جالانن نامی دستاویزی فلم سات برس کے عرصے میں تیار ہوئی اور اسے کینیڈین صحافی ڈینئیل زیو نے تیار کیا۔
ڈینئیل زیو : میں ہمیشہ سے ان اسٹریٹ میوزیشن سے متاثر رہا ہوں، شمال مشرقی ایشیاءمیں تو یہ رجحان بہت منفرد ہے، کہیں اور بھی اس طرح چھ سے سات ہزار میوزیشن اپنے سیاسی اور سماجی پیغامات کو اس طرح پھیلانے کا کام نہیں کرتے، اسی لئے میں نے ان پر دو فیچرز لکھے اور پھر اپنی کتاب مکمل کی، مگر مجھے ہمیشہ اپنا کام محدود محسوس ہوا، جس میں ان کی آواز اور رنگ دکھائی نہیں جاسکی، یہی وجہ ہے کہ میں نے ان کی کہانی وڈیو کی شکل میں پیش کرنیکا فیصلہ کیا”۔
فلم کے مرکزی کردار کی تلاش کیلئے ڈینئیل نے گلیوں میں آڈیشن کرائے، اس کے لئے وہ جکارتہ بھر کی بسوں میں سفر کرکے ان سازندوں کا مشاہدہ کرتے رہے۔
ڈینئیل : میں ایسے سازندوں کی تلاش میں تھا جو خاص قسم کی صلاحیت رکھتے ہو، میں انڈونیشن آئیڈیل یا امریکن آئیڈیل جیسا معیار نہیں چاہتا تھا مگر ان میں کم از کم گانے اور موسیقی بجانے کی صلاحیت تو ہونی چاہئے، جبکہ میں ایسے افراد چاہتا تھا جو شخصی طور پر بھی منفرد ہوں تاکہ اسکرین پر اچھے نظر آسکیں، میرے خیال میں ایک اچھی دستاویزی فلم کیلئے یہ ضروری ہے، اور میں ایسے سازندے چاہتا تھا جو اپنے گانے خود لکھتے ہو کسی کی نقل نہ کرتے ہوں، اور جب میں میری ملاقات ہو، بونی اور ٹیٹی سے ہوئی تو مجھے فوراً اندازہ ہوگیا کہ یہی وہ افراد ہیں جن کیساتھ میں کام کرنا چاہتا ہوں، میں ان سے کئی ہفتوں تک ملتا رہا، ان کے ساتھ کام کرنا جوئے سے کم نہیں تھا، تاہم میں ان کی کہانی اور شخصیت سے بہت متاثر ہوا، اور میری فلم دیکھنے والے بیشتر افراد کا کہنا ہے کہ فلم کی جان ہی ان تینوں کی منفرد شخصی خصوصیات ہے”۔
ہوکا کہنا ہے کہ وہ کافی عرصے سے کسی ایسے شخص کا منتظر تھا جو اس کی زندگی پر فلم بنائے۔
ہو : میں ہمیشہ سے اپنی زندگی پر فلم بنانا چاہتا تھا، اور مجھے جلد اندازہ ہوگیا تھا کہ ڈینئیل جھوٹ نہیں بول رہا یا مذاق نہیں کررہا بلکہ وہ سنجیدہ ہے۔ میں نے اس سے پوچھا تھا کہ کیا تم سنجیدہ ہو؟ اگر تم واقعی سنجیدہ ہو تو میں بھی اس کام کیلئے سنجیدہ ہوں۔ ڈینئیل نے مجھ سے کہا کہ وہ واقعی سنجیدہ ہے، جس پر میں نے کہا کہ ٹھیک ہے میں تیار ہوں”۔
مگر بونی شکوک و شبہات کا شکار تھا۔
بونی : یہاں ایسے صحافی موجود ہیں جو یہاں آتے ہیں اور ہماری کہانیوں سے پیسے بناتے ہیں، وہ ہم جیسے اسٹریٹ میوزیشن اور بچوں کو اپنے فائدے کیلئے استعمال کرتے ہیں، میں اس چیز سے نفرت کرتا ہوں، میں ایسے صحافیوں سے ملنا چاہتا ہوں جو میرے ساتھ رہے، مجھ سے بات کرے، میرے ساتھ کھانا کھائیں، اور یہ صرف پیسے کیلئے نہیں بلکہ یہ بتانے کیلئے ہو کہ جکارتہ میں زندگی کتنی زیادہ مشکل ہے”۔
ٹیٹی کا کہنا ہے کہ اس کے دوستوں نے ڈینئیل کے عزائم پر شکوک کا اظہار کیا تھا۔
ٹیٹی : “میرے کچھ دوست حسد کرنے لگے تھے، انکا کہنا تھا کہ کہ تم اس غیرملکی کیساتھ کیا کررہی ہو؟ کیا تم بیوقوف ہو، وہ صرف تمہاری تصاویر کھینچے گا اور انہیں بیرون ملک فروخت کردے گا، جس پر میں کہتی تھی کہ یہ اس کا حق ہے، اگر ہم کسی کو خوش کرسکتے ہیں تو یہ بات سب سے اہم ہے”۔
ان تینوں نے ڈائریکٹر ڈینئیل زیو سے سات برسوں کے درمیان کافی قریبی تعلق قائم کرلیا تھا، اور اس فلم میں ان کے جیل میں جانے کے مناظر بھی شامل ہیں، ہو کو جوئے بازی پر جیل جانا پڑا، بونی کا گھر سیلاب کے نتیجے میں تباہ ہوا، جبکہ ٹیتی کا اپنے شوہر سے تعلق ختم ہوگیا۔
ٹیٹی : کاش میرا خاندان اس فلم کو دیکھتا، مگر میرے لئے اہم بات یہ ہے کہ اس میں میری زندگی کے اصل حقائق کو پیش کیا گیا ہے، اس سے بھی اہم امر یہ ہے کہ میرے شوہر نے میری مکمل حمایت کی، میرے لئے اس سے زیادہ کوئی اور چیز معنی نہیں رکھتی”۔
بو : میرے لئے اس فلم کو دیکھنا بہت مشکل ثابت ہوا، اپنی حقیقی زندگی کو سینماءمیں دیکھنا تباہ کن لگا، یہ صرف فلم نہیں بلکہ حقیقت تھی، مگر میں اسے تبدیل کرنے کیلئے کچھ بھی نہیں کرسکتا”۔
ڈینئیل کا کہنا ہے کہ فلم بنانے کے دوران یہ ڈاکومینٹری سازندوں کی زندگی سے ہٹ کر انڈونیشیاءکے مختلف امور میں پھیل کر رہ گئی۔
ڈینئیل : میں جتنا ان تینوں کی زندگی پر روشنی ڈالتا گیا اتنا ہی مجھے انڈونیشیاءکے بارے میں معلوم ہوتا گیا، ان کے زندگی کے مسائل، تعلقات، جکارتہ کے غریب افراد کا استحصال اور ان کی شناخت، مواقعی اور سماجی صلاحیتیں وغیرہ کے بارے میں جانا، اور اگر آپ جالانن کو دیکھیں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ یہ فلم انڈونیشین شہریوں کے بارے میں ہے، جن کی زندگیوں پر سازندوں کے ذریعے روشنی ڈالی گئی ہے”۔
ہوکا کہنا ہے کہ اسے توقع ہے کہ جکارتہ کا اعلیٰ طبقہ اس فلم کو دیکھے گا، جس سے غریب افراد کے بارے میں اس کی آنکھیں کھل جائیں گی، انہیں یہ بھی توقع ہے کہ اس فلم کے ذریعے وہ امیر طبقے میں شامل ہوسکے گا، اس فلم کے باعث اسے پہلی بار بیرون ملک جنوبی کوریا جانے کا موقع ملا، جہاں بوسان فلم فیسٹیول میں اسکی فلم کو ایوارڈ ملا، اب اس فلم کو آئندہ برس انڈونیشیاءمیں ریلیز کئے جانیکی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔
ٹیٹی : میں بہت اچھا محسوس کررہی ہوں، واہ میں اب فلم اسٹار بن چکی ہوں، میں بہت خوش ہوں۔ کیا اب ہم واقعی فلمی ستارے ہیں؟ میں بہت خوش اور مطمئن ہوں، یہ ہماری سات برس کی محنت کا چمر ہے، میں ہر اس شخص کی شکر گزار ہوں جس نے میرے لئے دعائیں کیں”۔