باسل فرنانڈو :یاپوانزکے عوام کی سیاسی تحریک کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوشش تھی، کیونکہ یہ اپنے مسائل کے حل کیلئے سیاسی جدوجہد میں مصروف تھے اور اپنے صوبے کے قدرتی وسائل کی ملکیت کا کچھ حصہ اپنی ترقی کیلئے وقف کرانا چاہتے تھے، ان دنوں پاپواکے لوگوں پر حکومت کی جانب سے زور دیا جارہا تھا کہ وہ اپنے سیاسی مطالبہ سے دستبردار ہوکر انتظامیہ کو ان کے قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے دیں، جبکہ عام لوگوں کو اسسے کوئی فائدہ نہیں ہوگا”۔
سوال”اس وقت کس قسم کا تشدد کیا جاتا تھا؟
باسل فرنانڈو:پہلے تو ہیلی کاپٹرز کا استعمال کیا گیا، جن کے ذریعے نیپام اور کلسٹر بم اس علاقے میں برسائے گئے، ان بموں سے پورا علاقہ متاثر ہوا اور لوگوں کو اب تک جسمانی مسائل کا سامنا ہے۔ یہاں خواتین کو سرعام زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ ان پر انتہائی تشدد بھی کیا گیا۔ اس زمانے میں تشدد کی مختلف اقسام کے ذریعے بڑے پیمانے پر لوگوں کو نشانہ بنایا، اور اب بھی کسی نہ کسی سطح پر یہ سلسلہ جاری ہے”۔
سوال”یہ سب کچھ سابق صدر سہارتو کے دور میں ہوا، کیا آپ کے خیال میں اس تشدد کے نتیجے کا زمہ دار انہیں قرار دیا جاسکتا ہے؟
باسل فنانڈو:جی ہاں سہارتو اس سب کا ذمہ دار ہے، مگر عام قانون کی نظر سے دیکھا جائے تو ریاست کی اسکی ذمہ دار سمجھی جاسکتی ہے، انڈونیشین ریاست اس طرح کے معاملات کی ذمہ دار ہے، خصوصاً اس معاملے کی مناسب تحقیقات کے ذریعے ریاست کو ہی انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوتا ہے”۔
سوال”اس رپورٹ کے بعد آپ انڈونیشین حکومت سے کس جواب کی توقع رکھتے ہیں؟
باسل فرنانڈو:ہماری رپورٹ ایک سول سوسائٹی ادارے کی رپورٹ ہے، ہم نے اس کیلئے طویل عرصے تک کام کیا، تاہم یہ ایک ابتدائی اور حقائق تلاش کرنے والی رپورٹ ہے، اگر آپ اگلے مرحلے میں جانا چاہتے ہیں تو آپ کو پیشہ وارانہ فوجداری تحقیقات کرانا ہوگی، تمام شواہد اکھٹا کرنا ہوں گے اور پھر حکومت فیصلہ کرے گی کہ کیا اتنے شواہد دستیاب ہیں کہ ملزمان کیخلاف کارروائی کی جائے یا سچائی کمیشن کے ذریعے انصاف کے حصول کو یقینی بنایا جائے۔ مثال کے طور پر اگر اس معاملے پر سچائی کمیشن قائم کیا جاتا ہے تو ہزاروں مقامی افراد اس سے بات کریں گے، وہ لوگ اپنے تجربات سے اس کمیشن کو آگاہ کریں گے، اس زمانے میں مظالم کا نشانہ بننے والے متعدد افراد زندہ ہیں اور وہ اس بارے میں سب کچھ بتاسکتے ہیں۔ اس کے بعد بہت زیادہ کام کرنا پڑے گا، زرتلافی یا دیگر اقدامات کرنا ہوں گے، مگر سب سے پہلے انڈونیشین حکومت کو اس حوالے سے ایسے سیاسی فیصلے کرنا ہوں گے جن سے متاثرہ افراد کی تسلی ہوسکے”۔