Burmese Forced Out for Naval Storageبرمی کاشتکاروں کی زمینوں پر قبضہ

برما میں اگرچہ پچاس سالہ فوجی اقتدار کے بعد سویلین حکومت کا قیام عمل میں آچکا ہے تاہم فوج کا غلبہ اب بھی ختم نہیں ہوسکا۔ ایک نیول اسٹوریج کیلئے کاشتکاروں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کئے جانے کے معاملے پر سنتے ہیں آج کی رپورٹ

ڈاﺅ سوئے سوئے مینٹ ان چوالیس افراد میں شامل ہے جنھیں ینگون سے چار کلومیٹر دور واقع گاﺅں خاننگ چانگ وا سے زبردستی ان کی زمینوں سے نکال باہر کیا گیا، رواں برس اگست میں فوج نے ان کاشتکاروں کی پانچ سو ایکڑ زمین پر قبضہ کرلیا تھا، یہاں ایک نیول اسٹوریج بیس تعمیر کئے جانے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ ڈاﺅ سوئے سوئے مینٹ اس بارے میں بتارہی ہیں۔

ڈاﺅ سوئے سوئے مینٹ”میں اس وقت اپنے بچوں کو اسکول لینے گئی ہوئی تھی جب میری زمین اور گھر کو تباہ کردیا گیا، میں نے کیمرے سے تباہ شدہ چیزوں کی تصاویر لیں تو دس فوجیوں نے مجھے پکڑنے کی بھی کوشش کی”۔

سینکڑوں بے گھر کاشتکار ینگون میں ایک جمہوریت پسند گروپ جنریشن اٹھاسی کے زیرتحت منعقد ہونیوالی کانفرنس میں جمع ہوئے، تاہم اپنی شکایات کو پارلیمنٹ تک پہنچاسکیں۔ مایو تھانٹ اس گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔

مایو تھانٹ”اس کانفرنس کا مقصد کاشتکاروں کو اپنی آواز بلند کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے، کاشتکاروں نے اپنی آواز بلند کرنا شروع کردی ہے اور اب حکومت کو چاہئے کہ ان کے مسائل کو جلدازجلد حل کرے”۔

اگرچہ خانائنگ چانگ وا کے کاشتکار صدیوں سے اس زمین پر کاشتکاری کرتے آئے ہیں مگر ان کے پاس ملکیتی سرٹیفکیٹس نہیں، اور اب اس علاقے کو میانمار نوٹوریئس سیکشن 144کرفیو لاءکے تحت خاص علاقہ قرار دیدیا گیا ہے۔ یو کئی سویے گاﺅں کے ترجمان ہیں۔

یو کئی سویے”اگر یہ کاشتکار نہ جائیں تو وہ رات کو آتے اور سب کچھ تباہ کرجاتے ہیں، کرفیو کی دفعہ 144 کے تحت انتظامیہ کو کاشتکاروں کو مارنے کا بھی اختیار حاصل ہے”۔

کاشتکار ہٹن کو کو او خوفزدہ ہیں۔

ہٹن کو کو او”اب ہم فورسز سے خوفزدہ ہیں اور یہاں سے جانا چاہتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ہم کہاں جائیں گے؟”

کچھ لوگ قریبی قصبے میں منتقل ہوکر ریڑھی لگاچکے ہیں، جبکہ دیگر خصوصی علاقے سے باہر عارضی پناہ گاہیں تعمیر کررہے ہیں۔

کاشتکار ہٹن کو کو اومویشی اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں، مگر فارمز کے بغیر کاشتکاروں کے خاندانوں اور ان کے مویشیوں کو بقاءکا مسئلہ درپیش ہے۔ ان کے دھان کے کھیت اب تباہ ہوچکے ہیں، اور وہ بنجر زمین کو سرسبز کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔