ہر سال لاکھوں بھارتی شہری عام ادویات نہ خرید پانے کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں، تاہم ایک شخص نے اپنی پوری زندگی اس فرق کو ختم کرنے کیلئے وقف کردی ہے۔ اومکار ناتھ جنھیں میڈیسین بابا بھی کہا جاتا ہے، لوگوں سے غیراستعمال شدہ ادویات جمع کرکے انہیں گریب افراد تک پہنچاتے ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ۔
موسم گرما کے دوران نئی دہلی میں رہنا کافی مشکل ہوجاتا ہے، انتہائی شدید گرم اور مرطوب موسم کے ساتھ ساتھ ٹریفک جام اکثر لوگوں کی زندگی اجیرن کردیتا ہے۔ تاہم یہ مشکلات بھی اومکار ناتھ کو جگہ جگہ جاکر لوگوں سے ادویات جمع کرنے سے نہیں روک پاتیں۔
وہ خود کو میڈیسین بابا کہتے ہیں، 75 سالہ اومکارناتھ نے ایک نارنجی رنگ کی یونیفارم پہنی ہوتی ہے جس پر ان کا موبائل فون نمبر لکھا نظر آتا ہے۔
اومکار”میں معاشرے میں تبدیلی لانا چاہتا ہوں، میں لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ اپنی غیر ضروری ادویات کے ذریعے دیگر افراد کی زندگیاں بچاسکتے ہیں”۔
انکی اس تحریک کا آغاز اس وقت ہوا جب انھوں نے ایک پل کو منہدم ہوتے دیکھا، انھوں نے درجنوں افراد کو ہسپتال میں ادویات نہ ہونے کے باعث مرتے دیکھا۔ اس طرح کے حادثات بھارت میں عام ہیں اور اکثر خبروں میں بھی نہیں آتے، تاہم یہ اومکار ناتھ کیلئے ایک بڑا جھٹکا ثابت ہوا۔
اومکارا”سب سے افسوسناک چیز جو میں نے دیکھی وہ یہ تھی کہ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ان کی پاس ادویات ہی نہیں۔ وہ متاثرہ خاندانوں سے ادویات کا انتظام کرنے کا کہتے رہے، تاکہ وہ مریضوں کا علاج کرسکیں”۔
اب اومکار ناتھ روزانہ آٹھ گھنٹے تک گلیوں میں گھومتے رہتے ہیں، حالانکہ 45 ڈگری سے زائد درجہ حرارت میں یہ کوئی آسان کام نہیں۔ وہ نئی دہلی کے مختلف حصوں کا تعین کرتے ہیں اور اس حوالے سے انھوں نے روسٹر بھی تیار کررکھا ہے۔ انھوں نے ہمیں بتایا کہ انہیں ادویات دینے میں متوسط طبقہ سب سے آگے ہے، کئی بار امیر افراد بھی مدد کرتے ہیں، مگر وہ زیادہ سخی دل نہیں۔تاہم انکا کہنا ہے کہ جب انھوں نے اپنا کام شروع کیا تو لوگوں کا اعتماد حاصل کرنا کافی مشکل ثابت ہوا۔
اومکارناتھ”لوگ سوچتے تھے کہ میں یہ ادویات اپنے لئے پیسے بنانے کیلئے جمع کررہا ہوں، مگر کچھ عرصے بعد لوگوں کو احساس ہوا کہ میں یہ سب مریضوں کی مدد کیلئے کررہا ہوں، مگر میں اعتراف کرتا ہوں کہ آغاز میں میری بیوی تک سوچنا تھا کہ میں بھکاری بن گیا ہوں اور اس نے مجھے یہ کام چھوڑنے تک کھانا کھلانے سے بھی انکار کردیا”۔
وہ صرف ان ادویات کو ہی قبول کرتے ہیں جن کے استعمال کی تاریخ ابھی گزری نہیں ہوتی، اس کے علاوہ وہ اب ڈایالیسز میشینوں سمیت دیگر آلات بھی جمع کرنے لگے ہیں۔ اکثر وہ ادویات مختلف فلاحی تنظیموں کے تحت چلنے والے ہسپتالوں یا کلینکس کو دیدیتے ہیں، ایک اندازے کے مطابق بھارت کی ایک ارب سے زائد آبادی کا پچاس فیصد حصہ ادویات خریدنے کا بوجھ نہیں اٹھاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال لاکھوں افراد عام امراض کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔
اومکار ناتھ”میرے ساتھ لوگ بہت سخاوت کا مطاہرہ کرتے ہیں، مجھے بہت مدد ملتی ہے اور میں معاشرے میں اس حوالے سے آگاہی بھی پھیلا رہا ہوں۔جب بھی میں کہیں جاتا ہوں تو لوگ مجھ سے بہت احترام سے بات کرتے ہیں”۔