروا نہیں۔ ارشد جہانگیر کا کہان ہے کہ جھیل کی حالت جلد از جلد بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔
جہانگیر”کشمیر کی صورتحال ایسی ہے کہ یہاں لوگ خود کو محفوط نہیں سمجھتے، یہاں کوئی آزادی نہیں، امن کا نام و نشان نہیں اور لوگوں کو سب سے پہلے اپنے تحفط کی فکر ہوتی ہے، پھر وہ ماحولیات کے بارے میں کیسے سوچیں گے؟ جب تک لوگوں کے اندر اپنے ورثے کا تحفط کا احساس پیدا نہیں ہوگا اس وقت تک جھیل کی حالت میں بہتری نہیں آئے گی”۔