قصہ ہیر رانجھا کے خالق اور پنجابی ادب کے عظیم صوفی شاعر وارث شاہ کا 212 واں سالانہ عرس آج سے شروع ہو گیا ہے،عرس کی تین روزہ تقریبات شیخوپورہ کے علاقے جنڈیالہ شیر خان میں جاری رہیں گی۔وہ ضلع شیخوپورہ کے ایک گاو¿ں جنڈ یالہ شیرخاں میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام سیّدگل شیرشاہ تھا۔ وارث شاہ کو بچپن ہی سے پڑھنے لکھنے کا شوق تھا۔یہی وجہ ہے کہ وارث شاہ تعلیم حاصل کرنے کےلیے ق±ص±ورچلے گئے اور حافظ غلام مرتضیٰ کے شاگرد ہوئے۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ پاک پٹن میں حضرت بابا فریدگنج شکر کے مزار پر حاضر ہوئے اورایک مسجد میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ کچھ عرصے بعد وہ ایک گاو¿ں ملکہ ہانس میں منتقل ہوگئے۔ یہیں آپ نے ہیر رانجھا کی کہانی نظم صورت میں لکھی۔ بعض دوسرے شاعروں نے بھی اس کہانی کو نظم کیا ہے لیکن وارث شاہ کی “ ہیر رانجھا “ کو سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ یہ نظم عوام میں “ ہیر وارث شاہ “ کے نام سے مشہور ہے۔انھوں نے اس نظم کے اشعار جب لوگوں کوسنائے تو اسے بہت پسند کیا گیا۔
آج بھی وارث شاہ کی یہ کتاب بہت مشہور ہے۔ خود وارث شاہ اپنے اشعار کے بارے میں کہا کرتے تھے ۔
کہ
یہ پھول ہمیشہ خوشبو دیتے رہیں گے اور میرا باغ ہمیشہ پَھلتا پھولتا رہے گا۔
اس سے پہلے کے کئی ادوار میں موسیقی پر قدغن لگاےا گیا ،اور خاص کر صوفیائے کرام کو موسیقی اور ایسی شاعری سے بھی روکا گیا جس میں کسی سر کا سہارا لے کر خدائے واحد کی تعریف کی جائے ،بعض محقیقین وارث شاہ کو ان انسانوں کی فہرست میں شامل کرتے ہیں جنہوں دوبارہ صوفی موسیقی برصغیر میں پھیلانے کی کوشش کی ۔
وارث شاہ کے موضع پر کئی ڈرامے اور فلمیں بھی بنائی گئیں،جنہیں وارچ شاہ کے نام سے ہی منسوب کیا گیا۔
ہیر وارث شاہ کے علاوہ انھوں نے اور بھی بہت سی کتابیں لکھیں۔ وارث شاہ نے اپنی عمر کے آخری دن اپنے گاو¿ں جنڈیالہ شیر خاں میں گزارے۔ وہیں آپ کا مزار ہے، جہاں ہر سال ساون کے مہینے میں عرس ہوتا ہے۔ ہزاروں آدمی عرس میں شریک ہوتے ہیں اور فاتحہ پڑھتے ہیں۔