India Bids the Telegram Goodbye – بھارتی ٹیلیگرام سروس بند

بھارت میں لگ بھگ 160 سال بعد ٹیلیگرام سروس کو بند کردیا گیا، ماضی میں روزانہ پانچ ہزار ٹیلیگرام بھارت بھر میں بھیجے جاتے ہیں، مگر جدید ٹیکنالوجی نے اس کی اہمیت کو ختم کرکے رکھ دیا۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

نئی دہلی کے سینٹرل ٹیلیگراف آفس میں پچیس سالہ پرانیتا وین ٹیلیگرام بھیجنے کیلئے ایک قطار میں کھڑی ہیں۔ یہ پرانیتا ویر کا پہلا ٹیلیگرام ہے اور وہ اسے اپنے دادا کو بھیجنا چاہتی ہیں۔

ویر”یہ زندگی کا خاص تجربہ ہے کیونکہ میں دوبارہ اسے نہیں بھیج سکوں گی، میں یہ اپنے دادا دادی کو بھیج رہی ہوں، یہ انکی زندگی کا آخری ٹیلیگرام ہوگا کیونکہ اب یہ عہد ختم ہورہا ہے”۔

پرانیتا ویر کی طرح متعدد نوجوان بھارت بھر میں ٹیلیگرام کی سروس بند ہونے سے قبل اسے استعمال کرنے کیلئے وقت نکال رہے ہیں، حکومت نے اس سروس کو پندرہ جولائی سے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، شمیم اختر ٹیلیگراف سروس کے جنرل منیجر ہیں، انکا کہنا ہے کہ یہ اقتصادی طور پر فائدہ مند سروس نہیں رہی۔

شمیم اختر”آج لوگوں کے پاس متعدد آپشنز موجود ہیں، یعنی ٹیلیفون، موبائل، ای میل اور ایس ایم ایس وغیرہ، یہ تمام سروسز تیز رفتار، سستی اور زیادہ قابل اعتبار ہیں، ان تمام آپشنز کے باعث بہت کم لوگ ہی اب ٹیلیگرام سروس کو استعمال کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، اس سروس کو جاری رکھنے کیلئے اخراجات پورے کرنا مشکل ہوگیا ہے، ہمیں سالانہ 23 ملین ڈالرز کا خسارہ ہورہا ہے”۔

تار یا ٹیلیگرام سروس بھارت میں برطانوی سامراج کے عہد میں 19 ویں صدی میں متعارف کرائی گئی تھی، اور اسے بھارت میں برطانوی قبضے میں اہم کردار ماناجاتا ہے۔1857ءکی جنگ آزادی کا تعلق بھی ٹیلیگرام سے جوڑا جاتا ہے، تاہم یہ اس دور میں انتہائی تیزرفتار اور رابطے کا تصدیق شدہ ذریعہ ہونے کے باعث باعث معاشرتی زندگی میں بہت اہمیت رکھتا تھا۔

خطوں کی ترسیل میں تاخیر کے باعث یہ فوری پیغامات بھجوانے کا بہترین ذریعہ سمجھا جاتا تھا، اور 70 اور 80ءکی دہائی کی متعدد بالی وڈ فلموں میں ٹیلیگرام کی اہمیت کا کافی ذکر سامنے آتا رہا۔ نئی دہلی کے سینٹر فار ڈویلپنگ سوسائٹیز کے محقق روی کانت کا کہنا ہے کہ ٹیلیگرام سے اچھی خبریں کبھی کبھار ہی ملتی تھیں۔

روی کانت”ٹیلیگرام کی آمد ہی خوفزدہ کردیتی تھی، کیونکہ اکثر لوگ اسے کسی کی موت یا سانحے کی اطلاع دینے کیلئے استعمال کرتے تھے، یہی وجہ تھی جب ڈاکیا ٹیلیگرام لیکر آتا تو پورا خاندان خوف کے مارے اکھٹا ہوجاتا، بلکہ کئی بار تو پڑوسی بھی وہاں آجات، کیونکہ ہر شخص کو معلوم ہوتا تھا کہ کچھ برا ہوگیا ہے”۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس سروس کی بندش سے اس سے متعلقہ محکمے کے ملازمین کی ملازمتیں متاثر نہیں ہوں گی، مگر اس اعلان نے ٹیلیگراف محکمے کے متعدد ملازمین جیسے رگھوویر سنگھ کو پریشان کردیا، اور ان افراد نے اپنا آخری ٹیلیگرام ہی وزیراعظم کو ارسال کرکے ان پر سروس بند کرنے کیلئے زور دیا۔

رگھوویر سنگھ”یہ بات ٹھیک ہے کہ لوگ پیغامات بھیجنے کیلئے موبائل فونز اور ای میلز کو ترجیح دے رہے ہیں، مگر ہر شخص کو یہ سہولیات میسر نہیں، متعدد افراد کی ای میل آئی نہیں اور انہیں انٹرنیٹ تک رسائی بھی حاصل نہیں۔ اس بندش سے امیر طبقے کو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا مگر غریب افراد کیلئے اس سروس کو جاری رکھا جانا چاہئے”۔

تاہم تجزیہ کا وینیت کمار اس بات سے اختلاف کرتے ہیں، انکا کہان ہے کہ 163 سال پرانی ٹیلیگرام سروس کو اب پروقار طریقے سے خیرباد کہہ دینا چاہئے۔

وینیت”ہمیں ٹیلیگرام کو درست نظریئے سے دیکھنا چاہئے، یہ اس عہد سے تعلق رکھتا ہے جب صرف ریڈیو اور ٹیلیویژن ہی موجود تھے اور بہت کم افراد کو ٹیلیفون تک رسائی حاصل تھی، اس زمانے میں ٹیلیگرام کا کردار بہت اہم تھا، مگر آج میڈیا کے دور میں ٹیلیگرام جیسے ذرائع کے پاس بقاءکا کوئی امکان نہیں۔ جذبات تو مختلف ہیں مگر پرانی تیکنیک کو اب خیرباد کہہ دینا ہی بہتر ہوگا”۔