بلوچستان کے پہاڑ معدنیاتی دولت سے مالامال ہیں، مگر یہاں کے لوگ پاکستان کے سب سے غریب ترین ہیں، زلزلے سے قبل بھی یہاں بجلی یا پانی جیسی سہولیات موجود نہیں تھی۔ مگر زلزلے کے بعد زندگی پہلے سے بھی زیادہ سخت ہوگئی ہے۔
ضلع آواران کراچی سے چھ سو کلومیٹر دور واقع ہے، یہاں کے زلزلہ متاثرین شدید گرمی میں ایک مقامی ادارے کی جانب سے ملنے والی امداد کے منتظر ہیں۔ فضل رحمن ہیلپنگ ہینڈز اینڈ ریلیف ڈیولپمنٹ کے کنٹری ڈائریکٹر ہیں۔
فضل رحمان(یہ گاﺅں مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے، آپ تمام گھروں کو دیکھ سکتے ہیں کہ وہ تباہ ہوچکے ہیں، ہماری پہلی ترجیح ان متاثرین کو چھت فراہم کرنا ہے”۔
متعدد افراد کی طرح ستر سالہ کریم داد بھی قومی زبان اردو سے ناواقف ہیں، بلوچی اور اشاروں کی زبان میں کریم داد نے کہا کہ اس کا نوجوان بیٹا اس سانحے میں ہلاک ہوگیا ہے۔مقامی دکاندار امید علی کے بچے زلزلے میں زخمی ہوگئے تھے۔
علی :کوئی بھی مدد کیلئے نہیں آیا، میں بچوں کو کراچی لے گیا، ہم بہت غریب لوگ ہیں، عام حالات میں بھی کوئی ہماری بات نہیں سنتا اور نہ ہی سانحہ گزر جانے کے بعد سننے کیلئے تیار ہے”۔
یہاں مسلح گروپس کی گرفت کافی مضبوط ہے اور یہاں پاکستان کے خلاف نعرے دیواروں پر لکھے دیکھے جاسکتے ہیں۔یہ صورتحال امدادی گروپس کیلئے بہت بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ عبدالعزیز الخدمت ویلفیئر کے عہدیار ہیں، یہ ادارہ سب سے پہلے اس علاقے میں متاثرین کی مدد کیلئے پہنچا تھا۔
عزیز:سیکیورٹی فورسز اور حکومت نے ہمیں روکتے ہوئے عسکریت پسندوں کے حملے کا انتباہ دیا تھا، تاہم ہم نے اپنا کام جاری رکھنے پر اصرار کیا، یہاں تک کہ مقامی بلوچوں نے ہمیں روکا اور تفتیش بھی کی مگر ہم نے کام جاری رکھا”۔
مسلح گروپس نے زلزلے کے بعد اس علاقے میں سیکیورٹی فورسز پر کئی بار حملے کئے ہیں۔
غیرملکی امدادی اداروں کو حکومت نے سیکیورٹی وجوہات کی بناءپر ان علاقوں میں نہ جانے کا مشورہ دیا ہے، مقامی سماجی کارکن عبدالحکیم اس کی وضاحت کررہے ہیں۔
حکیم :امدادی ادارے الجھن کا شکار ہیں، اگر وہ سیکیورٹی فورسز کو اپنے ساتھ لیکر جائیں تو بھی انہیں ہدف بننے کا خطرہ ہوتا ہے، اگر وہ اہلکاروںکے بغیر جائیں تو بھی انہیں حملے کا خوف ہوتا ہے”۔
مقامی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ متاثرہ افراد کی مدد کیلئے ہرممکن کوشش کررہی ہے، محمد اکبر ضلعی کمشنر ہیں۔
اکبرمیں تسلیم کرتا ہوں کہ یہاں کچھ واقعات پیش آئے ہیں، سب کچھ مثالی نہیں مگر میں یقین دلاتا ہوں کہ ہم متاثرہ افراد کی مدد کرنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے”۔