(Cambodia discovers art lost in Pol Pot era) کمبوڈیا میں فن کی دوبارہ ترویج
کسی بھی مسلح تنازعے یا بدامنی میں آرٹ کا شعبہ سب سے پہلا ہدف بنتا ہے، ایسا ہی کچھ کمبوڈیا میں Pol Pot اور ان کے کمیونسٹ عہد میں ہوا۔تاہم اب بھی کمبوڈین عوام اپنے کھوئے ہوئے ورثے کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔
کمبوڈین دارالحکومت Phnom Penh کے فائن آرٹ کالج میں 8 سے 18 سال کی لڑکیاں روایتی Khmer art کی مشق کرنے میں مصروف ہیں۔ دہائیوں تک جاری رہنے والی خانہ جنگی اور بدامنی کے باعث کمبوڈیا کے روایتی فنون کافی حد تک ختم ہوکر رہ گئے تھے، مگر اب تعلیمی اداروں میں نوجوانوں کو ایک بار پھر ملکی ثقافت سے روشناس کرایا جارہا ہے۔ Moa Tip Mouy، Khmer dance سیکھانے کا کام کرتی ہیں، مگر ان کا کام آسان نہیں۔ Moa Tip Mouy اس حوالے سے اظہار خیال کررہی ہیں۔
female) Moa) “یہ بہت مشکل ہے کیونکہ ہمارے پاس سیکھانے کیلئے مواد ہی موجود نہیں۔ ہمیں طلبہ کیلئے کتابیں درکار ہیں تاکہ انہیں دکھایا جاسکے کہ رقص کس طرح ہوتا ہے۔ اس وقت ہمارے پاس رقص کی تعلیم دینے کیلئے بنیادی سہولیات ہی موجود نہیں، اس وقت ہم بس اپنے بزرگوں سے ملنے والی تعلیمات کو ہی آگے بچوں تک پہنچا رہے ہیں”۔
Khmer Rouge حکومت کا چار سالہ دور جو 1975ءسے 1979ءتک تھا، کمبوڈین تاریخ کیلئے تباہ کن ثابت ہوا۔ایک تخمینے کے مطابق اس دور میں ملک کے نوے فیصد فنکار، موسیقار، رقاص اور دانشور قتل ہوگئے تھے، کیونکہ وہ حکومت کے مرکزی اہداف میں شامل تھے، جس کے باعث کمبوڈین ثقافتی ورثے میں بہت بڑا خلاءپیدا ہوگیا۔ ماہر تعلیم Khamboly اس خلاءسے تعلیمی نظام کو پیش آنیوالی مشکلات کے بارے میں بتا رہے/ رہی ہیں۔
male) Khamboly) “کمبوڈیا کے 50 فیصد سے زائد نوجوان Khmer Rouge دور میں پیدا ہوئے، اس لئے میرا ماننا ہے کہ ثقافتی امور کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں سماجی اخلاقیات کی تعلیم بھی نوجوانوں کو دینا ضروری ہے، تاکہ وہ ثقافت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مستقبل میں اس طرح کے نقصانات کی روک تھام کا بھی کام کرسکیں”۔
Ros Veasna 1960ءکی دہائی کی گلوکارہ ہیں، انہیں ملک بھر میں مقبولیت حاصل تھی، مگر اپنے دیگر ساتھیوں کی طرح انہیں بھی Khmer Rouge دور میں قید کر دیا گیا تھا۔تاہم اب بھی Khmer موسیقی کو زندہ رکھنے کیلئے پرعزم ہیں۔
female) Ros Veasna) “موسیقی کے تحفظ اور اس کو مستحکم بنانے کیلئے میں لوگوں کو تربیت دینا چاہتی ہوں۔ میں اپنے خاندان کو پہلے ہی تربیت دے چکی ہوں، میری نظر میں روایات کو زندہ رکھنا بہت ضروری ہے”۔
تاہم پرانی نسل کے ساتھ ساتھ نوجوان کمبوڈین بھی اس ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کیلئے تیار ہیں۔
Krom Monster ایک کمبوڈین بیند ہیں، جو روایتی سازوں کو جدید موسیقی کے ساتھ ملا کر گانے تیار کرتا ہے۔ اس بینڈ نے نہ صرف Khmer موسیقی کو نئی زندگی دی ہے بلکہ اسے عالمی سطح پر بھی مقبول بنا دیا ہے۔ Sour Vanna اس بینڈ کے رکن ہیں۔
male) Sour Vanna) “پہلے ہم لوگ صرف روایتی تقاریب اور شادیوں میں ہی اپنے فن کا مطاہرہ کرتے تھے، Krom Monster کے قیام سے پہلے ہم نے کبھی اپنی روایتی موسیقی کو ری مکس کرنے کا تجربہ نہیں کیا تھا۔ یہ ہمارے لئے ایک نیا تجربہ ہے اور Khmer موسیقی کو ترقی دینے میں انتہائی اہم قدم ثابت ہوا ہے”۔
اس بینڈ سے متاثر ہوکر متعدد نوجوان فنکار اس میدان میں آگئے ہیں، جن میں Lim Sokchalina نمایاں ہیں۔
male) Lim Sokchalina) “میری زیادہ دلچسپی موجودہ حالات اور مستقبل کے ممکنہ منظرنامے پرہے، خصوصاً اس امر پر کہ گلوبلائزیشن کے کمبوڈیا پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ یعنی سماجی تبدیلیوں، ثقافت اور ماحولیات پر گلوبلائزیشن کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ تو میرا زیادہ تر کام انہی موضوعات کے گرد گھومتا ہے”۔