Child Marriage Widespread in Rural India Despite Banبھارت میں بچوں کی شادیوں کا مسئلہ

بھارت میں بچوں کی شادیوں پر پابندی کے باوجود اس پر قابو نہیں پایا جاسکا ہے، سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ کم عمری میں شادیوں کے باعث ملک میں لوگوں کی خراب صحت اور اسقاط حمل کے ریکارڈ کیسز سامنے آرہے ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

بھارت میں سیاحوں کی مرکز ریاست راجھستان میں بچوں کی شادیوں کا رواج بہت عام ہے، اعدادوشمار سے معلوم ہوتا ہے کہ دیہی علاقوں میں ہر چوتھی لڑکی کی شادی اٹھارہ سال کی عمر سے قبل ہی کردی جاتی ہے، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف نے کافی پریشان کن تصویر پیش کی ہے۔ بھارت بھر کے دیہی علاقوں میں پندرہ فیصد لڑکیوں کی شادیاں تیرہ سال کی عمر سے قبل کردی جاتی ہیں، جبکہ پچاس فیصد لڑکیاں 15 سے 19 سال کی عمر تک ماں بھی بن جاتی ہیں۔ کرنا شاہ بچوں کے حقوق کیلئے کام کرتی ہیں۔

کرنا شاہ”یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے، اسے صرف خواتین کے حقوق کے معاملے تک ہی محدود نہ رکھا جائے بلکہ بچوں کے تحفظ کی نظر سے بھی دیکھا جائے۔بچے اور بچیاں دونوں متاثر ہورہے ہیں اور صرف دیہات نہیں بلکہ شہروں میں بھی بچے اس سے متاثر ہورہے ہیں۔ لڑکوں کی شادیاں بھی بہت کم عمری میں ہورہی ہیں، تو بھارت بھر کا مسئلہ ہے اور یہ بچوں کے تحفظ کا معاملہ ہے”۔

تاہم راجھستان میں انوکھے رسومات پر عملدرآمد جاری ہے اور بظاہر انہیں بدلنا مشکل نظر آتا ہے۔مﺅسار بھی جبری شادیوں کی ایک روایت ہے، خاندان کے کسی رکن کی موت پر غم کو خوشی میں بدلنے کیلئے تیرہ روز کے اندر شادی کی تقریب کا انعقاد ہوتا ہے، چاہے خاندان کا کوئی رکن شادی کی عمر کا نہ بھی ہو تو بھی یہ تقریب منعقد ہوتی ہے۔ یہ بہت خفیہ تقریب ہوتی ہے اور میڈیا کو خوش آمدید نہیں کہا جاتا۔سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ بچوں کی شادیوں سے لڑکیوں کی زندگیاں تباہ ہوکر جاتی ہیں، شادی کے بعد بچے کی پیدائش کے موقع پر ان بچیوں اور ان کے بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑجاتی ہیں، رضیہ اسمعیل انڈین الا ئینس فار چلڈرن رائٹس سے تعلق رکھتی ہیں۔

رضیہ اسمعیل”میں اسے دیرینہ اور انتہائی سنگین مسئلہ سمجھتی ہوں، ریاست اس پر پابندی کے حوالے سے زیادہ پراعتماد نہیں دکھائی دیتی، یہ بالکل بچوں کی مزدوری جیسا ہے، آپ اس کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتے ہیں اسے غیرقانونی قرار دینا چاہتے ہیں، آپ متعدد اقدامات کرتے ہیں مگر درحقیقت اسکا خاتمہ نہیں ہوتا، یہی چیز بچوں کی شادیوں کے معاملے میں بھی نظر آتی ہے”۔

اس کی روک تھام کیلئے بھارت میں کافی مراکز قائم کئے ہیں، شاہین بھی اس حوالے سے ایک مشاورتی مرکز میں کام کرتی ہیں۔

شاہین”خاندانوں میں یہ غلط تصور موجود ہے کہ اگر کسی لڑکی کی شادی کم عمری میں کردی جائے تو وہ دوسرے خاندان میں آسانی سے اپنی جگہ بنالیتی ہے، جبکہ لڑکی کو معاشرے میں تحفط بھی ملتا ہے، اور اسے معاشرتی دباﺅ اور مالیاتی مسائل کا سامنا بھی نہیں ہوتا”۔

افسانہ ایک پندرہ سالہ لڑکی ہے۔

افسانہ”میں جانتی ہوں کہ چائلڈ میرج کا رواج بہت عام ہے کیونکہ بیشتر خاندانوں کے بہت زیادہ بچے ہوتے ہیں جو انہیں مالی بوجھ محسوس ہوتے ہیں، یہ بہت بری بات ہے”۔

اس کی ساتھی ناظمی اس حوالے سے اظہار خیال کررہی ہے۔

ناظمی”یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ایک لڑکی کو پوری زندگی جینے کا موقع نہ دیا جائے، شادی کے بعد لڑکا اور لڑکی دونوں طبی مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں اور انہیں سمجھ نہیں آتا کہ اس صورتحال کے مطابق کس طرح خود کو ڈھالا جائے”۔

دیگر ممالک جیسے نائیجر،جمہوریہ وسطی افریقہ اورملاوی بھی اس حوالے سے کافی بدنام ہیں، مگر اپنی آبادی کے لحاظ سے بھارت اس فہرست میں سب سے اوپر ہے۔ یہاں 47 فیصد لڑکیوں کی شادیاں اٹھارہ سال سے قبل کردی جاتی ہیں۔رضیہ اسمعیل اس بارے میں بتارہی ہیں۔

اسمعیل”آ دیکھ سکتے ہیں کہ بچوں کو بچپن گزارنے کی اجازتن ہیں دی جاتی اور انہیں سماجی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ سب بہت جلد ہوجاتا ہے اور ان کی زندگیاں بہت جلد شروع کردی جاتی ہیں، آپ انہیں سماجی کردار سنبھالنے پر مجبور کرتے ہیں، درحقیقت اس طرح آپ ان کی شخصیتیں مسخ کردیتے ہیں”۔