دو درجن رقاص معمول کے مطابق وین کیشن بیلے ڈانسنگ اسکول میں بیلے ڈانس کی مشق کررہے ہیں، یہ اسکول بیجنگ کے مشرقی علاقے میں واقع ہے۔ پچیس سالہ فین ہوئی می بھی اس رقص کی تربیت حاصل کررہی ہیں۔ انھوں نے اس رقص کیلئے اپنے والدین کے اعتراضات کے باوجود اپنی ملازمت چھوڑ دی۔
فین ہوئی می : والدین میرے بیلے ڈانس سیکھنے کے مخالف تھے کیونکہ اس رقص کا مخصوص لباس نوجوان چینی خواتین کیلئے مناسب نہیں سمجھا جاتا، مگر تبدریج انکا ذہن اس وقت تبدیل ہونے لگا جب انھوں نے دیکھا کہ یہ رقص کتنا خوبصورت اور فنکارانہ ہے، جب انھوں نے ٹی وی پر ہماری پرفارمنس دیکھی تو میری ماں کو مجھ پر فخر محسوس ہوا”۔
یہ بیلے ڈانسنگ اسکول سابق گلوکارہ وین کیشن نے کھولا، انھوں نے ایک دہائی قبل یہ رقص مصر میں ایک میوزک وڈیو ریکارڈ کراتے ہوئے سیکھا تھا ´ اس کے بعد انھوں نے بیجنگ کا پہلا بیلے ڈانس کلب اور اسکول قائم کیا، اب ان کے چین بھر میں 63 بیلے ڈانسنگ اسکول ہیں جن میں ایک لاکھ افراد اس رقص کی تربیت حاصل کررہے ہیں۔
وین کیشن : یہاں تین طرح کے لوگ بیلے ڈانس سیکھنے کے خواہشمند ہیں، ان میں سے بڑی اکثریت تو ان افراد کی ہے جو بیلے ڈانس سیکھ کر اس طرح کے اپنے اسکول کھولنا چاہتے ہیں، دوسرے نمبر پر ایسے طالبعلم ہیں جو بیلے ڈانس کے اسٹار بننے کے خواہشمند ہیں، یہ لوگ ہوٹلوں وغیرہ کی بجائے تھیٹرز اور اسٹیڈیمز میں اس رقص کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں جوکہ چین میں مقبول ہیں۔ تیسرے نمبر پر ایسے لوگ ہیں جو اس رقص کو سیکھ میرے گروپ یا کسی اور گروپ مٰں شامل ہوکر چائنا بیلے ڈانسنگ سپراسٹار بننا چاہتے ہیں، ہمارے بیشتر طالبعلم اس رقص کیلئے فٹ ہیں اور یہ ان کا مشغلہ بن چکا ہے”۔
تیس سالہ تاو شو لوئی :نے وسطی چین کے شہر ژنگھوا سے بزنس میں ڈگری حاصل کررکھی ہے، وہ 2007ءسے یہ رقص سیکھ رہی ہیں۔
تاو ژو لوئی: جب میں نے اسے سیکھنا شروع کیا تو بہت مشکل کا سامنا کرنا پرا، ہر طالبعلم کو شروع میں مشکل ہوتا ہے، مگر میری انسٹرکٹر بہت مددگار ثابت ہوئی، اس نے میری حوصلہ افزئی کی اور ہر غلط چیز کو بار بار دوہرانے پر زور دیا۔ آہستہ آہستہ میرے اندر اعتماد پیدا ہوگیا اور میں بہتر ہوگئی”۔
اب وہ اپنا مستقبل بیلے ڈانس کو سیکھانے میں دیکھ رہی ہیں، وہ اب صوبہ ھینان میں نئی وین کیشن اکیڈمی کھولنے کیلئے تیار ہیں۔
تاوژو لوئی :اب ھینان میں متعدد افراد بیلے ڈانس کو سیکھنے کے خواہشمند ہیں، خصوصاً اس وقت کے بعد سے جب میں نے مقامی ٹی وی پر اپنے رقص کا مظاہرہ کیا”۔
چین میں صرف خواتین ہی اس رقص کو سیکھنے میں پیش پیش نہیں، 32 سالہ یو پینگ بو بیلے ڈانس کے سپراسٹار سمجھے جاتے ہیں، وہ بیجنگ میں اپنا اسکول بھی چلا رہے ہیں، جبکہ وہ اکثر مشرق وسطیٰ اور دیگر ایشیائی ممالک میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔
یو پینگ بو : پہلے کے مقابلے میں لوگ اب بیلے ڈانس کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں، میں نے مصر کی معروف بیلے ڈانس انسٹرکٹر سے بات کی تھی، جس نے بتایا کہ ہمارے بیلے ڈانس ایونٹ دنیا میں سب سے بہترین ہوتے ہیں، وہ دنیا بھر میں اس رقص کے ایونٹس میں شریک ہوتی ہیں، میں نے دیگر ممالک کا بھی دورہ کیا ہے اور میرے خیال میں وہاں بیلے ڈانس کا معیار بہت بلند ہے، جس کی چند وجوہات ہیں، اس کے مقابلے میں مغربی ممالک میں عملے اور جائیدادوں کے اخراجات بہت زیادہ ہیں، اس لئے وہ چین کے مقابلے میں کافی پیچھے ہیں”۔
وین کیشن نے چین میں اس رقص کو فروغ دینے کیلئے کافی بڑے منصوبے بنارکھے ہیں۔
وین کیشن : اگلے برس ہم مختلف شہروں میں پانچ سے آٹھ مزید اکیڈمیاں کھولیں گے، اس کے علاوہ ہم ایک بڑے مصری میلے کی بھی منصوبہ بندی کررہے ہیں، جس میں ہم دنیا کے بڑے اسٹارز کو مدعو کریں گے، تاکہ ہمارے لوگ ان کے رقص سے محظوظ ہوسکیں”۔