A Law to Stop Filipinos from Being Late – نیا فلپائنی قانون

فلپائنی عوام تاخیر سے دفاتر میں پہنچنے کیلئے بدنام ہیں، اب حکومت اس رجحان کو ایک نئے قانون کے ذریعے بدلنے کی خواہشمند ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

ایلبرٹ کیبون ،فلپائنی علاقے اوریئینٹل میں قائم صوبائی حکومت کے ملازمین کی حاضری کا ریکارڈ مرتب کرنے کا کام کرتے ہیں۔

ایلبرٹ”میرے خیال میں لوگوں کی نظر میں تاخیر سے آنے کو درست سمجھنے کی وجہ ان کے اپنے دفاتر کا رویہ ہے، جہاں دیر سے آنے کو قابل قبول سمجھا جاتا ہے۔اگرچہ تنخواہ بھی کاٹی جاسکتی ہے تاہم دفاتر کے انتظامی سربراہان اس معاملے پر کافی برداشت کا مظاہرہ کرتے ہیں”۔

انکا کہنا ہے کہ دفاتر میں تاخیر کے رجحان کو ختم کرنے کیلئے فنگر پرنٹس کے ذریعے حاضری کا نظام بھی اپنایا گیا، تاہم وہ بھی زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہوا۔

ایلبرٹ”اس میں متعدد خامیاں تھیں یا اس نظام پر عملدرآمد ہی ٹھیک نہیں ہوا۔ مثال کے طور پر لوگ ساڑھے سات بجے آکر حاضری لگاتے اور پھر گھر چلے جاتے اور پھر کافی دیر سے واپس آتے۔ درحقیقت کوئی بھی نظام مثالی نہیں، ہر نظام میں کچھ نہ کچھ خامیاں موجود ہوتی ہیں”۔

رواں ماہ کے شروع میں ایک نیا قانون منظور کیا گیا ہے جس کے تحت تاخیر سے آنے کی عادت پر قابو پانے کی کوشش کی جائے گی۔

صدارتی ترجمانابیگیل والٹی اس نئے قانون کا اعلان کررہے ہیں۔

والٹی” ریپبلک ایکٹ 10535 پر صدر نے دستخط کردیئے ہیں اور اب فلپائن میں دفتری اوقات کار طے کردیئے گئے ہیں۔ تمام حکومتی دفاتر، ایجنسیوں، بیوروز اور دیگر مراکز پرپی اے جی ،اے ایس اے کے تعاون سے دفتری ملازمین کے اوقات کی پابندی کو یقینی بنایا جائے گا”۔

اس قانون کے مطابق محکمہ موسمیات فلپائنی معیاری وقت کا تعین تمام دفاتر میں کرے گا، یعنی تمام دفاتر ایک ہی وقت میں کھلے اور بند ہوں گے۔

اس قانون کے تحت تمام ٹی وی اور ریڈیو اسٹیشنز پر بھی مقرر کردہ معیاری وقت کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے، ورنہ ان کے لائسنس منسوخ کئے جاسکیں گے۔ ایک مقامی ریڈیو کے پروگرام ڈائریکٹر کرسچن ٹوبیلو نئے قانون کا خیرمقدم کررہے ہیں۔

ٹوبیلو”ایک براڈ کاسٹر کی حیثیت سے میں فلپائنی معیاری وقت کا حامی ہوں، کیونکہ لوگوں تک اپنی آواز پہنچانے کیلئے ہمیں درست وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر فلپائنی معیاری وقت پر سختی سے عملدرآمد ہوا تو ہمیں کافی مسائل کا سامنا نہیں ہوگا، حالانکہ نظم و ضبط اور بروقت حاضری ایک شخص کا ذاتی فعل ہوتا ہے”۔

اس عادت کو بڑھانے کیلےءاسکولوں اور سرکاری دفاتر میں بھی وقت کی اہمیت کے حوالے سے مہم چلائی جارہی ہے۔ حکومتی نے معیاری وقت کی ڈیوائسز کی عام نمائش کا انتظام کیا ہے اور ہر سال ایک ہفتہ وقت کی آگاہی کا ہفتہ منانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ تاہم اس عادت کو ختم کرنا کافی مشکل ہے۔ نیا قانون سامنے آنے کے بعد بھی ملازمین کی تاخیر کی عادت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ایلبرٹ اس بارے میں بتارہے ہیں۔

ایلبرٹ”مجھے نہیں معلوم کہ قانون کی منظوری کے بعد اس حوالے سے زیادہ معلومات کیوں نہیں پھیلائی گئی۔ لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ آخر یہ نیا قانون کیوں منظور ہوا ہے اور آخر معیاری وقت طے کرنے کا مقصد کیا ہے”۔

ڈون زین اینکر نیکن ماہر سیاسیات ہیں، انکا کہنا ہے کہ اس عادت پر قابو پانے کیلئے گھڑیاں تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈون زین”تاخیر پسندی صرف سستی یا کاہلی نہیں بلکہ ہماری ثقافت کا حصہ بن چکی ہے۔ اگر ہم وقت میں تبدیلی بھی کریں گے تو بھی فلپائنی عوام کی ذہنیت میں تاخیر پسندی موجود رہے گی۔ بنیادی طور پر ہمیں فلپائنی عوام کے کلچر کو تبدیل کرنا چاہئے”۔

ایلبرٹ کا کہنا ہے کہ ہر ایک کو اس عادت کی اہمیت کا احساس کرنا ہوگا۔

ایلبرٹ”ہر ایک کو مثال قائم کرنا ہوگی جب ہی تبدیلی آئے گی۔ ہر شخص کو اس تبدیلی کو اپنانا چاہئے اگر وہ واقعی ملک میں تبدیلی لانا چاہتا ہے تو”۔