Students’ Suicide Sparked Call for Education Reforms in the Philippines – فلپائنی طالبہ کی خودکشی

فلپائن میں گزشتہ ماہ ایک سولہ سالہ طالبہ نے ٹیوشن فیس جمع نہ کراپانے پر خودکشی کرلی تھی، اس لڑکی کی موت کے بعد سرکاری یونیورسٹیوں میں تاخیر سے ادائیگی کی پالیسی نہ ہونے کے خلاف ملک بھر میں احتجاج شروع ہوگیا۔ اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی آج کی رپورٹ

فرانسیسکو ڈی گز مین، خودکشی کرنے والی طالبہ کرسٹل تیجاداکے قریبی دوست تھے، یہ دونوں یو نیورسٹی آپ فلپائنز میں اکھٹے پڑھتے تھے۔

فرانسکو”وہ ہمیشہ خوش رہتی تھی، کبھی کبھار ہی ہم اسے کسی چیز پر پریشان دیکھتے دیکھتے تھے، اس کا تو ایک مقصد ہی یہ تھا کہ لوگوں کو اپنی زندگی کا روشن رخ دکھانا ہے اور کبھی ہار نہیں ماننی، یہی وجہ ہے کہ جب اس نے خودکشی کی تو ہمیں بہت زیادہ دھچکا لگا”۔
کرسٹل تیجادا نے پندرہ مارچ کو ایک زہریلا مواد پی کر خودکشی کرلی تھی، اس سے دو روز قبل یونیورسٹی فیس کی ادائیگی میں ناکامی پر اسے نکالنے کی دھمکی دی گئی تھی۔

پروفیسر آندریہ مارٹینز ،کرسٹل تیجادا،کی پروگرام ایڈوائزر تھیں۔ انکا کہنا ہے کہ ہم دونوں کے درمیان تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کے لئے کئی مالیاتی حل پر بحث ہوئی تھی، جیسے اسکالر شپ یا موسم گرما کے دوران ملازمت وغیرہ۔

آندریہ” کرسٹل اپنے والدین کو دکھ نہیں دینا چاہتی تھی، وہ اپنے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں کافی بات کرتی تھی اور وہ فوجی ڈاکٹر بننا چاہتی تھی۔ وہ اپنے بہن بھائیوں کو روشن مستقبل دینا چاہتی تھی اور وہ چاہتی تھی کہ اس کے والدین اس پر فخر کریں”۔

کرسٹل کی خودکشی سے سرکاری یونیورسٹی میں تاخیر سے ادائیگی کی کوئی پالیسی نہ ہونا پورے ملک میں بحث کا موضوع بن گیا۔ مریز زبیری اسٹوڈنٹ کونسل کی سربراہ ہیں، انکا کہنا ہے کہ یہ تعلیمی اصلاحات کیلئے ایک انتباہ ہے۔

مریز”ہم محکمہ بجٹ، انتظامیہ اور صدر آقوئینوکی جانب سے بات چیت کی امید کرتے ہیں، ہم اس بات چیت کی توقع اس لئے کررہے ہیں کہ یہ صرف فلپائن یونیورسٹی کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ سرکاری یونیورسٹیوں کے ساتھ ساتھ نجی اداروں تک پھیلا ہوا ہے۔ انٹرنیٹ پر یہ خبر پھیل رہی ہے کہ پچاس کے قریب یونیورسٹیوں نے آئندہ برس اپنی فیسیں بڑھانے کی تیاری کرلی ہے، تعلیم ایک بنیادی حق ہے جسے حکومت کو فراہم کرنا چاہئے”۔

اس خودکشی کے چند روز بعد یو نیورسٹی آف فلپائن نے اپنی فیس کی پالیسی تبدیل کردی، جبکہ اس کی جانب سے کرسٹل کے خاندان کو مالی معاونت فراہم کرنے کا بھی وعدہ کیا گیا۔

کرسٹل کے والد کرسٹو فر تیجادا ایک ٹیکسی ڈرائیور ہیں۔

کرسٹو فر “کوئی بھی شخص اس واقعے کو فراموش نہیں کرسکتا، ہم نے ہر ممکن کوشش کی کہ ہماری بچی اپنی تعلیمی سلسلہ جاری رکھ سکے، اسکی زندگی ہی اپنی تعلیم کے گرد گھومتی تھی اور اسے توقع تھی کہ وہ تعلیم مکمل کرکے ہمیں بہتر زندگی فراہم کرے گی”۔

بیٹی کی موت کے بعد کرسٹوفر کو مئیر کے دفتر میں ایک ملازمت دی گئی ہے، کرسٹل کی والدہ بلیزیڈا تیجاداہمیں اپنی بیٹی کی تصاویر دکھارہی ہیں۔

بلیزیڈا”میں اس بات کا احساس نہیں کرسکی کہ میری بیٹی کیلئے یہ کتنا بڑا مسئلہ ہے، میرا خیال تھا کہ میں اس کے بارے میں سب کچھ جانتی ہوں، تاہم مجھے توقع ہے کہ اس کی موت سے دیگر بہت سے غریب طالبعلموں کو فائدہ ہوگا”۔