(Burmese Miners Protest) برمی کان کنوں کا احتجاج

برما میں بے روزگار افراد کی تعداد خطے میں سب سے زیادہ ہے، جبکہ کان کنی کے چھوٹے منصوبے ختم کئے جانے کے باعث مزید تیس ہزار سے زائد افراد کو اپنے روزگار سے محروم ہونا پڑا ہے۔

برمی صوبے Mandalay کے صدر مقام سے تیس میل دور ہزاروں کان کن جمع ہوکر احتجاج کررہے ہیں۔ ان کا یہ احتجاج حکومت کی جانب سے چھوٹی کمپنیوں کی بجائے بڑی کان کن کمپنیوں کو ترجیح دینے کے فیصلے کیخلاف ایک ہفتے سے جاری ہے۔ اس علاقے میں پانچ لاکھ سے زائد افراد مقیم ہیں اور ان کے روزگار کا انحصار سونے کی کان کنی پر ہے۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اٹھارکھے ہیں، جس میں لکھا ہے کہ اجارہ داری ختم کرو، ان افراد کے بچے بھی مظاہرے میں شامل ہیں، جن کے پاس پوسٹرز میں لکھا ہے کہ میرے والدین بے روزگار ہیں اس لئے ہم اسکول نہیں جاسکتے۔ ایک بچہ اپنے خیالات کا اظہار کررہا ہے۔

کڈ(male) “میں اسکول میں داخلہ نہیں لے سکتا کیونکہ میرے والدین کے پاس پیسے نہیں۔ میری خواہش ہے کہ میں بھی اسکول جاﺅں”۔

Wai Phyo نامی بچہ بھی اپنی مشکلات بتارہا ہے۔

 (male) Wai Phyo “میرے خاندان کو روزانہ کھانے کا مسئلہ درپیش ہے، کئی بار تو ہمیں بھوکا ہی سونا پڑتا ہے”۔

اس علاقے کی پہاڑیوں پر ماضی میں کوئی شخص رہائش پذیر نہیں تھا، مگر دس برس قبل صورتحال میں اس وقت تبدیلی آئی جب یہاں سے سونے کی کانیں دریافت ہوئیں۔اب اس علاقے کو گولڈن ولیج کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، یہاں چھوٹی کان کن کمپنیوں نے مقامی افراد کو ملازمتیں فراہم کیں، گزشتہ برس چند کاروباری افراد نے ملکر ایک بڑی کمپنی Myanmar National Prosperity Public Company Ltd کو تشکیل دیا۔ اس کمپنی نے چوبیس سو ایکڑ پر کان کنی کا سرکاری ٹینڈر حاصل کیا اور مقامی افراد کو آئندہ پانچ برس تک روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کیا، مگر رواں ماہ وزارت معدنیات نے مقامی سطح پر کام کرنے والی چھوٹی چھوٹی کمپنیوں کو کام کرنے سے روکنے کا فیصلہ کیا، تاکہ یہاں بین الاقوامی کمپنیوں کو متوجہ کیا جاسکے۔ Htay Aung Kyaw گزشتہ سات ماہ سے ایک کان میں کام کررہے ہیں وہ موجودہ صورتحال پر خوفزدہ ہیں۔

 (male) Htay Aung Kyaw “ہم اپنی جدوجہد اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک ہمیں کام جاری رکھنے کا حق نہ مل جائے۔ اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو ہم دیگر کمپنیوں کو بھی کام نہیں کرنے دیں گے، اس طرح ہم میں سے کوئی بھی کام نہیں کرسکے گا اور ہم سب کو مشکلات کا سامنا ہوگا۔ ہم اپنی آوازحکومت، پارلیمنٹ اور میڈیا تک پہنچائیں گے، اس طرح ہم عالمی برادری کو بھی اپنی مشکلات سے آگاہ کریں”۔

احتجاج کے دوران Myanmar National Prosperity Public Company Ltd نے کان کنوں سے مذاکرات کئے، جنرل منیجر Htun Aung Soe کا کہنا ہے کہ کمپنی اب مزید چھوٹے کان کنوں کے ساتھ کام نہیں کرسکتی، کیونکہ انکے پاس آلات اور نظام کی کمی ہے، جس کی وجہ سے پیداوار میں اضافہ نہیں ہوتا۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدامات حکومتی ہدایات پر کئے جارہے ہیں۔

 (male) Htun Aung Soe “ٹینڈر کے معاہدے کے مطابق کمپنی کو آئندہ پانچ برسوں کے دوران حکومت کو پانچ ٹن سے زائد سونا فراہم کرنا ہے، اگر ہم چھوٹے پیمانے پر کان کنی جاری رکھیں گے تو یہ ہدف پورا نہیں کیا جاسکے گا”۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ چھوٹے کان کن کو مستقبل میں بڑے پیمانے پر ہونے والی کان کنی میں کام کے مواقع دیئے جائیں گے، مگر مظاہرین کا کہنا ہے کہ اس بارے میں حکومت نے کوئی منصوبہ پیش نہیں کیا۔ ایک خاتون اپنے تحفظات کا اظہار کررہی ہیں۔

ویمن(female) “انھوں نے ہمیں کوئی نوٹس نہیں دیا، بس اچانک ہمیں کام سے روک دینے کا حکم دیا گیا۔انھوں نے ہم سے معاوضہ یا ملازمتیں فراہم کر نے کا وعدہ نہیں کیا، ہم تو صرف یہاں کام جاری رکھنے کا حق چاہتے ہیں”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *