Calls To Abolish Philippines’ Local Youth Council – فلپائنی یوتھ کونسلیں

دیہی حکام کیلئے فلپائن میں رواں برس اکتوبر میں انتخابات ہورہے ہیں، مگر اس وقت یہ بحث جاری ہے کہ یہ یوتھ کونسل پیسوں کا ضیاع ہے اور اسے ختم کردیا جانا چاہئے، جبکہ حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ نوجوان ہی آگے بڑھ کر سیاسی میدان کے شہسوار ثابت ہوگے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

سترہ سالہ کرسٹیانہ ڈے شمالی فلپائنی صوبے ایسابیلاکی یوتھ کونسلز کی فیڈریشن کی سربراہ ہیں۔

کرسٹیانا”یہ گراس روٹ لیول پر نوجوانوں کو نمائندگی دینے کا واحد ادارہ ہے”۔

وہ مقامی یوتھ کونسل کا پرزور دفاع کرتے ہوئے مطالبہ کرتی ہیں کہ سنگونینینگ کاباتاک یاایس کے کو ختم کردیا جائے۔ ملک بھر میں 42 ہزار یوتھ کونسلیں نوجوانوں کے فلاحی پروگرامز پر عملدرآمد کی ذمہ داری سرانجام دیتی ہیں، ہر تین سال بعد اس کے انتخابات ہوتے ہیں اور رواں برس اکتوبر میں نئے الیکشن شیڈول ہیں۔

جیمز جیمینیزالیکشن کمیشن کے انفارمیشن و ایجوکیشن آفس کے ڈائریکٹر ہیں، انکا کہنا ہے کہ مقامی یوتھ کونسلوں سے متاثر ہوکر نوجوان سیاست میں آتے ہیں۔

جیمز”اس سے نوجوانوں کو طاقت کے ساتھ آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے، مگر یہ ہر کسی نئے نوجوان کو نہیں ملتا، بلکہ یہ بااثر خاندانوں کے بچوں تک ہی محدود ہوجاتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک اچھا پروگرام ہے مگر گزشتہ برسوں کے دوران اس سے صحیح فائدہ نہیں اٹھایا جاسکا، اب وقت ہے کہ اس کی خامیاں دور کرنے پر توجہ دی جائے”۔

ملک بھر میں یوتھ کونسلوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کانگریس نے کرنا ہے، جس میں ان کونسلوں کو حامی اور مخالف دونوں موجود ہیں۔ الیکشن کمیشن نے صدرایقو اینوپر زور دیا ہے کہ وہ قانون سازوں کو الیکشن اکتوبر میں کونسلوں کے انتخابات تک موخر کردیئے جائیں۔ فلپائن یونیورسٹی کے پروفیسربینجی مرزا ن بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ یوتھ کونسلوں کو تحلیل کردیا جانا چاہئے۔

بینجی”میرے خیال میں نوجوانوں کو زبانی وعدوں کی بجائے اپنے عزائم کو پورا کرنے پر زیادہ توجہ دینی چاہئے، انہیں صرف یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ سیاسی میدان میں کامیابی حاصل کریں، بلکہ ملکی مستقل کا سوچ کر اہم معاملات پر واضح موقف اختیار کرنا چاہئے”۔

تاہم یوتھ کونسل کی عہدیدارکرسٹیا نہ ڈے کا کہنا ہے کہ کھیلوں کے منصوبوں سے نوجوانوں کو منشیات اور جوئے وغیرہ سے دور رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ وہ اپنے صوبے میں مکمل کئے گئے منصوبوں پر فخر کرتی ہیں۔

کرسٹیانہ ڈے”ہم نے یوتھ کونسلنگ سیشنز اسکولوں میں کروائے، ہم نے تین سال کے دوران سو سے زائد سیمینار کروائے، ہم نے ڈے کیئر سینٹرز میں مفت ڈائپرز تقسیم کئے، ہم نے مفت وٹامنز دیں، اور اب رواں برس ہم ضلعی اسپتالوں میں مفت فرسٹ ایڈ کٹس تقسیم کررہے ہیں”۔

صدر مارکوس نے یوتھ کونسل 1975ءمیں اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق کے عالمی معاہدے کے ردعمل میں قائم کی تھی، اس قانون کے تحت ہر گاﺅں میں ایک یوتھ کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا، جس میں پندرہ سے سترہ سال کی عمر کے آٹھ نوجوانوں کو منتخب کیا جاسکتا تھا۔حکومتی قوانین کے مطابق گاﺅں کی مجموعی آمدنی کا دس فیصد حصہ خودکار طریقے سے یوتھ کونسل کے پاس چلا جاتا ہے، تاہم ان کونسلوں پر اکثر رقم کے ضیاع کے الزامات لگتے ہیں۔

کرسٹیانہ”ہم پر اکثر کرپشن یا سیاسی بادشاہت قائم کرنے کے الزامات لگائے جاتے ہیں، اگر ہمارے اعلیٰ عہدیداران اچھی مثالیں قائم کرتے تو ہمارے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہوتا۔ ہمیں بچوں کی طرح سمجھا جاتا ہے، اور دیکھا جائے تو ہر جگہ ہی اوپر سے نیچے نظام آتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے بڑوں کو دیکھ کر ہی کام کرتے ہیں”۔

کرسٹیا نہ ڈے کے والد اس صوبے کی دیہی کونسل کے نائب صدر اورکیویان شہر کے صدر ہیں، کرسٹیا نہ ڈے کا کہنا ہے کہ کسی سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے میں کوئی برائی نہیں۔

کرسٹیانہ”میں اب یہ میدان چھوڑ نہیں سکتی کیونکہ وہ مجھے اس پر مجبور کرتے ہیں، کیونکہ وہ ایسابلہ میں اپنی سیاسی اجارہ داری قائم کرنا چاہتے ہیں، اور یہ اس لئے بھی ہے کیونکہ میں لوگوں کی خدمت کرنا چاہتی ہوں، میں بچپن سے ہی اپنے خاندان کو یہ کام کرتے ہوئے دیکھ رہی ہوں، میں اچھا کام کررہی ہوں اور مجھے توقع ہے کہ میرے ملک کے دیگر حکام بھی اپنے اپنے علاقوں میں اچھا کام کریں گے”۔

تا ہم جیمز جیمینز ابھی بھی اس بات کے قائم ہیں کہ یوتھ کونسل کا دور اب ختم ہوچکا۔

جیمز”اب بنیادی ڈھانچہ تبدیل کرسکتے ہیں، مگر پھر بھی اختیار حاصل کرنے کیلئے آپ کا انحصار اقلیتی برادری پر ہی ہوتا ہے، آپ اس طرح اجارہ داری کے مسئلے کا خاتمہ نہیں کرسکتے، بس یہ تو اس پروگرام کا لباس تبدیل کرنے کے مترادف ہوگا”۔

دیگر سیاستدانوں نے تجویز دی ہے کہ یوتھ کونسلوں کے بجٹ کو مکمل طور پر ختم کردیا جائے اور انہیں رضاکارانہ بنیادوں پر چلایا جائے۔ اس تنقید کے جواب میں کرسٹیانہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ کونسل مثالی نہیں، مگر پھر بھی وہ اسکی بہتری کیلئے سخت محنت کررہی ہیں۔

کرسٹیا نہ”یہاں کوئی بھی ادارہ مثالی نہیں، ہم اعتراف کرتے ہیں کہ ہماری کارکردگی زیادہ اچھی نہیں اور ہمیں مسائل کا بھی سامنا ہے، مقامی یوتھ کونسل اصلاحاتی بل تیار کیا ہے، جس میں کئی معاملات کو اٹھایا گیا ہے، جیسے اس میں کہا گیا ہے کہ پندرہ سے سترہ سال کی عمر سیاسی میدان کیلئے بہت کم ہے، یوتھ کونسل کے سابق افسر اور موجودہ سینیٹر بیم اقو اینو جو کہ صدر اقینو کے بھانجے بھی ہیں، ہمارے گروپ کی حمایت کررہے ہیں”

میرلے پائیمینٹل نوجوانوں کو رضاکارانہ قیادت کی تربیت دینے کا کام کرتی ہیں، انکا کہنا ہے کہ یوتھ کونسلوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کی بجائے اس میں تبدیلی لائی جانی چاہئے۔

میرلے”میرا اب بھی ماننا ہے کہ نوجوان ہر قوم کی امید ہوتے ہیں، یہ مستقل کی قیادت ہوتے ہیں، ہمیں انکی تیاری پر بھرپور توجہ دینی چاہئے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک بہت پروگرام کے ذریعے انہیں نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی اور روحانی قیادت کیلئے بھی مضبوط کیا جائے۔