Cambodia Land Activist’s Struggle Continuesکمبوڈین سماجی کارکن

کمبوڈین سپریم کورٹ نے حال ہی میں ایک معروف سماجی کارکن یورم بو فاکی رہائی کا حکم دیا، مگر ان کی رہائی عارضی ہیں، کیونکہ وہ ضمانت پر جیل سے باہر آئی ہیں۔ یورم بو فا نے حال ہی میں اپنی برادری کو زبردستی زمینوں پر نکالے جانے کے خلاف جدوجہد کی تھی، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

30تیس سالہ یورم بو فا سب سے آگے کھڑی ہیں اور ان کے پیچھے تین سو کے قریب مظاہرین زمینوں پر قبضے کیخلاف نعرے بازی کررہے ہیں۔

یہ احتجاج گزشتہ ستمبر میں شروع ہوا، جس کے بعد یورم بو فا کو پولیس نے گرفتار کرلیا اور اب انہیں سپریم کورٹ کے حکم پر ضمانت پر رہا کیا گیا ہے۔ یورم بو فااپنی رہائی کیلئے عوامی حمایت پر خوش ہیں۔

یورم بو فا”میں اپنے حامیوں، انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے رضاکاروں، اپنے گاﺅں کے باسیوں اور عالمی سماجی کارکنوں کی شکرگزار ہوں۔ میں ان کی حمایت کو نہیں بھولوں گی اور میں ان کا بہت شکریہ ادا کرتی ہوں”۔

یورم بو فا ان تیرہ بوئینگ کاک خواتین رضاکاروں میں شامل ہیں جو زمینوں پر قبضے کیخلاف جدوجہد کررہی ہیں، حالیہ برسوں کے دوران ہزاروں خاندانوں کو بوئینگ کاک سے بے دخل کیا گیا ہے، عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یورم بو فاکو ضمیر کا اسیر قرار دیا۔

یورم بو فا”میں اپنی رہائی پر خوش ہوں، اور میں کمبوڈیا میں زمینوں پر قبضے کیخلاف جنگ جاری رکھوں گی، میں تمام رضاکاروں کیساتھ کام کروں گی اور ملک بھر میں اس طرح کے واقعات کیخلاف جدوجہد کروں گی، چاہے مجھے جیل ہی کیوں نہ جانا پڑے مگر میں اپنی جنگ اپنی موت تک جاری رکھوں گی، یہی میرا عزم ہے”۔

انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے گروپس کا کہنا ہے کہ یورم بو فاکیخلاف مقدمہ سیاسی نوعیت کا تھا، اور تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔ شواہد کی کمی کے باوجود رواں برس جون میں کمبوڈیا کی ایک اپیلیٹ عدالت نے یورم بو فاکو سزا سنادی تھی، تاہم سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت پر رہا کردیا اور مقدمہ دوبارہ ٹرائل کیلئے اپیلیٹ کورٹ میں بھیج دیا۔ایڈہاک ہیومن رائٹس گروپ کے عہدیدار چان سیوات فکرمند ہیں کہ یورم کو واپس جیل بھیجا جاسکتا ہے۔

چان سیوات”انہیں دوبارہ گرفتار کرنا بہت آسان ہے کیونکہ وہ باضابطہ طور پر رہا نہیں ہوئیں، اگر وہ مجرم نہیں تھی تو سپریم کورٹ کو یہ مقدمہ دوبارہ اپیلیٹ کورٹ میں منتقل نہیں کرنا چاہئے تھا، ہم فکر مند ہیں کیونکہ اپیلیٹ کورٹ یورم کو کسی بھی وقت گرفتار کرسکتی ہے، تو یہ رہائی ان کیلئے خوش قسمتی کی علامت نہیں”۔

عدالت کے باہر ہجوم نے فیصلہ سننے کے بعد خوشی اور غصے کے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا، ٹیپ وانی، بوئینگ کاک گروپ کی رہنماءہیں، وہ اپنی ساتھی کی جدوجہد کو سراہ رہی ہیں۔

ٹیپ وانی”اس کی موجودگی ہماری برادری میں زمینوں پر قبضے کیخلاف جدوجہد کیلئے امید کی نئی کرن ثابت ہوگی”۔

بوفا کی والدہ سا بو سوتھ اپنی بیٹی کیلئے دعاگو ہیں۔

سا بو سوتھ”میں چاہتی ہوں کہ یہ عدالت باضابطہ طور پر مقدمہ ختم کرنے کا فیصلہ سنائے”۔

یورم بوفادوبارہ ٹرائل کی منتظر ہیں، تاہم چارسو دن جیل میں گزارنے کے بعد وہ اپنی زندگی کے بارے میں اب فکرمند نہیں رہیں۔

یورم بوفا”میں اپنا پیغام حکومت تک پہنچانا چاہتی ہوں کہ لوگوں کو زبردستی گھروں سے نکالنا ختم کریں، اسے انسانی حقوق کا احترام کرنا چاہئے”۔