Cambodia Outlaws Denial of Khmer Rouge Genocide – نیا کمبوڈین قانون

کمبوڈین پارلیمنٹ نے ایک قانون منطور کیا ہے، جس کے تحت کھمیر روج دور میں ہونے والے قتل عام سے انکار کو غیرقانونی قرار دیدیا گیا ہے۔ وزیراعظم ہن سین نے پارلیمنٹ سے اس قانون کو منظور کرنے کی درخواست اس وقت کی تھی جب اپوزیشن جماعت کے نائب صدر نے مبینہ طور پر اس خونریزی کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

کمبوڈیا کی قومی اسمبلی نے حال ہی میں ایک نئے قانون کی منظوری دی ہے، جس کے تحت کسی بھی ایسے شخص کو سزا دی جاسکے گی جو کھمیر روجدور کے قتل عام کو ماننے سے انکار کردے گا۔1970ءکی دہائی میں کھمیر روج حکومت کو بیس لاکھ افراد کے قتل عام کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے، جس کو ماننے سے انکار کرنے والے شخص کو دو سال قید یا ایک ہزار ڈالر جرمانے کی سزا سنائی جاسکے گی۔کھمیر روج دور کے متاثرین نے اس قانون کا خیرمقدم کیا ہے۔72 سالہ بو مینگ معروف تاو سیلینگ جیل سے بچنے والے تین افراد میں شامل تھے۔

بو”اس بڑی جیل کا انتظام پول پوٹ نے قائم کیا تھا، میری بیوی اور میں وہاں قید تھے، مجھے اس نئے قانون پر کوئی اعتراض نہیں اور میں حکومتی اقدامات کی حمایت کرتا ہوں”۔

یہ نیا قانون وزیراعظم ہون سین کی حمایت سے پیش ہوا، حالانکہ وہ خود بھی کھمیر روج دور کے ایک سابق عہدیدار ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ قانون آئندہ ماہ شیڈول عام انتخابات کو پیش نظر رکھ کیا گیا ہے،ہن سینانتہائی جارحانہ انتخابی مہم چلارہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی کامیابی سے کھمیر روج کا دور پھر واپس آجائے گا۔

ہون سین”اگر اب کھمیر روج حکومت موجود نہیں، تو ہمیں انہیں واپس لانے کی کیا ضرورت ہے؟ میں اس طرز فکر پر کافی فکرمند ہوں اور اسی لئے ایک نیا قانون متعارف کرایا ہے تاکہ ہر اس شخص کو سزا دی جاسکے جوکھمیر روج دور کو ماننے سے انکار کردے”۔

یہ قانون اس وقت سامنے آیا جب اپوزیشن جماعت کے نائب صدرکیم شوخا کی ایک ریکارڈنگ ریلیز ہوئی، جس میں انھوں نے ویت نام پر تو سیلینگ جیل میں ہزاروں کمبوڈین افراد کو قید میں رکھنے اور تشدد کا الزام عائد کیا۔وزیراعظم کئی بار کہہ چکے ہیں کہ اگر اپوزیشن لیڈر نے اپنے ریمارکس پر معافی نہ مانگی تو ملک میں فسادات ہوسکتے ہیں، تاہمکیم شوخا اپنے اوپر عائد الزامات کو مسترد کردیا ہے۔

شوخا”یہ انتخابی مہم کے دوران حکمران جماعت کا معمول کا حربہ ہے، وہ عوامی حمایت حاصل کرنے کیلئے چیزوں کو غلط انداز میں پیش کرتے ہیں، لوگوں پر غلط الزامات لگاتے ہیں اور اپوزیشن کو دھمکیاں دیتے ہیں”۔

کیم شوخا تسلیم کرتے ہیں کہ کھمیر روج دور میںتوسیلینگ جیل میں لوگوں پر تشدد اور انہیں قتل کیا گیا، تاہم انکا کہنا ہے کہ یہ ظلم ویت نام کے تعاون سے ہوا۔ انکا ماننا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا جارہا ہے۔قانون کو حتمی شکل دینے کے چند روز بعدکھمیر روج دور کے ایک اہم رہنماءنون چیا نے اقتدار کے دوران قتل عام پر پچھتاوے کا اظہار کیا۔ ان پر اس وقت اقوام متحدہ کے تحت قائم ٹربیونل میں انسانیت کے خلاف جرائم پر مقدمہ چل رہا ہے، اب تک اس بھیانک دور کے صرف ایک اہم رہنماءکو ہی سزا سنائی جاچکی ہے، جبکہ دو پر مقدمہ چل رہا ہے۔ اپوزیشن جماعت نے بھی اس قانون کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جبکہ سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں یہ صحیح فیصلہ ہے، تاہم ایشین ہیومین رائٹس کمیشن کے سابق صدر لاو موغائی کا کہنا ہے کہ اس قانون کا استعمال انتہائی احتیاط سے کیا جانا چاہئے۔

لاو”یہ بہت ضروری ہے کیونکہ ہم سب تسلیم کرتے ہیں کہ کھمیر روج نے بہت غلط کام کئے، اور ان سے انکار متاثرہ افراد کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے برابر ہے، ہلاک شدگان اور بچ جانے والے افراد اس سے متاثر ہوں گے، اور اس انکار سے مرنے والوں کی روحیں بے بے چین ہوجائیں گی”۔

وہ مزید اظہار خیال کررہے ہیں۔

لاو”تاہم جب آپ کسی چیز کا فیصلہ جذبات پر کریں تو قانون کا اطلاق ٹھیک طرح نہیں ہوپاتا۔ آپ آزاد یا غیرجانبدار عدلیہ کے بغیر کسی قانون پر اعتماد نہیں کرسکتے، کیونکہ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ قانون منصفانہ طور پر استعمال ہوگا یا نہیں”۔