Cambodian Petition Gathers Millions of Thumb Prints to Protest Alleged Election Fraud – کمبوڈین اپوزیشن کی تحریک

کمبوڈیا میں عام انتخابات کے بعد سے دھاندلیوں کے الزامات پر اپوزیشن کی تحریک جاری ہے، اپوزیشن جماعت نے اس حوالے سے دو لاکھ انگوٹھوں نے نشانات سے ایک درخواست اقوام متحدہ کے دفتر میں جمع کرائی ہے، جس کے بعد حکومت نے مبینہ انتخابی دھاندلیوں کے بارے میں تحقیقات شروع کرادی ہے۔اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

ہزاروں افراد پینوم پین کے فریڈم پارک میں جمع ہیں، متعدد افراد نے سروں پر رومال باندھ رکھے ہیں، جن پرلکھا ہے کہ میرا ووٹ کہاں ہے؟ یہ احتجاج کمبوڈین اپوزیشن پارٹی سی این آر پی کے تحت ہورہا ہے، اس جماعت نے حکومت سے مبینہ انتخابی دھاندلیوں کیخلاف آزادانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کیم اس جماعت کے نائب صدر ہیں۔

کم”کمبوڈیا اور پیرس امن معاہدے کی ایک اور سالگرہ کے نام پر ہم اقوام متحدہ اور اس معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کمبوڈیا کے حالات کا جائزہ لیں اور جمہوریت کے قیام میں مدد کریں”۔

عام انتخابات میں اپوزیشن جماعت کے اراکین نے کافی نشستیں حاصل کیں، مگر مبینہ انتخابی دھاندلیوں کے باعث اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ نے پارلیمانی رکنیت سنبھالنے سے انکار کردیا ہے۔

اپوزیشن کے متعدد حامیوںکا تعلق دیہی علاقوں سے ہے،61 سالہ یون یﺅن اپنے خاندان کے ہمراہ صوبہ کیتا ﺅ سے یہاں مظاہرے میں شرکت کیلئے آئی ہیں۔

ان یئیون”میری ماں، میری معذور ماں اور میں، یہاں اس لئے آئے ہیں تاکہ سی این آر پی اور اقوام متحدہ سے ہمارے ووٹوں کی چوری پر انصاف مانگ سکیں، اسی طرح ہم اپنے حقوق اور آزادی کا دفاع کرسکتے ہیں”۔

ستر سالہ یین کا تعلق صوبہ چیم سے ہے۔

ین”یہ پہلی بار ہے کہ کمبوڈین عوام نے اقوام متحدہ کو اس طرح کی پٹیشن دی ہے، مجھے توقع ہے کہ ہم جلد انصاف ہوتا دیکھیں گے”۔

مظاہرین نے اس پٹیشن کو متعدد سفارتخانوں کو بھی ارسال کای ہے، تاہم اس پٹیشن کیلئے انگوٹھوں کا حصول ایک بڑا چیلنج ثابت ہوا، پینوم پین سٹی ہال نے اپوزیشن جماعت کے عوامی علاقوں میں انگوٹھوں کے نشانات لینے سے روکتے ہوئے کہا تھا کہ وہ امن و امان کو متاثر کررہے ہیں۔ سر کھن کمبوڈین وزیر داخلہ ہیں۔

سر کھین”ہم سی این آر پی کی سرگرمیوں پر پابندی نہیں لگانا چاہتے، مگر انہیں عوامی امن کا خیال رکھنا ہوگا اور سماجی انتشار کا سبب بننے سے بچنا ہوگا۔ لوگوں کو امن سے رہنے دیں، اپوزیشن جماعت انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کررہی ہے اور وہ عوام کو ڈرا دھمکا رہی ہے”۔
مگر سی این آر پی کے رہنماءسی ہا کا کہنا ہے کہ ان کے متعدد رشتے داروں کو مقامی انتظامیہ نے درخواست پر انگوٹھے لگانے سے روک دیا ہے۔

سی ہا”یہ ہمارے ملک کی جمہوریت کی خلاف ورزی ہے، یہ عوامی آزادی کے خلاف ہے، انتظامیہ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے اور عوامی آزادی کا احترام کرنا چاہئے”۔

کمبوڈین ہیومین رائٹس کے عہدیدار نے چکریا کا کہنا ہے کہ حکومت آئین کی خلاف ورزی کررہی ہے۔

نے چکریا”مقامی انتظامیہ انسانی حقوق اور عوامی اظہار رائے کی آزادی کی مخالفت کررہی ہے، وہ آئین اور بین الاقوانین قوانین دونوں کی خلاف ورزی کررہی ہے”۔

فریڈم پارک واپس چلتے ہیں، جہاں اپوزیشن جماعت کے سربراہ سیم رینسی اس توقع کا اظہار کررہےہ یں کہ اقوام متحدہ کو دی جانے والی درخواست سے مثبت تبدیلی آئے گی۔

رینسی”میں نے اقوام متحدہ کو بتایا کہ یہ انگوٹھے کے نشانات کمبوڈین عوام کے ہیں، جو قیادت میں تبدیلی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ میں نے اقوام متحدہ کو بھی یہ بھی بتایا کہ ہمیں ایک ہفتہ مزید دیا جاتا تو ہم دس لاکھ مزید نشانات حاصل کرسکتے تھے، اب تک ہم بیس لاکھ سے زائد نشانات حاصل کرچکے ہیں، یہ ہمارا مشن ہے اور ہمیں توقع ہے کہ اقوام متحدہ ہماری حمایت کرے گی”۔